پاک-افغان سرحد پر کارگو ٹرکوں کی آمدورفت بحال کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020
—فائل/فوٹو:ڈان
—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور انسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن بارڈر پر کارگو ٹرکوں کی آمد و رفت ہفتے میں 3 روز بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'افغانستان کی حکومت کی خصوصی درخواست پر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ طورخم اور چمن سرحد پر ہفتے میں تین روز کارگو ٹرکوں اور کنٹینروں کو جانے کی سہولت دی جائے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا واپسی کے خواہشمند افغانوں کو وطن جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ

بیان میں کہا گیا کہ '10 اپریل 2020 سے ہفتے میں 3 دن پیر، بدھ اور جمعے کو طورخم اور چمن سرحد سے افغانستان جانے کی سہولت ہوگی'۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'یہ قدم دونوں فریقین کے درمیان مشاورت اور رابطے کے بعد متفقہ طریقہ کار کے تحت اٹھایا جارہا ہے'۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'پڑوسی اور برادرانہ تعلقات کے پیش نظر پاکستان بدستور افغانستان کے عوام سے بالخصوص عالمی وبا کے حالات میں یک جہتی کا اظہار کررہا ہے'۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے گزشتہ ماہ افغانستان کو ملانے والی سرحد چمن اور طورخم کو بند کردیا تھا۔

کورونا وائرس کے پیش نظر 13 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں مزید 2 ہفتے بند رکھنے کا اعلان

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزارت داخلہ سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کا مغربی بارڈر 14 روز کے لیے بند کیا جارہا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ تینوں برادر ممالک کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے جس کا اطلاق 16 مارچ سے ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان نے 20 مارچ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن میں سپین بولدک سرحد کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ٹرکوں کو افغانستان جانے کی اجازت دے دی تھی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کورونا وائرس کے پیشِ نظر افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تاہم ان کے پیغام یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ کیا سرحد کھلنے سے عوام کو بھی آمدو رفت کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

بعد ازاں 28 مارچ کو حکومت نے ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں کورونا وائرس کی وبا کے باعث مزید 2 ہفتے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:شہریوں کی وطن واپسی کا تنازع، افغانستان نے چمن سرحد بند کردی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ '13 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملک کےیمغربی اور مشرقی سرحدیں 2 ہفتے کے لیے بند رہیں گی، وہ مدت آج پوری ہورہی تھی لیکن کورونا سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ سرحدیں مزید 2 ہفتے کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گی'۔

پاکستان نے 4 اپریل کو وطن واپسی کے خواہش مند افغانستان کے شہریوں کو جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا اور گزشتہ دنوں کئی افراد نے سرحد پار کی تھی۔

حکام نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ایف آئی اے کے امیگریشن ڈیسک پر قانونی دستاویزات دکھا کر کم از کم 400 سے 500 افغان باشندے افغانستان داخل ہوئے، تاہم سہ پہر 3 بجے کے قریب افغان حکام نے چمن میں پاکستان کے ساتھ سرحد بند کردی جس کے باعث یہ سلسلہ رک گیا۔

عہدیداروں کا کہنا تھا کہ کابل چاہتا ہے کہ پاکستانیوں کو بھی اپنے ملک میں جانے کی اجازت دی جائے جو بڑی تعداد میں افغانستان کے سرحدی شہر اسپن بولدک میں پھنسے ہوئے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں