چینی کمپنی کی پاکستان میں کووِڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائل کی پیشکش

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2020

ای میل

سائنو فارم ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے نوول کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی ہے — فائل فوٹو: اےا ایف پی
سائنو فارم ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے نوول کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی ہے — فائل فوٹو: اےا ایف پی

چین کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی نے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد کو کووِڈ 19 کے لیے تیار کردہ ویکسین کا پاکستان میں کلینکل ٹرائل کرنے کی دعوت دے دی۔

یہ پیشکش چائنا سائینو فارم انٹرنیشنل کارپوریشن کے جنرل منیجر کی جانب سے این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام کے نام لکھے گئے خط میں کی گئی۔

مذکورہ خط میں اس اُمید کا اظہار کیا گیا کہ ’کامیاب ٹرائل سے پاکستان ان چند اولین ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں کووِڈ 19ویکسین متعارف کروائی جائے گی‘۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر اکرام نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ 'ابھی تک اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا البتہ یہ تعاون پاکستان کے لیے ایک بڑی چیز ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے علاج میں اب تک ہونے والی مثبت پیشرفت

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ملک میں کلینکل ٹرائل کے رجحان میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، اسے شروع کرنے سے قبل متعدد قوانین ہیں، اسے طبی اخلاقی کمیٹی اور دیگر سے منظور ہونا ہے لیکن جب ہمیں کلیئرینس مل جائے گی تو ہم اس کا آغاز کردیں گے‘۔

ڈاکٹر عامر اکرام کے مطابق پاکستان میں ویکسین کا کلینکل ٹرائل کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر یہ کامیاب ہوگئی تو ملک اسے ترجیحی بنیادوں پر خرید سکے گا۔

واضح رہے کہ قومی ادارہ صحت، وزارت صحت کے ماتحت ایک آزاد ادارہ ہے۔

چینی کمپنی کے ارسال کردہ خط میں کہا گیا کہ سائنو فارم ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے نوول کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی ہے۔

مذکورہ سرکاری کمپنی چین کی 80 فیصد سے زائد قوت مدافعت کی ویکیسن کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور کووِڈ 19 کے خلاف جنگ میں بھی اپنے ملک میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کے بعد جرمنی و برطانیہ میں بھی کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش

مراسلے میں کہا گیا کہ ’اس عمل کے دوران ہم نے متعدد عملی جانچ تیار کی ہیں جو ہم آپ کو دینا چاہتے ہیں اور پاکستان میں ویکسین کی تیاری کے لیے 2 ادارے معاونت کررہے ہیں‘۔

چینی کمپنی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ریگولیٹری اتھارٹیز نے کووڈ19 ویکسین جلد متعارف کروانے میں سہولت کے لیے ہنگامی پروٹوکولز بنائے ہیں اور چین میں اس عمل کو تیز کرنے کے لیے فیز ون اور فیز ٹو کے کلینکل ٹرائلز اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

مذکورہ کمپنی نے پاکستان کو بھی یہی تجویز دی کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ذریعے اسی طریقہ کار کو اپنائے۔

خط میں کہا گیا کہ این آئی ایچ کے پاس کسی نامزد طبی ادارے کے توسط سے شرکا کو بھرتی کر کے کلینکل ٹرائل کرنے کے لیے مطلوبہ تکنیکی مہارت اور عناصر موجود ہیں۔

مراسلے میں تجویز دی گئی کہ سائنو فارم کی نمائندہ کمپنی ہیلتھ بی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور این آئی ایچ فوری طور پر فیز ون اور فیز ٹو کے اکٹھے ٹرائل کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشت طے کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ایک اور تجرباتی دوا کی آزمائش

چینی کمپنی کے جنرل منیجر کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخظ سے سائنو فارم اس ویکسین کی ’منظوری، منصوبہ بندی کے حوالے سے مزید خفیہ معلومات فراہم کرسکے گی‘۔

این آئی ایچ سے وزارت صحت اور ڈریپ سے ٹرائل منظور کروانے کی درخواست کرتے ہوئے خط میں کہا گیا کہ وہ مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی، ٹرائلز کی تقسیم سے متعلق فنڈنگ، لاجسٹک کی منصوبہ بندی اور کلینکل ٹرائل کا ڈوزیئر ہیلتھ بی کے ذریعے ڈریپ کو جمع کروانے میں ’مکمل حمایت فراہم‘ کرے گی۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’کلینکل ٹرائل کے عمل کے دوران کامیابی کے لیے ہم این آئی ایچ کی ٹرائل ٹیم کے ساتھ مل کر کام کریں گے کیوں کہ موجودہ وبائی صورتحال کے پیشِ نظر یہ کوشش ہمارے ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے‘۔