برنی سینڈرز امریکی صدارتی امیدوار کی دوڑ سے دستبردار

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:اے ایف پی
—فائل/فوٹو:اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل برنی سینڈرز دستبردار ہوگئے ہیں جس کے بعد سابق نائب صدر جو بائیڈن مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔

غیر ملکی ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق برنی سینڈرز کو ڈیموکریٹس کے امیدوار کے لیے مضبوط سمجھا جاتا تھا لیکن دستبرداری کا مطلب ہے کہ وہ جو بائیڈن کو خود سے بہتر امیدوار سمجھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ورمونٹ سے منتخب سینیٹر ابتدائی طور پر 2016 میں بھی ڈیموکریٹس کے مضبوط امیدوار کے طور سامنے آئے تھے لیکن وہ بھرپور حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

مزید پڑھیں:امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدارتی مہم کیلئے مسلمان کو منتخب کرلیا

امریکا کے 78 سالہ سینیٹر نے جب حالیہ مہم شروع کی تھی تو سوال کیا جارہا تھا کہ کیا وہ گزشتہ مہم میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں سامنے لانے والی پارٹی کی اس انتظامیہ کی حمایت دوبارہ حاصل کرپائیں گے یا نہیں۔

خیال رہے کہ 2016 میں 22 ریاستوں سے امیدوار کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود انہیں صدارتی امیدوار کے لیے نامزد ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی تھی جس کی ایک وجہ معمر ترین امیدوار ہونا بھی تھا۔

تاہم انہوں نے ایسی زبردست مہم چلائی تھی جس کے باعث نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرلی تھی، وہ افریقی نژاد امریکی برادری سمیت مختلف برداریوں کو بھی اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

جو بائیڈن کا ردعمل

ڈیموکریٹ کے امیدوار جو بائیڈن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں برنی سینڈرز کے فیصلے کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدارتی امیدوار کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار

جو بائیڈن نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ سینڈرز کو ان کی مہم میں شامل ہونے کے لیے تیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے آپ دیکھا، سنا اور میں اس ملک کے لیے کیا کرنا ہے وہ سمجھتا ہوں'۔

سینڈرز کے فیصلے پر ردعمل میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں گے، آپ کو خوش آمدید کہا جائے گا کیونکہ آپ کی ضرورت ہے'۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار کی دوڑ ختم ہوگئی ہے جس طرح ڈیموکریٹس اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی چاہتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ برنی سینڈر کے حامیوں کو ری پبلکن پارٹی میں آنا چاہیے۔