ملک میں 30 مئی تک کورونا کیسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچنے کا امکان

اپ ڈیٹ 01 مئ 2020

ای میل

اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی تک ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 52 ہزار 695 تک پہنچ جائے گی—تصویر :رائتڑز
اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی تک ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 52 ہزار 695 تک پہنچ جائے گی—تصویر :رائتڑز

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہورہا ہے اور اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزارت صحت کے اعداد و شمار 30 مئی تک ملک میں ڈیڑھ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کی پیش گوئی کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کیسز کا مسلسل عمودی سمت میں بڑھتا ہوا گراف جون میں متوازی ہوجائے گا جبکہ جولائی سے اس کے نیچے آنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔

تاہم ملک میں موجود وینٹی لیٹرز اور ذاتی تحفظ کی اشیا (پی پی ایز) مئی تک کے لیے کافی ہوں گی لیکن جون میں اگر مقامی سطح پر ان کی تیاری شروع نہ ہوئی تو اس کی قلت ہوجائے گی۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی تک ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 52 ہزار 695 تک پہنچ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مزید 832 کیسز سے کورونا متاثرین 16ہزار سے زائد، اموات 361 ہوگئیں

مزید یہ کہ حقیقی کیسز کے اعداد و شمار تخمینے کی تعداد سے 4 فیصد کم ہیں لہٰذا گر کیسز اسی تیزی سے رپورٹ ہوتے رہے تو 30 مئی تک ملک میں ڈیڑھ لاکھ کیسز سامنے آچکے ہوں گے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 15 مئی تک اموات کی تعداد ایک ہزار 324 ہوگی لیکن چونکہ اموات کی اصل تعداد لگائے گئے اندازوں سے 20 فیصد کم ہے چنانچہ جس تیزی سے اس وقت اموات ریکارڈ ہورہی ہیں 15 مئی تک مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 50 تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی نگہداشت کے بیڈز، وینٹی لیٹرز، ہسپتالوں کے بیڈ اور عارضی ہسپتالوں میں موجود گنجائش مئی کے مہینے تک کے لیے کافی ہے۔

تاہم اسی ماہ کے دوران 3 لاکھ 77 ہزار 624 این 95 ماسکس، 4 ہزار 444 حفاظتی لباس، 2 لاکھ 5 ہزار 703 سرجیکل گاؤنز اور 17 لاکھ نائٹریل دستانوں کی کمی ہوگی جو طبی یا لیبارٹری کا عملہ استعمال کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا بچے نئے کورونا وائرس کو بالغ افراد میں منتقل کرسکتے ہیں؟

ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ کے دوران 19 ہزار 960 ڈسپوزیبل دستانوں، 16 لاکھ لیٹیکس دستانوں، 9 لاکھ 63 ہزار 638 گاگلز، 84 لاکھ 327 فیس شلیڈز، ایک لاکھ 66 ہزار 633 ڈسپوزیبل ٹوپیوں، ایک لاکھ 78 ہزار 323 جوتوں کے کورز، 13 ہزار 501 گم بوٹس اور 50 لاکھ سرجیکل ماسکس کی کمی ہوگی۔

اس ضمن میں جب وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سب سے مثبت چیز یہ ہے کہ پاکستان میں کیسز کی تعداد دیگر ممالک سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’حالانکہ پاکستان میں روزانہ کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد کم ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ہمارے ٹیسٹس فی 10 لاکھ کی آبادی کے تناسب سے پڑوسی ممالک سے زیادہ ہیں'۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کیسز کی تعداد میں جون سے اضافہ ہونا بند ہوجائے گا جبکہ اس میں کمی جولائی سے شروع ہوگی۔

کووِڈ 19 کا علاج

دوسری جانب ماہرین صحت کی امیدیں اس اعلان کے بعد دوبارہ روشن ہوگئیں کہ ایبولا کا علاج کرنے والی اینٹی وائرل دوا سے ممکنہ طور پر کووِڈ 19 کا علاج ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کودی جانے والی ایک بریفنگ میں سامنے آئی کہ ریمڈیسیوائر کے استعمال سے کووِڈ 19 کے مریضوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔

اس حوالے سے مائیکرو بائیولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جواد کا کہنا تھا کہ اسے فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور ہونے میں کافی وقت یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

اس ضمن میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر عاصم رؤف نے ڈان کو بتایا کہ اس دوا کی ایف ڈی سے منظوری ابھی باقی ہے لیکن یہ دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں دستیاب نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب اسطرح کی عالمی وباؤں کی ادویات تیار کی جاتی ہیں تو وہ غریب ممالک کے ایک پروگرام کے تحت ترقی پذیر ممالک کو فراہم کی جاتی ہیں۔