سندھ میں پیر تا جمعرات صبح 9 سے 3 بجے تک کاروبار ہوگا، مراد علی شاہ

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2020

ای میل

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اشیائے خورونوش کی دکانیں صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھلیں گی، پکے ہوئے کھانے کی ڈیلیوری 5 سے 10 بجے تک ہوگی  — فائل فوٹو / ڈان نیوز
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اشیائے خورونوش کی دکانیں صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھلیں گی، پکے ہوئے کھانے کی ڈیلیوری 5 سے 10 بجے تک ہوگی — فائل فوٹو / ڈان نیوز

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ ہفتے سے 4 روز، پیر سے جمعرات تک صبح 9 سے دوپہر 3 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔

رمضان المبارک کے دوران کاروبار کھولنے سے متعلق معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) سے متعلق اجلاس ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد کیے گئے اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، امتیاز شیخ، مکیش چاولہ، ناصر شاہ، ترجمان مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس مشتاق مہر، پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ، کمشنر کراچی افتخار شلوانی، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن شریک تھے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیر تا جمعرات صبح 9 سے 3 بجے کاروبار ہوگا جبکہ اشیائے خورونوش کی دکانیں صبح 8 سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی اور پکے ہوئے کھانے کی ڈیلیوری شام 5 سے رات 10 بجے تک ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سحری کے اوقات میں کوئی ہوم ڈیلیوری سروس نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ رمضان میں شام 5 بجے کے بعد لاک ڈاؤن ہوگا اور کاروبار کھلنے کے باوجود احترام رمضان آرڈیننس بھی جاری رہے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی محکمہ داخلہ ایک ایس او پی اور کاروباری سرگرمیوں کے وقت کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کرے گا۔

اس سے قبل گزشتہ شب جاری ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ جو شاپنگ سینٹرز ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے انہیں فوری سیل کردیا ہے جبکہ چھوٹے تاجروں نے بھی اتفاق کیا کہ صرف آن لائن ڈیلوری ہوگی جبکہ مساجد میں اجتماعات کے حوالے سے صدر نے علما سے ملاقات کے بعد ایس او پیز بنائے ہیں'۔

خیال رہے کہ چند روز قبل آل کراچی تاجر اتحاد (اے سی ٹی آئی) کے صدر سمیت شہر قائد کے تاجروں کے دیگر نمائندوں نے یکم رمضان سے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر شرجیل گوپالانی سمیت مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے حکومت سندھ کی جانب سے اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) کو حتمی شکل دیے جانے سے قطع نظر مارکیٹس کھولنے کا اعلان کیا۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا تھا کہ تاجر برادری نے پہلے 15 اپریل سے دکانیں اور بازار کھولنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروانے پر اسے مؤخر کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ کراچی میں 6 تاجروں نے لاک ڈاؤن کے خلاف کاروبار کھولنے کی کوشش کی تو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

بعدازاں 23 اپریل کو پولیس نے لاک ڈاؤن سے متعلق اقدامات کی خلاف ورزی کرنے پر مزید 12 تاجروں کو گرفتار کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی پولیس چیف اور کمشنر، دونوں نے تاجروں کو خبردار کیا تھا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر اپنا کاروبار/ دکانیں کھلونے کی صورت میں شہر میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ سندھ میں ایک ماہ سے نافذ لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار حکام اور ماہرین کے لیے چیلنج بن چکی ہے اور شہر میں مقامی سطح پر منتقلی کے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

اب تک سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 ہزار 9 سو 45 ہوگئی ہے جبکہ 772 افراد صحتیاب اور 73 انتقال کرچکے ہیں۔