بیرونِ ملک پھنسے 46 ہزار 743 پاکستانیوں نے واپسی کیلئے اندراج کروایا، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2020
5 ہزار 629 سمندر پار پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں—تصویر: فیس بک وزارت خارجہ
5 ہزار 629 سمندر پار پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں—تصویر: فیس بک وزارت خارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ بیرونِ ملک پھنسے 46 ہزار 743 پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لیے سفارتخانوں میں اپنا اندراج کروایا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی فنکشنل کمیٹی برائے کووِڈ 19 کو بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان میں سے 2 ہزار 54 افراد تبلیغی جماعت کے اراکین ہیں جن میں سے زیادہ تر سوڈان، کینیا، تنزانیہ، صومالیہ، یوگنڈا اور چاڈ میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 5 ہزار 629 سمندر پار پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں جبکہ بیرونِ ملک جیلوں میں قید رہنے والے 428 افراد کو بھی واپس لایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھین:’40 ہزار پاکستانی تاحال مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بیرونِ ملک نوکری سے نکالے گئے پاکستانیوں کے مسئلے کے حل کے لیے قومی حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، ہم باقاعدہ طریقہ کار کے تحت لوگوں کو واپس لارہے ہیں اور ہمارے مشنز کو سمندر پار پاکستانیوں کو واپسی میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے لیے سحری اور افطاری ایک بڑا چیلنج ہوگا جس کے لیے وزارت خارجہ انتظامات کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔

کمیٹی اجلاس کی سربراہی کرنے والے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے اراکین اور زائرین سمیت جتنے سمندر پاکستانیوں کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا یا جنہوں نے قرنطینہ کا دورانیہ مکمل کرلیا انہیں رمضان کے مہینے کی وجہ سے فوری طور پر ان کے گھروں کو واپس لایا جائے۔

اسپیکر اسمبلی نے شہریار آفریدی کی سربراہی میں قائم کردہ ذیلی کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ صحافی برادری کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے، وزیر خارجہ

اسپیکر نے وزارت خارجہ کو بیرونِ ملک نوکریوں سے نکالے گئے پاکستانیوں کی حکومت سے رمضان پیکج سے مدد کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی کے کنوینر شہریار آفریدی نے اجلاس کو تبلیغی جماعت، زائرین اور سمندر پار پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کمیٹی کو صحافی برادری کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایک چارٹر آف ڈیماند پیش کیا ہے جس کے مطابق انہیں (فیلڈ میں) کام کرنے والے صحافیوں کے لیے سیفٹی کٹس کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ کسی صحافی کو نوکری سے نہ نکالا جائے اور ان کی تقریباً 11 ماہ سے تاخیر کا شکار تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں