چین حساس لیبارٹریز کی انسپیکشن کی اجازت دے، امریکا کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2020

ای میل

مائیک پومپیو واشنگٹن میں پریس بریفنگ سے خطاب  کرتے ہوئے—تصویر: اے ایف پی
مائیک پومپیو واشنگٹن میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے—تصویر: اے ایف پی

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے چین پر کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث حساس لیبارٹریز میں انسپکٹرز کو جانے کی اجازت دینے کے لیے زور دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مائیک پومپیو نے اس امکان کو مسترد کرنے سے انکار کردیا کہ یہ مہلک وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے لیک ہوا جس کی چین سختی سے تردید کرچکا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ’آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ صرف ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی نہیں بلکہ چین میں ایسی لیبارٹریز اب بھی کھلی ہوئی ہیں جہاں پیچیدہ پیتھوجینز (بیماری پھیلانے والے وائرس) موجود ہیں اور ان پر تحقیق ہورہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ہم نے تیار نہیں کیا مگر اس طرح کے وائرس پر تحقیق ضرور کرتے ہیں، ووہان لیب

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس قسم کے مواد کو محفوظ طریقوں سے سنبھالنا انتہائی اہم ہے کہ وہ حادثاتی طور پر بھی خارج نہ ہوں‘۔

مائیک پومپیو نے جوہری سہولیات کی مثال دیتے ہوئے وہاں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت عالمی معائنے کی جانب اشارہ کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس تشویش کا اظہار کیا کہ چین نے شناخت ہونے والے ابتدائی وائرس کا نمونہ فراہم نہیں کیا جسے سائنسی زبان میں SARS-CoV-2 کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب بھی وائرس کا نمونہ نہیں اور نہ ہی دنیا کو ان لیبارٹیرز یا ووہان میں دیگر جگہوں تک رسائی حاصل ہے جہاں یہ وائرس شاید اصل تیار ہوا۔

مزید پڑھیں: کورونا لیبارٹری میں تیار ہوا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے تحقیق شروع کردی

رپورٹ کے مطابق چینی حکام نے ابتدا میں اس مہلک وائرس کی خبر دبا دی تھی اور اس کے ساتھ ہی انکشاف کرنے والے کو بھی قید کردیا تھا۔

اس وقت سے چینی سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں شبہ ہے کہ وائرس ووہان کی گوشت مارکیٹ سے پھیلا جہاں مختلف اقسام کے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔

تاہم قریبی واقع وائرولوجی لیبارٹری کی حفاظت کی وجہ سے مختلف سوالات اٹھ گئے تھے اور امریکا کے سینئر حکام اس معاملے کو سامنے لائے تھے جسے ابتدا میں ایک آن لائن سازشی مفروضہ قرار دیا جارہا تھا۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی وبا کو نہ روک پانے سے متعلق الزامات کو اپنے اوپر سے ہٹانا چاہتے ہیں جس میں تقریباً 45 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔