عدالت نے ملا منصور کے اثاثوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی

اپ ڈیٹ اپريل 12 2020

ای میل

انسداد دہشت گردی عدالت نے بلڈر، سوسائٹی کے نمائندے، جمشید ٹاؤن کے سب رجسٹرار کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا - ڈان:فائل فوٹو
انسداد دہشت گردی عدالت نے بلڈر، سوسائٹی کے نمائندے، جمشید ٹاؤن کے سب رجسٹرار کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا - ڈان:فائل فوٹو

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے قبل کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جعلی شناخت سے خریدی گئی جائیدادوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے ایجنسی کو جولائی 2019 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے درج کیس میں مفرور قرار دیے گئے طالبان رہنما کے دو ساتھیوں کے حوالے سے بھی رپورٹ طلب کی۔

ایف آئی اے نے ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد، اختر محمد اور عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے دفعہ 11 ایچ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

عدالت رواں سال جنوری سے تحقیقاتی افسر کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے رہی ہے۔

ہفتے کے روز کیس پر سماعت کرتے انسداد دہشت گردی عدالت 2 کے جج نے نشاندہی کی کہ چارج شیٹ کے مطابق دونوں نامز ملزمان عمار اور اختر اب بھی مفرور ہیں جبکہ ملا منصور کو پاک ایران سرحد پر 21 مئی 2016 کو ایک ڈرون حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملامنصورشناختی کارڈمعاملہ:نادرا کا’اہم کردار‘گرفتار

ایف آئی اے کے تحقیقاتی افسر رحمت اللہ ڈومکی نے ایک پراپرٹی (کراچی میں شہید ملت روٖڈ پر منیار کا آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر ملا منصور کی ملکیت) کے حوالے سے اسٹامپ پیپر پر تحریری رپورٹ جمع کرائی تھی اور عدالت سے اسے کیس میں شامل کرنے کی استدعا کی تھی۔

تاہم جج نے نشاندہی کی کہ اس معاملے پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کا پراپرٹی کے حوالے سے مؤقف سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے تحقیقاتی افسر نے اپنے بیان سے دستبردار ہوتے ہوئے یہ رپورٹ آئندہ سماعت پر دوبارہ جمع کرانے کا کہا۔

جج نے تحقیقاتی افسر کو بلڈر، سوسائٹی کے نمائندے، جمشید ٹاؤن کے سب رجسٹرار سمیت زمین کے متعلقہ ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا۔

ایف آئی اے کے قانونی مشیر خالد حسین اور خصوصی استغاثہ عشرت زاہد علوہ سماعت میں غیر حاضر تھے۔

جج نے نشاندہی کی کہ پشاور اور کوئٹہ کے کمشنروں کی جانب سے ملزمان کی جائیدادوں کے حوالے سے کوئی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔

تحقیقاتی افسر کو ہدایت کی گئی کہ پشاور اور کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنرز کے جوابات آئندہ سماعت پر جمع کرائیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت 20 اپریل تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی شناخت پر 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔

مزید پڑھیں: دوحہ میں امریکی جنرل کی طالبان قیادت سے ملاقات

25 جولائی 2019 کو جمع کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ملا عمر کے بعد طالبان سربراہ بننے والے ملا منصور پاک ایران سرحد پر 21 مئی 2016 کو ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

انکوائری کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ملزم ملا اختر منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جائیدادیں خریدی تھیں۔

تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا کہ ملا منصور نے کراچی میں اسکیم 33 کے علاقے گلزار ہجری میں قائم اپارٹمنٹ بسم اللہ ٹیرس میں 14 لاکھ کا فلیٹ خریدا تھا۔

چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ایک اور فلیٹ (بی-6-3) عمار ٹاور، شہید ملت روڈ، کراچی میں 19 جولائی 2011 کو 36 لاکھ 20 ہزار کا فلیٹ، شہید ملت روٖ پر گلستان انیس میرج ہال کے پاس سمایا ریزیڈنسی میں فلیٹ نمبر 801، ایک کروڑ 73 لاکھ روپے کا 15 ستمبر 2014 کو خریدا تھا۔

مزید کہا گیا کہ 441.67 مربع گز کا پلاٹ (بی 65، سیکٹر ڈبلیو ، سب سیکٹر III ، گلشن معمار ، کے ڈی اے سکیم 45، کراچی) ملا منصور نے یکم دسمبر 2009 کو 54 لاکھ روپے کا خریدا تھا اور یہ پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ ’بیچنے والے ارشاد مظہر اور خریدار گل محمد کے مابین کی گئی فروخت/خریداری کے معاہدے کے مطابق، پلاٹ کی قیمت 54 لاکھ روپے کی اصل قیمت کے بجائے 4 لاکھ 86 ہزار 500 روپے دکھائی گئی‘۔

اس میں ایک مکان (A-56 ، سیکٹر زیڈ ، سب سیکٹر-V ، گلشنِ معمار ، کے ڈی اے سکیم 45 ، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 4.7 ملین میں خریدا تھا۔ پراپرٹی گل محمد کے نام پر بھی رجسٹرڈ تھی، جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر ملکیت منتقل کردی۔

اس میں ایک مکان (اے-56، سیکٹر زیڈ، سب سیکٹر-5، گلشنِ معمار، کے ڈی اے اسکیم 45، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 47 لاکھ میں خریدا تھا۔

پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر منتقل کردی گئی تھی۔