غذائی اجناس کی سپلائی چین پر لاک ڈاؤن کے منفی اثرات

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2020

ای میل

حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنے والوں کو یہ خوب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری بندش کے پاکستان سمیت دنیا بھر کے معاشی اور معاشرتی منظرنامے پر کس نوعیت کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اگرچہ ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ بحران اس لیے پیدا ہوا کہ سماجی دُوری کو ممکن بنانے کی خاطر کاروباری سرگرمیوں کو بریک لگانا ناگزیر ہوگیا تھا، مگر اس عمل سے عام استعمال کی چیزوں کی عدم فراہمی کے ساتھ بنیادی غذائی اجناس کی قلت کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے غذائی اجناس کی کمرشل کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ نقل و حمل اور افرادی قوت کی قلت سے ترسیلِ اجناس کی زنجیر یا Food Supply Chain متاثر ہورہی ہے۔ کچھ اجناس کی قیمتوں میں ایک دم سے کمی جبکہ بعض کے داموں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

آئیے اس تحریر میں یہ جائزہ لیتے ہیں کہ قیمتوں میں ہونے والے اضافے اور کمی کے فرق کے پیچھے کون سی وجوہات کارفرما ہیں اور اس سے جڑے مسائل حل کرنے کے لیے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟

پھل اور سبزیاں

سردیوں کے وسط میں نومبر اور دسمبر کے دوران سندھ کے مختلف علاقوں میں موسمی اعتبار سے سبزیوں کی کاشت کی جاتی ہے۔ چونکہ سندھ میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سردی کی شدت کم ہوتی ہے اس لیے یہاں سبزی پہلے کاشت اور تیار ہوتی ہے۔ سندھ میں لاک ڈاؤن 17مارچ کو نافذالعمل ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب سندھ میں کاشت کی جانے والی سبزیوں کی فروخت شروع ہونا تھی مگر اچانک لاک ڈاؤن نے سبزیوں کی فصل پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

سندھ آباد گار چیمبر کے محمود نواز شاہ کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل سبزیوں کا سیزن ہوتا ہے۔ پورے ملک سمیت ایران اور افغانستان میں سندھ کی کاشت کردہ سبزیاں فروخت ہوتی ہیں۔

محمود نواز کہتے ہیں کہ یہاں کتنے رقبے پر سبزی کاشت کی جاتی ہے اس حوالے سے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں مگر گزشتہ سال ایشائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں ایک کروڑ 50 لاکھ ٹن پھل اور سبزیوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کولڈ اسٹوریج میں گنجائش صرف 9 لاکھ ٹن ہے، لہٰذا جیسے ہی پھل اور سبزیاں تیار ہوتی ہیں انہیں فوری طور پر مارکیٹ بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر چند روز بھی تاخیر ہوجائے تو ان کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں ایک کروڑ 50 لاکھ ٹن پھل اور سبزیوں کی پیداوار ہوتی ہے—شہاب نفیس
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں ایک کروڑ 50 لاکھ ٹن پھل اور سبزیوں کی پیداوار ہوتی ہے—شہاب نفیس

محمود نواز شاہ مزید بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبزیوں کی فروخت مشکل ہوگئی ہے کیونکہ اچانک نقل و حمل کا عمل رُک گیا۔ لاک ڈاؤن کے ابتدائی چند روز تک تو ٹرانسپورٹ دستیاب ہی نہ تھی اور اس وقت صرف 50 فیصد ٹرانسپورٹ ہی دستیاب ہے، اس وجہ سے بڑی مقدار میں تیار سبزی کھیت میں ہی پک کر خراب ہوگئی اور صرف سندھ کے کاشتکاروں کو 4 سے 5 ارب روپے تک نقصان ہوچکا ہے۔

دوسری طرف چونکہ شادی ہال، ہوٹلوں اور ریسٹورینٹ بھی بند ہیں اس لیے کراچی شہر میں کمرشل طلب میں بھی کمی ہوئی ہے۔ تیسری اہم وجہ ایران اور افغان سرحدوں کی بندش ہے۔

محمود نواز شاہ نے بتایا کہ سبزی کی فصل کی تیاری پر ایک زمیندار 50 سے 60 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے خرچ کرتا ہے، جس میں بیجوں کی خریداری، ٹریکٹر سے زمین کی ہمواری، کھاد اور کیڑے مار ادویات کے اخراجات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فصل کی کٹائی، پیکنگ، مال برداری اور منڈیوں تک پہنچانے پر بھی بھاری رقم خرچ ہوتی ہے اور ان کاموں کے سبب بہت سے لوگوں کے لیے آمدن کے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد پیداوار سے ہونے والی آمدنی زمیندار اور ہاری کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ بحران کے باعث طلب میں ہونے والی کمی اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث سبزیوں کے دام گِرچکے ہیں۔

اس وقت منڈی میں سبزی جس قیمت پر مل رہی ہے وہ فروری اور مارچ کے پہلے ہفتے کے مقابلے میں 40 سے 60 فیصد کم ہے۔ کراچی کی سبزی منڈی میں 10 کلو تورئی 300 روپے، 50 کلو گوبی 200 روپے اور لوکی 400 میں فروخت ہورہی ہے۔ بھنڈی جو چند ہفتے پہلے تک 300 روپے کلو بِک رہی تھی وہ اب 50 روپے سے بھی کم قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔

تازہ دودھ

لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی کراچی میں دودھ کی طلب اور پیداوار میں ایک بڑا فرق پیدا ہوگیا۔ کراچی اور حیدر آباد میں دودھ کی کھپت دونوں شہروں کے درمیان قائم کیٹل مارکیٹ یا بھینس کالونی سے ہوتی ہے۔

ویسے اس کیٹل مارکیٹ میں کتنے جانور ہیں اور کتنا دودھ پیدا ہوتا ہے اس کے حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن ڈیری کیٹل فارمر ایسوسی ایشن کے سربراہ شاکر عمر گجر کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق کیٹل مارکیٹ میں 7 لاکھ کے قریب دودھ دینے والے جانور موجود ہیں جبکہ فارمروں کی تعداد 4 ہزار ہے اور یہاں موجود فارمر مالکان 10 بھینسوں سے لے کر 14 ہزار بھینسوں کی ملکیت رکھتے ہیں۔

عام دنوں میں کیٹل مارکیٹ میں دودھ کی مجموعی پیداوار 50 لاکھ لیٹر جبکہ دونوں شہروں میں دودھ کی کھپت 45 سے 47 لاکھ لیٹر کے درمیان رہتی ہے۔

مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہوٹل، شادی ہال، مٹھائی کی دکانوں کی بندش اور دودھ کی کمرشل کھپت میں زبردست کمی آنے کی وجہ سے دودھ کی کھپت 35 لاکھ لیٹر تک گرچکی ہے۔ یعنی پیداوار کے مقابلے میں 15 لاکھ لیٹر کم دودھ طلب کیا جا رہا ہے۔

دودھ کی پیداوار لازمی عمل ہے، اس میں کسی ایک دن کا بھی ناغہ نہیں کیا جاسکتا ہے اسی لیے دودھ کو ضائع کیے جانے کی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔ دودھ کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کئی دکانداروں اور فارمروں نے اسے 50 روپے لیٹر تک فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔

اس وقت پیداوار کی نسبت 15 لاکھ لیٹر کم دودھ طلب کیا جا رہا ہے
اس وقت پیداوار کی نسبت 15 لاکھ لیٹر کم دودھ طلب کیا جا رہا ہے

شاکر عمر گجر کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں فارم پر دودھ کی فی لیٹر قیمت 93 روپے 60 پیسے مقرر کی گئی ہے جو ریٹیل میں 94 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ مگر فارمروں اور ریٹیلروں نے اپنے طور پر دودھ کی قیمت 110 لیٹر روپے کردی ہے۔

شاکر عمر کا کہنا ہے کہ بھینس کالونی میں خشک ہوجانے والے جانوروں کو قصائی کے حوالے کردیا جاتا ہے، ایسے جانوروں کو کٹو پکارا جاتا ہے۔ یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رہتا ہے، مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے دودھ کی طلب میں کمی کے ساتھ ڈیری فارمر نے اپنے ان جانوروں کو بھی کٹو کرنا شروع کردیا ہے جو دیگر کی نسبت کم دودھ دیتے ہیں اور جنہیں چند ماہ بعد کٹو ہونا تھا اور ساتھ ہی ساتھ فارموں میں نئے جانوروں کو شامل کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔

شاکر عمر بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد ایک دو مہینے دودھ کی طلب اور رسد میں فرق رہے گا۔ جس کو بتدریج نئے دودھ دینے والے جانوروں کی خریداری سے پورا کیا جائے گا۔ یہ عمل ممکنہ طور پر ایک سے دو ماہ میں معمول پر آجائے گا۔

خشک اجناس

پاکستان میں خشک اجناس کی سب سے بڑی منڈی جوڑیا بازار ہے اور اس منڈی میں ہی دالوں کی قیمت مقرر ہوتی ہے۔ کراچی ایوانِ تجارت و صنعت کے سابق صدر ہارون اگر کا کہنا ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود دالوں کا بہت بڑا امپورٹر ہے۔

پاکستان میں دالوں کی سالانہ کھپت 15 لاکھ ٹن ہے، جس میں سے مقامی پیداوار 4 لاکھ ٹن جبکہ 10 سے 11 لاکھ ٹن دالیں درآمد کی جاتی ہیں، جس کی کُل لاگت سالانہ 30 کروڑ ڈالر کے قریب قریب ہے۔ یہ دالیں کینیڈا، امریکا، میانمار اور آسٹریلیا سے بڑے پیمانے پر درآمد کی جاتی ہیں۔

ہارون اگر کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں دالوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں ہمارے روپے کی قدر مزید گرگئی اور یوں ہمیں اس کا فائدہ شاید نہیں ہوسکے۔

اس حوالے سے ہول سیل ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے فرید قریشی کہتے ہیں کہ دکان کا کرایہ، یوٹیلیٹی بل، نقل و حمل، لیبر اور دیگر اخراجات کی وجہ سے ہول سیل اور ریٹیل کی قیمت میں فرق ہے۔

ہارون اگر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث کنٹینروں کی نقل و حرکت اور انہیں گودام تک لے جانے کے علاوہ سامان اتارنے کے لیے مزدوروں کی کمی کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے اجناس کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ جبکہ تاجروں نے رمضان المبارک کی طلب کی وجہ سے پہلے ہی مناسب مقدار میں اجناس کو درآمد کرلیا تھا اور یہ اسٹاک کثیر مقدار میں موجود ہیں۔

سیریل ایسوسی ایشن کے سربراہ مزمل چیپل کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دال ملوں میں محنت کشوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ دالوں کی پیکنگ کے لیے بیگز کی دستیابی بھی کم ہوگئی ہے کیونکہ بیگ بنانے کی کمپنی کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مزمل چیپل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ کئی ممالک اپنے خشک اجناس کے اسٹاک بڑھا رہے ہیں۔ کمبوڈیا اور ویتنام نے ایری چاول کی برآمدات کو محدود کردیا ہے جس کی وجہ سے 5 فیصد بروکن ایری چاول کی فی من قیمت 375 سے بڑھ 450 ڈالر فی من ہوگئی ہے۔ اس کا فائدہ ان ملرز کو ہوا ہے جن کے پاس ایری کا اسٹاک موجود تھا۔ اس کے علاوہ افریقی ملکوں نے بھی دالوں اور چاول کے ذخائر میں اضافہ شروع کردیا ہے۔

مزمل کے مطابق آٹے اور گندم کی قیمت میں کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی اضافہ ہوگیا تھا۔ اس وقت گندم کی فصل تیار ہے اور زرعی لاک ڈاؤن کے خاتمے کے حکومتی اعلان سے گندم کی کٹائی اور ترسیل میں حائل رکاوٹیں دُور ہوگئی ہیں جبکہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں نے 82 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ارادہ کیا ہے۔ اگر اس مقدار میں خریداری ہوجاتی ہے تو پورے ملک کی ضرورت کی گندم کا 33 فیصد حصہ ریاست کے پاس جمع ہوجائے گا. پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے گندم کی ایران اور افغانستان منتقلی بھی کم ہوگی جس سے مستقبل میں گندم کی قیمت میں اضافے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

مرغی کا گوشت اور انڈے

ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پولٹری کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر چوزوں کو تلف کرنے یا انہیں ویرانے میں پھینک دینے کی ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

دراصل اس وقت پولٹری کی صنعت کو طلب اور رسد میں فرق کا سامنا ہے۔ مرغی کی طلب میں کمی اور قیمت گرنے کی اصل وجہ شادی ہال، ریسٹورینٹ، فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اور ہوٹلوں کی بندش ہے۔ وہ مرغی جو بڑے پیمانے پر کمرشل استعمال میں لائی جاتی تھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی خریداری رُک گئی ہے۔

چند ہفتے قبل تک فی کلو برائلر مرغی 250 سے 300 روپے میں دستیاب تھی مگر اب اس کی قیمت کم ہوکر 180 سے 200 روپے ہوگئی ہے۔

کے اینڈ این چکن کے خلیل ستار 1964ء سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مرغی سبزی سے بھی سستی ہوگئی ہے۔ موجود لاک ڈاؤن سے پولٹری کی صنعت تباہ ہورہی ہے اور اس وقت فارم پر مرغی کی فی کلو گرام قیمت 85 سے 95 روپے کے درمیان ہے، جبکہ ایک کلو گرام مرغی کے گوشت پر 145 روپے تک خرچ ہوتے ہیں جس میں فیڈ، محنت کشوں کی تنخواہیں اور یوٹلیٹی اخراجات شامل ہیں۔

ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پولیٹری کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔—شٹراسٹاک
ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پولیٹری کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔—شٹراسٹاک

خلیل ستار کا کہنا ہے کہ برائلر مرغی کی طلب میں کمی سے اس کی سپلائی چین بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اس وقت پولٹری فارموں میں نیا اسٹاک نہیں ڈالا جا رہا ہے جس کی وجہ سے چوزے بکنا بند ہوگئے ہیں۔ بریڈ فلوک (یعنی وہ مرغیاں جن سے فرٹائل انڈے حاصل ہوتے ہیں) سے انڈے حاصل کرنے کے بعد چوزے نکالنے میں 40 روپے خرچ ہوتے ہیں مگر طلب نہ ہونے کی بنا پر چوزہ 3 روپے میں فروخت ہورہا ہے اور اس قیمت پر بھی کوئی خریدار نہیں ہے۔

چوزے کی فروخت رکنے کی وجہ سے بریڈ فلوک پر بھی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اپنی پیدائش سے انڈے دینے تک ایک بریڈر پر 4 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں اور یہ 52 ہفتوں تک بریڈنگ کرتا ہے۔ مگر طلب نہ ہونے کی وجہ سے بڑیڈرز 45 ہفتوں میں ہی ذبح ہونے لگے ہیں۔

خلیل ستار کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پولٹری صنعت نے بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ چونکہ نقصان کے باعث فارمر اپنے فارموں میں نیا اسٹاک شامل کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے رمضان المبارک میں مرغی کی قلت پیدا ہوگی اور اس کی قیمت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

کیا دیگر صنعتوں کی طرح پولٹری کی صنعت کو بھی حکومت سے کوئی رعایت درکار ہے؟ اس سوال پر خلیل ستار کا کہنا تھا کہ پولٹری کی صنعت طلب و رسد پر چلتی ہے اور اسی پر اس کو چلنے دیا جائے۔ اس کو حکومتی مراعات پر پلنے والی صنعت نہ بنایا جائے۔ جب طلب و رسد کا مسئلہ حل ہوگا تو یہ صنعت اپنے نقصان کو خود ہی ری کور کر لے گی۔

گائے، بھینس اور بکرے گا گوشت

لاک ڈاؤن میں یوں تو گوشت کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت ہے مگر اس کی سپلائی چین بُری طرح متاثر ہوچکی ہے.

میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ندیم قریشی کا کہنا ہے کہ اس وقت جانور کی منڈی نہیں لگ رہی ہے اس لیے جانوروں کے حصول میں مسائل کا سامنا ہے۔

کراچی میں گوشت کے لیے جانور سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں لگنے والی ہفتہ وار منڈیوں سے آتا ہے۔ ان منڈیوں میں کسان دیہات سے اپنے جانور لاکر فروخت کرتے ہیں پھر بیوپاری بڑی تعداد میں یہ جانور خرید کر کراچی لاتے ہیں۔ ان منڈیوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہر میں گوشت کے لیے جانور دستیاب نہیں ہیں۔

اس وقت جانور کی منڈی نہیں لگ رہی ہے اور جانور نہیں مل پارہا ہے۔
اس وقت جانور کی منڈی نہیں لگ رہی ہے اور جانور نہیں مل پارہا ہے۔

ندیم قریشی کے مطابق کراچی شہر میں یومیہ 2 ہزار بھینس، 5 ہزار بھچیا اور 8 سے 9 ہزار بکروں کو ذبح کیا جاتا ہے، مگر چونکہ بیرونِ شہر سے جانور کو کراچی لانے کی سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے اس وجہ سے شہر میں طلب کا صرف 20 فیصد گوشت ہی دستیاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال شہر میں گوشت کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر یہی صورتحال رہی تو گوشت کی قلت پیدا ہوسکتی ہے اور ویسے بھی شہر میں بھینس، بچھیا اور بکرے کی قیمت کا تعین سرکاری سطح پر کرنے کا تصور موجود نہیں ہے۔ بھینس کا گوشت 500 سے 550 جبکہ بچھیا کا گوشت 600 سے 700 روپے اور بکرے کا گوشت 950 سے لے کر 1100 روپے فی کلو کی قیمت پر دستیاب ہوتا ہے۔

کورونا بحران کی وجہ سے جہاں دیگر شعبہ جات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وہیں فوڈ سپلائی چین کیسے متاثر ہوئی ہے اس کا احوال آپ نے اس تحریر میں جان لیا ہے۔

چونکہ یہ شعبہ زیادہ تر غیر دستاویزی اور انفارمل اکانومی کا حصہ ہے لہٰذا ریاست کو کورونا وائرس کے بعد معیشت کی بحالی سے متعلق پالیسی سازی میں اس شعبے کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا اور خوراک کے شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دُور کرنا ہوگا تاکہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد فوری غذائی اجناس کی قلت سے بچا جاسکے اور قیمتوں کے استحکام کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔