گوادر بندرگاہ پر افغانستان کیلئے بھاری مقدار میں اشیائے خوراک درآمد کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2020

ای میل

چین سے آنے والے بحری جہاز بھی گوادر پر آف لوڈ کیے جائیں گے — فائل فوٹو: اے پی
چین سے آنے والے بحری جہاز بھی گوادر پر آف لوڈ کیے جائیں گے — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پہنچانے کے لیے گوادر پورٹ سے اشیائے خوراک کی بڑی مقدار درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ کابل کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے ساتھ غذائی اشیا کی فراہمی جاری رکھنے میں مدد مل سکے۔

کورونا کی وبا پھوٹنے کے بعد لگائے گئے لاک ڈاؤن اور پاکستان کی مغربی سرحد بند ہونے سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 10 ہزار سے زائد کنٹینرز یا تو کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں یا سرحد تک پہنچنے کے راستے میں ہیں یا پھر چمن اور طور خم بارڈر پر کلیئرنس کے منتظر ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خصوصی اجازت کے تحت حکومت نے افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے 2010 کے تحت گوادر بندرگاہ پر افغان کارگو کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی جس سے چینی، گندم اور کھاد جلد کلیئر اور روانہ کر کے افغانستان پہنچانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افغانستان باہمی روابط کے فریم ورک کو فروغ دینے پر متفق

کنٹینرز کے بجائے سامان کو سربمہر ٹرکوں میں افغانستان پہنچایا جائے گا، مزید یہ کہ اس سے مشرق وسطیٰ سے آنے والے کارگو کو گوادر کا راستہ چھوٹا پڑے گا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزارت تجارت نے افغانستان کے لیے 16 ہزار ٹن ڈی اے پی درآمد کرنے اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے 5 لاکھ ٹن گندم کے کارگو کو اجازت دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ سامان آئندہ ماہ پہنچ جائے گا اور چین سے آنے والے بحری جہاز بھی گوادر پر آف لوڈ کیے جائیں گے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ ’وزارت تجارت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے گوادر کی بندرگاہ کو فعال کردیا ہے‘، اس سے تاجر برادری اور شپنگ کی صنعت کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: پاک-افغان سرحد پر کارگو ٹرکوں کی آمدورفت بحال کرنے کا فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ذریعے گوادر اور شاہراہوں کے ساتھ ساتھ کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع کی راہ ہموار ہوگی۔

مشیر تجارت نے کہا کہ اس اقدام سے گوادر بندرگاہ پر آپریشن فعال ہوگا اور پاکستان کی دوسری بڑی بندرگاہ کے لیے ضروری ماحول قائم ہوگا۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا حکومت گوادر پورٹ پر نارمل ٹرانزٹ کی اجازت دے گی یا نہیں۔

اس ضمن میں ایک کسٹم عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ گوادر پر نارمل کارگو کی اجازت دی جائے گی یا نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وفاقی بورڈ آف ریونیو سے گوادر پورٹ پر ٹرانزٹ دفتر قائم کرنے کی درخواست کی ہے تاہم اب تک بندرگارہ پر کوئی دفتر قائم نہیں کیا گیا۔

ٹرانزٹ ٹریڈ

دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹرید کے 6 ہزار کنٹینرز کراچی کی بندرگاہ پر موجود ہیں جبکہ 2 ہزار کنٹینر راستے میں پھنسے ہوئے ہیں اس کے علاوہ طورخم بارڈر پر 4 سو کنٹینرز جبکہ چمن بارڈر پر 16 سو کنٹینرز موجود ہیں۔

قبل ازیں 5 اپریل کو حکومت نے افغانستان کے ساتھ بارڈر کھولنے میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرانزٹ اشیا کو ایک ہفتے میں 3 مرتبہ جانے کی اجازت دی تھی۔