شامی ایئرفورس نے 2017 میں کیمیائی بمباری کی، عالمی ادارے کی رپورٹ

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

شامی حکومت اور اتحادی ان الزامات کو مسترد کرتے  رہے ہیں—اے یاف پی
شامی حکومت اور اتحادی ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں—اے یاف پی

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے شام میں 2017 میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں شامی ایئر فورس کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 'شامی ایئر فورس کے پائلٹس نے سوخوئی ایس یو-22 فوجی طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے مارچ 2017 میں شام کے مغربی خطے حما کے ایک گاؤں میں زہریلی کلورین اور سیرین گیس پر مشتمل بم گرائے تھے'۔

خیال رہے کہ او پی سی ڈبلیو نے 2018 میں تفتیش کاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ کیمیائی بمباری میں کون ملوث تھا۔

یہ بھی پڑھیں:'شام میں 45 مرتبہ مبینہ کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے'

شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے اتحادی روس کے صدر ولادی میر پیوٹن مسلسل یہ بیانات دیتے آئے ہیں کہ ان کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے بلکہ باغیوں کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں اور وہ شامی فوج کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

او پی سی ڈبلیو کی تفتیشی ٹیم کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں سے 100 سے زائد افراد متاثر ہوئے اور یہ حملے 24، 25 اور 30 مارچ 2017 کو حما کے قصبے لطامنہ میں کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'شامی عرب ایئر فورس کی 22 ویں ڈویژن کی 50 ویں بریگیڈ کے ایس یو-22 فوجی جہاز 24 مارچ 2017 کو شعیرات ایئر بیس سے اڑا اور ایم 4000 فضائی بم جنوبی لطامنہ میں گرایا جس سے کم ازکم 16 افراد مارے گئے'۔

تفتیش کاروں نے مزید کہا ہے کہ 'شامی ایئر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر 25 مارچ کو ہما ایئربیس سے اڑا اور لطامنہ کے ہسپتال میں سلنڈر بم گرایا جو ہسپتال کی چھت پر گرا جس سے کلورین گیس خارج ہوئی اور کم ازکم 30 افراد متاثر ہوئے'۔

رپورٹ کے مطابق ''شامی عرب ایئر فورس کی 22 ویں ڈویژن کی 50 ویں بریگیڈ کے ایس یو-22 فوجی جہاز نے ہی 30 مارچ 2017 کو شعیرات ایئربیس سے اڑ کر ایم 4000 فضائی بم جنوبی لطامنہ کے علاقے پر گرایا جس کے نتیجے میں کم ازکم 60 افراد مارے گئے'۔

مزید پڑھیں:شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین: ٹرمپ

او پی سی ڈبلیو کے سربراہ فرنانڈو ایریاس کا تفتیشی ٹیم (آئی آئی ٹی) کے بارے میں کہنا تھا کہ 'آئی آئی ٹی عدالتی یا عدالتی کمیشن کا درجہ رکھنے والی اتھارٹی نہیں ہے جو جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی انفرادی ذمہ داری کا تعین کرے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئی آئی ٹی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے حتمی رپورٹ دینے کی بھی مجاز نہیں ہے'۔

فرنانڈو کا کہنا تھا کہ 'یہ اب کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی رکن ریاستوں، ایگزیکٹو کونسل اور عالمی برادری پر مجموعی طور پر منحصر ہے کہ وہ ضروری اور مناسب کارروائی کریں'۔

آئی آئی ٹی کے سربراہ سینٹیاگو اوناٹے لیبورڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ 'آئی آئی ٹی نے نتیجہ اخذ کیا ہے جس کو تسلیم کرنے کے لیے کافی پہلو ہیں جس میں 24 اور 30 مارچ کو لطامنہ میں سیرین کو بطور کیمیائی ہتھیار استعمال کیا گیا، اسی طرح 25 مارچ کو کلورین کو بھی استعمال کیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کے ذمہ دار شامی عرب ایئر فورس کے عہدیدار تھے'۔

یہ بھی پڑھیں:کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال،شامی فوجی افسران بلیک لسٹ

سینٹیاگو کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کے اسٹریٹجک حملے صرف سیرین عرب ایئرفورس ملٹری کمانڈ کے اعلیٰ سطح کے ذمہ داروں کی جانب سے جاری احکامات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر حکام کی جانب سے ذمہ داروں کا تعین کیا بھی جاتا تو آئی آئی ٹی ذمہ داروں کی شناخت کے حوالے سے کوئی اور وضاحت کرنے سے قاصر ہے'۔

او پی سی ڈبلیو نے 2017 میں بھی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

ادارے کے اس وقت کے سربراہ احمت اوزومسو نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ سال 2016 کے دوسرے حصے میں 30 واقعات اور رواں سال کے آغاز سے اب تک 15 ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 45 ہے۔

ان واقعات میں رواں سال 4 اپریل میں شام کے شمال مغربی حصے میں واقع باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں جنگی جہازوں کے ذریعے کیے گئے مبینہ مہلک گیس کا حملہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں 31 بچوں سمیت 88 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

او پی سی ڈبلیو کا کہنا تھا کہ تمام الزامات ہمارے ماہرین کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو روزانہ کی بنیادوں پر ہمارے آپریشن سینٹر سے مانیٹر ہو رہے ہیں۔