کیا سلیم ملک کو بھی دوسرا موقع ملنا چاہیے؟

23 اپريل 2020

ای میل

دنیا اس وقت کورونا وائرس کی زد میں ہے اور جہاں دیکھیں اس وبائی مرض کی ہی خبریں نظر آرہی ہیں۔ ایسے دنوں میں کرکٹ کا خیال؟ اسے تو اگلے، ایک ڈیڑھ سال کے لیے بھول ہی جائیں اور ماضی کی یادوں سے ہی دل بہلاتے رہیں۔

کچھ دن پہلے کرکٹ کلینڈر میں ’آج کی سالگرہ‘ کے نیچے ایک نام نظر آیا اور کئی یادیں تازہ ہوگئیں۔

یہ فروری 1987ء تھا، کلکتہ میں یعنی دنیا کے سب سے بڑے میدان پر پاک-بھارت مقابلہ ہو رہا تھا۔ پاکستان 40 اوورز میں 239 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا اور اس کے 6 کھلاڑی 173 رنز پر ہی آؤٹ ہوچکے تھے۔ چند ہی اوورز باقی بچے تھے اور ’فاتحِ شارجہ‘ جاوید میانداد کریز پر نہیں تھے اور کپتان عمران خان بھی آؤٹ ہوچکے تھے۔

اس وقت میدان ایک 23 سال کے نوجوان کے ہاتھ میں تھا، جس نے صرف 36 گیندوں پر 72 رنز کی اننگز کھیلی، اور اس اننگ کو آج بھی ’تاریخ کی بہترین ون ڈے اننگز‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نوجوان کا نام تھا سلیم ملک، جن کی 57ویں سالگرہ ابھی کچھ دن پہلے ہی گزری ہے اور اب ان کا نام ایک مرتبہ پھر گردش میں آگیا ہے۔

سلیم ملک پاکستان کرکٹ میں کپتان کے بلند ترین عہدے تک پہنچے لیکن اس کے بعد انہوں نے زوال کی گہرائیاں بھی دیکھیں۔ وہ میچ فکسنگ کی وجہ سے پابندی کا نشانہ بننے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بنے۔

سن 2000ء میں جسٹس ملک محمد قیوم نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے بعد سلیم ملک کو سزا سنائی تھی کہ وہ پوری زندگی میں کسی بھی سطح پر کرکٹ کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

ان پر 4 مختلف دوروں میں میچ فکس کرنے کے الزامات تھے۔ یہی نہیں بلکہ آسٹریلیا کے شین وارن اور مارک وا نے بھی ان کے خلاف گواہی دی تھی کہ 1994ء کے دورۂ پاکستان میں سلیم ملک نے انہیں رشوت دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ خراب کارکردگی پیش کرکے کراچی ٹیسٹ ہار جائیں۔

ان تحقیقات میں سلیم ملک کے علاوہ بھی بڑے بڑے نام تھے لیکن پابندی صرف سلیم ملک اور فاسٹ باؤلر عطاء الرحمٰن پر لگی۔ سلیم ملک تو کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل سکتے تھے لیکن عطاء الرحمن کے محض بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی تھی۔ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق اور مشتاق احمد پر محض جرمانے لگائے گئے۔

سلیم ملک نے کمیشن کے روبرو بھی ان الزامات کو مسترد کیا اور بعد میں فیصلے کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا لیکن ان کی درخواست رد کردی گئی، جس کے ساتھ ہی وہ گمنامی میں چلے گئے۔ یہاں تک کہ لمبے عرصے کے بعد ایک عدالت نے ان پر عائد پابندی کا خاتمہ کردیا۔ آج اس بات کو بھی 12 سال گزر چکے ہیں لیکن سلیم ملک پر کرکٹ کے دروازے اب بھی بند ہیں۔

ذاتی طور پر میری رائے پوچھیں تو میں فکسنگ کے گھناؤنے جرم کے مرتکب کسی بھی شخص کو دوسرا موقع دینے کا قائل نہیں ہوں۔ جنہیں ملک کی نمائندگی کا موقع ملا اگر وہ اپنے کاندھوں پر موجود اس ذمہ داری کا احساس تک نہ کریں تو وہ کسی رُو رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ لیکن، ہاں، انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے برابر ہو۔

کرکٹ کے معاملے میں مختلف کھلاڑیوں کے لیے مختلف معیارات رکھنا انصاف کے منافی ہے۔

جب 90ء کی دہائی کے سارے مشتبہ کھلاڑی کسی نہ کسی سطح پر کرکٹ میں واپس قبول کرلیے گئے، جب مشکوک ماضی ہونے کے باوجود انہیں آج عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہی نہیں بلکہ ان کے بعد آنے والی پود کے کھلاڑی بھی اب ’آزاد‘ ہیں تو تنہا سلیم ملک کا کیا قصور؟

خود دیکھ لیں، ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے کہ 2010ء میں لارڈز کے میدان پر اسپاٹ فکسنگ کے ذریعے پاکستان کا نام ڈبویا گیا۔ اس گھناؤنی حرکت کے مرتکب کھلاڑی آج کہاں ہیں؟ محمد عامر کم عمر تھے اور شبہ تھا کہ انہوں نے فکسنگ کی حرکت کپتان کے دباؤ کی وجہ سے کی ہوگی، اس لیے انہیں سزا بھگتنے کے فوراً بعد قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کرلیا گیا اور وہ آج بھی ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

محمد آصف نے دنیا سے الگ تھلگ ہونے کا راستہ چن لیا اور کرکٹ کا رخ ہی نہیں کیا، ورنہ شاید انہیں بھی موقع مل جاتا۔ لیکن سب سے بڑے کردار سلمان بٹ ڈومیسٹک کرکٹ سے لے کر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) تک میں، ہر جگہ ایکشن میں نظر آرہے ہیں اور میدان سے باہر بھی تجزیہ کار کی حیثیت سے ٹیلی وژن چینلوں پر موجود رہتے ہیں۔

اس سے بھی تازہ مثال شرجیل خان کی لے لیں کہ جن پر 2017ء میں فکسنگ اسکینڈل کے بعد 5 سال کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن سزا ڈھائی سال بعد معطل کردی گئی اور اب وہ ایک مرتبہ پھر کھیل کے میدانوں میں موجود ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ایک بُرائی دوسری بُرائی کا جواز نہیں بن سکتی، اور نہ بننی چاہیے لیکن انصاف کے تقاضے کچھ اور کہتے ہیں۔ ایک ہی جرم کی سزا مختلف افراد کو مختلف دینا انصاف ہے؟ اس پر اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔

اب اتنے سالوں کے بعد اچانک سلیم ملک کا منظرِ عام پر آنا اور کرکٹ سرگرمیاں شروع کرنے کی سرِعام اجازت طلب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ’میں کسی بھی سطح پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے کوچنگ کی خدمات انجام دے سکتا ہوں۔ مجھے 2008ء میں عدالت نے کلین چٹ دے دی تھی اور قانوناً مجھ پر کوئی پابندی نہیں۔ جب محمد عامر، سلمان بٹ اور شرجیل خان کو موقع مل سکتا ہے تو میرے تجربے کا بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے‘۔

پھر پاکستان کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کا بھی یہی سمجھنا ہے کہ سلیم ملک کو دوسرا موقع ملنا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے سلیم ملک کا کیریئر اس انداز میں ختم ہوا۔ لیکن انہیں ملک کے لیے دوسری اننگز کا موقع ملنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے بھارت میں سابق کپتان اظہر الدین پر پابندی لگائی گئی لیکن آج کل وہ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں‘۔

انضمام الحق نے تو سلیم ملک کے کھیل کو ماضی میں ظہیر عباس اور محمد یوسف اور آج کل کے کھلاڑیوں میں بابر اعظم سے تشبیہ دی اور کہا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے 100 سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ ہوسکتا ہے نئی نسل ان کے بارے میں زیادہ نہ جانتی ہو لیکن وہ اپنے زمانے میں ایک زبردست کھلاڑی تھے۔

ان تمام کڑیوں کو آپس میں ملائیں تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سلیم ملک کے حوالے سے کرکٹ کے کرتا دھرتا کوئی فیصلہ کرچکے ہیں، اب اس فیصلے کے اعلان سے پہلے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے۔ انتظار کیجیے کہ ملک صاحب کسی نئے جلوے میں نمودار ہونے ہی والے ہیں اور ماضی قریب میں جو مثالیں قائم کی گئی ہیں، ان کے بعد تو یہ آمد کسی کو بُری لگنی بھی نہیں چاہیے۔