بی بی سی ریڈیو سے پہلی مرتبہ اذان نشر

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس کے سبب برطانیہ بھر کی تمام عبادت گاہیں بند ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
کورونا وائرس کے سبب برطانیہ بھر کی تمام عبادت گاہیں بند ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث برطانیہ کی تمام مساجد بند ہونے کے وجہ سے بی بی سی ریڈیو سے پہلی مرتبہ اذان نشر کی گئی۔

دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے جہاں اب تک 9ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 74ہزار سےزائد متاثر ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلا اشتعال گولہ باری، پاک فوج کا بھرپور جواب

برطانیہ میں ہر جمعہ کو صبح 5 بجکر 50منٹ پر بی بی سی کے 14مقامی ریڈیو اسٹیشن پر اکثر علاقوں میں عوام خطبات اور نماز سے قبل اذان سن سکیں گے۔

اس کی بدولت مسلم اکثریتی آبادی کے حامل علاقوں لیڈز، شیفلڈ، مانچسٹر، ناٹنگھم، لیسٹر، ڈربی، اسٹوک، کوونٹری اور ورکشائر کے ساتھ ساتھ تین کاؤنٹی لندن، میری سائیڈ اور برک شائر کے عوام بھی مستفید ہو سکیں گے۔

بی بی سی لوکل ریڈیو کے سربراہ کرس برنز نے کہا کہ لوکل ریڈیو کا مقصد عوام سے رابطہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ ہفتہ وار اذان آئسولیشن کے دنوں میں مسلمانوں کو ایک ہونے کا احساس فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: 24 گھنٹوں میں 2ہزار اموات، اجتماعی قبروں میں تدفین شروع

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے برطانیہ میں 23مارچ کے بعد سے تمام مذاہب کی عبادت گاہیں بند ہیں اور بی بی سی پہلے سے ہی ہر اتوار کو 39 اسٹیشنز سے عیسائیوں کی عبادات نشر کر رہا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو یہ اذان پہلی مرتبہ نشر کی گئی تھی اور جب تک تمام مساجد نہیں کھل جاتیں اس وقت تک اذان نشر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ہندو اور یہودی برادری کی عبادات بھی مستقل بنیادوں پر نشر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: کورونا سے جاں بحق صحافیوں کے اہلخانہ کو 10لاکھ روپے دینے کا اعلان

گزشتہ اتوار کو ٹی وی پر نشریات میں ملکہ برطانیہ الزبتھ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مدد پر تمام مذاہب کے افراد کی کاوشوں کو سراہا تھا۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور اب تک دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اب تک 17 لاکھ سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔