امریکا میں کورونا وائرس جنوری میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا، رپورٹ

23 اپريل 2020

ای میل

نئے نوول کورونا وائرس کا یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ اینڈمنسٹریشن کا تیار کردہ خاکہ — اے ایف پی فائل فوٹو
نئے نوول کورونا وائرس کا یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ اینڈمنسٹریشن کا تیار کردہ خاکہ — اے ایف پی فائل فوٹو

امریکا میں نئے نوول کورونا وائرس کے مقامی سطح پر پھیلنے والے کیسز فروری کے آخر میں سامنے آئے تھے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ درحقیقت یہ بیماری وہاں اندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 2 افراد کی لاشوں کے معائنے سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ دونوں فروری کی ابتدا اورر وسط میں نوول کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے، اس سے پہلے مانا جارہا تھا کہ امریکا میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت 29 فروری کو ہوئی تھی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق دونوں ہلاکتیں امریکا میں اولین اموات ہوسکتی ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں وائرس پھیلنے کا عمل جنوری سے ہی شروع ہوچکا تھا۔

شمالی کیلیفورنیا کی کائونٹی سانتا کلارا کے حکام نے منگل کو ان دونوں لاشوں کے معائنے کے نتائج اعلان کیا تھا ۔

ان میں سے ایک 57 سالہ خاتون 6 فروری کو اپنے گھر میں جبکہ 17 فروری کو 69 سالہ شخص کا انتقال بھی اپنے گھر میں ہوا تھا۔

ان دونوں افراد کی کوئی سفری تاریخ نہیں تھی جہاں سے وہ وائرس کا شکار ہوتے اور کائونٹی کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سارہ کوڈی کے مطابق 'ہمارا خیال ہے کہ یہ دونوں برادری میں پھیلنے والے وائرس کی زد میں آئے'۔

انہوں نے مزید بتایا 'اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ برادری کی سطح پر وائرس کی منتقلی کا سلسلہ توقعات سے پہلے شروع ہوچکا تھا'۔

ہارورڈ گلوبل انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشیش کے جھا کے مطابق یہ دریافت بہت اہم ہے 'ایسا فرد جس کا انتقال 6 فروری کو ہوا ہو، ممکنہ طور پر وائرس کی زد میں جنوری کی ابتدا یا وسط میں آیا ہوگا، وائرس کا کار ہونے کے بعد موت تک کم از کم 2 سے 3 ہفتے لگتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ دونوں بیرون ملک سفر کے دوران کورونا وائرس کی زد میں نہیں آئے تو اس کا مطلب ہے کہ کیلیفورنیا میں عوامی سطح پر یہ وائرس اگر پہلے نہیں تو کم از کم جنوری کے وسط میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا'۔

ان کے بقول 'ہمیں اب پیچھے جاکر دیکھنے کی ضرورت ہے، دیکھا ہوگا کہ جنوری بلکہ دسمبر میں کتنے کیسز سامنے آچکے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ امریکا میں یہ وائرس پہلے کب پھیلنا شروع ہوا تھا'۔

سی ڈی سی نے بھی تصدیق کی ہے

فروری میں ہونے والی ان اموات کے بارے میں کائونٹی کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹیسٹنگ صلاحیت محدود تھی اور ایسے افراد کو ہی ترجیح دی جاتی تھی جن کی سفری تاریخ تھی یا مخصوص علامات کے علاج کے خواہشمند تھے، اور ان کے ٹیسٹ بھی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے ذریعے ہوتے تھے۔

فروری کی ابتدا اور وسط میں ہلاک ہونے والے دونوں افراد میں فلو جیسی علامات موت سے قبل دیکھی گئی تھیں اور طبی معائنہے میں وائرل مرض کو ٹیسٹ کیا گیا تھا مگر ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا۔

اب سی ڈی سی نے منگل کو تصدیق کی کہ نمونوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

کائونٹی کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ 9 مارچ کوو ایک 70 سالہ شخص کی موت بھی کورونا وائرس کے نتیجے میں ہوئی، تاہم کسی کا نام نہیں بتایا گیا۔

کائونٹی کے حکام کا کہنا تھا کہ مزید اموات کے بارے میں بھی تحقیقات کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اٹلانٹا کے ایموری یونیورسٹی ہاسپٹل کے ایسوسی ایٹ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کولین کرافٹ کے مطابق فروری میں ہونے والی اموات مکمل طور پر حیران کن نہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔

انہوں نے کہا ' اس کا مطلب ہے کہ توقعات سے زیادہ افراد اس کا شہار ہوئے ہوں گے، جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئی ہوں گی یا معتدل بیماری ہوگی'۔

نیویارک کے میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سینٹر کے ڈاکٹر کینٹ سیپکوٹیز نے کہا کہ فروری کی ہلاکتوں کے بارے میں مزید تفصیلات کی ضرورت ہے تاکہ امریکا میں ابتدائی کیسز کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکے۔

انہوں نے کہا 'درحقیقت اس انکشاف سے میں کچھ ہل گیا تھا، درحقیقت ہم نے امریکا میں فلو جیسی بیماری کے کیسز میں کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا، مگر میرے خیال میں ہمیں اس بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ابتدائی کیسز کے بارے میں، مگر ایسا لگتا ہے کہ مارچ میں ہی اس میں شدت آئی'۔

اس سے پہلے ریاست کیلیفورنیا میں ہی سب سے پہلے مقامی سطح پر اولین کیس کا اعلان 26 فروری کو سی ڈی سی نے کیا تھا۔

جس مریض میں اس کی تصدیق ہوئی تھی، وہ شخص نہ تو چین یا اس سے وائرس سے متاثرہ کسی ملک یا شہر میں گیا تھا اور نہ ہی اس نے کسی اور مصدقہ مریض سے ملاقات کی تھی۔

اس کیس کے بعد ہی امریکا میں کووڈ ٹیسٹنگ کے لیے گائیڈلائنز کو بھی بدلا گیا تھا اور سی ڈی سی نے اسے کمیونٹی اسپریڈ کا پہلا کیس قرار دیا تھا، یہ اصطلاح ایسے ذریعے کے لیے استعمال ہوتی ہے جب انفیکشن کی وجہ نامعلوم ہو۔

اب نئے انکششاف کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکا میں کیسز اور اموات کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

درحقیقت کیلیفورنیا کے علاقوں لاس اینجلس کائونٹی اور سانتا کلارا کائونٹ میں اینٹی باڈیز ٹیسٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ باضابطہ اعدادوشمار کے مقابلے میں بہت زیادہ گنا افراد اس بیماری سے متاثر ہوچکے ہیں۔