عائلہ ملک جعلی ڈگری پر ضمنی انتخابات سے دور

29 جولائ 2013

ای میل

فروری میں ایک انتخابی مہم میں عائلہ ملک عمران خان کے ساتھ ایک جلسے میں موجود ہیں۔ فائل تصویر
فروری میں ایک انتخابی مہم میں عائلہ ملک عمران خان کے ساتھ ایک جلسے میں موجود ہیں۔ فائل تصویر

اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بنچ کی دورکنی الیکشن ٹرائبیونل نے پیر کو پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کی رہنما عائلہ ملک کو ان کی انٹرکی ڈگری جعلی ہونے پر ضمنی انتخابات کیلئے نا اہل قرار دیدیا ہے۔

عائلہ،  سابق صدرِ پاکستان فاروق لغاری کی بھتیجی ہیں ۔ وہ عمران خان کی جانب سے راولپنڈی کی سیٹ رکھنے اور این اے 71  میانوالی کی کی سیٹ خالی ہونے پر ضمنی الیکشن کی امیدوار تھیں۔

جسٹس مامون رشید اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دورکنی بنچ نے عائلہ ملک کے سیاسی حریف عبیداللہ شادی خیل کی درخواست پر سماعت کی جس میں کہا گیا تھا کہ عائلہ کی ایف اے کی ڈگری جعلی ہے۔

گزشتہ ہفتے ، راولپنڈی ایجوکیشن بورڈ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے  ٹرائیبونل کے سامنے دیے گئے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ عائلہ کی ڈگری کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔ ٹرائبیونل نے پیر کے روز تک فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

عائلہ ملک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سابق صدر سے قرابت کے ساتھ ساتھ وہ نواب ملک عامر محمد خان المعروف نواب آف کالا باغ کی پوتی ہیں۔ ان کی بہن سمیرہ ملک پاکستان مسلم لیگ نون ( پی ایم ایل این) کی ایم این اے ہیں۔ وہ ایک ریزرو سیٹ پر دوہزار دو سے دوہزار سات تک ایم این اے بھی رہ چکی ہیں۔

ملک بھر میں جعلی اور غیرمستند تعلیمی ڈگریوں کا معاملہ حالیہ مہینوں میں اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ گیارہ مئی کے انتخابات سے قبل بھی سیاست کے اہم نام جعلی دستاویز کی بنا پر انتخابات میں حصہ نہ لے سکے تھے۔

اس سال اپریل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان ( ای سی پی) نے تین سینیٹرز، پنجاب اسمبلی کے پانچ ایم پی اے، اور بلوچستان کے ایک ایم پی اے کو جعلی ڈگریوں کے پاداش میں سزا دی تھی۔ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کی ثمینہ خاور حیات بھی جعلی ڈگری بھی نااہل قرار دی جاچکی ہیں۔