انٹرنیٹ پر منافع بخش کاروبار کرنے کا یہی اچھا وقت ہے

05 مئ 2020

ای میل

ہم ایسی نسل کے نمائندے ہیں جس نے ایک وبا کے عفریت کو اپنے اردگرد پھرتے ہوئے دیکھا ہے، ایسے غیر یقینی حالات کا سامنا کیا ہے جس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔

اس سال پاکستان آنے کا منصوبہ، اپنے دیسی ریسٹورنٹ کو پاکستانی اسٹائل میں سجانے کا خیال اور نہ جانے کیا کیا خواب ادھورے رہ گئے، کاروبارِ زندگی یوں معطل ہوکر رہ گیا کہ چشمِ تصور میں بھی ایسا گماں نہ تھا، ایسے بدلتے حالات میں جگہ سے جڑے کاروبار سے باہر دیکھنا موقع کے امکان کی کھڑکی سے باہر دیکھنے جیسا ہے۔

میں پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے ای کامرس کے ایک دو گروپس سے جڑا ہوا ہوں، ایک خاموش تماشائی کی طرح لوگوں کی آمدورفت کا جائزہ لیتا رہا ہوں۔ کبھی اتنی دلچسپی سے انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار پر دھیان ہی نہیں دیا اور ہر روایت پسند کی طرح مجھے بھی انٹرنیٹ پر ہونے والے کاموں میں دو نمبری کا خوف لاحق رہا۔

تاہم کچھ ماہ کے اس مشاہدے نے ایک بات راسخ کردی کہ انٹرنیٹ سے آمدنی نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے ایک نیا اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا زبردست موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ ابھی ہزاروں لوگ آن لائن کام کر رہے ہیں لیکن میں لاکھوں لوگوں کا مستقبل اس سے وابستہ ہوتا دیکھ رہا ہوں۔

انٹرنیٹ پر کاروبار کے چند ایک آپشن درج ذیل ہیں۔

فری لانسنگ

آپ نے کتاب کا ٹائٹل بنوانا ہے، فیس بک پر لائک یا یوٹیوب کے سبسکرائبر بڑھوانے ہیں، ڈیٹا انٹری کروانی ہے یا ایسے کسی کام کے لیے ورچوئل اسسٹنٹ درکار ہے، اپنی ویب سائٹ کے لیے مواد لکھوانا ہے یا 30 ہزار لفظوں کی کتاب، آٹوکیڈ کا نقشہ بنوانا ہے یا پھر اپنا خوبصورت ڈیجیٹل پورٹریٹ، غرض وہ کون سا کام ہے جو انٹرنیٹ پر بیٹھے پاکستانی نوجوان نہیں کررہے۔

انٹرنیٹ سے آمدنی نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے ایک نیا اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع بھی ہے—اے ایف پی
انٹرنیٹ سے آمدنی نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ پاکستانیوں کے لیے ایک نیا اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع بھی ہے—اے ایف پی

پچھلے دنوں میں نے ڈان بلاگز کے لیے لکھی جانے والی اپنی تحریروں کا انگریزی ترجمہ کروانے کا سوچا اور اپ ورک نامی ویب سائٹ پر اس بارے میں لکھا۔ پہلے ہی دن 18 لوگوں نے رابطہ کیا۔ پھر مجھے اپنے یوٹیوب چینل پر تھمب نیل بنانے کے لیے مدد درکار تھی سو فیور نامی ویب سائٹ پر ایک چھوٹی سی پوسٹ لگائی اور درجنوں لوگ اپنی سروسز کے ساتھ آن موجود ہوئے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں پاکستان میں پہلے سے ہی کام کیا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر اس میں بہت بہتری کی گنجائش ہے۔

اگر آپ کسی بھی دوسری نوکری سے وابستہ ہیں اور کچھ اضافی پیسے کمانا چاہتے ہیں تو ایک عدد ضروری ہنر سیکھیے اور اپنا اشتہار ویب سائٹ پر لگا دیجیے۔ ایک نئی دنیا آپ کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہے۔

ایمازون، ای بے یا دیگر ویب سائٹس پر ہول سیل

ڈیجیٹل دنیا میں ایمازون ایک جنگل کے جیسا ہے، اس پر ایک پورا جہان آباد ہے اور اس کے ایک ایک حصے پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ لوگ یہاں پر ضروریاتِ زندگی کی چیزیں فروخت کرتے ہیں، وہ کسی بڑے دکاندار سے مال خریدتے ہیں اور اس پر اپنا کمیشن رکھ کر صارفین کو فروخت کر دیتے ہیں۔

یہاں برانڈز کے علاوہ آپ اپنے نام سے بھی کوئی چیز بنوا کر بیچ سکتے ہیں، مثلاً اگر میں یہ دیکھوں کہ بچوں کی سائیکلیں ٹرینڈ میں ہے تو میں چین میں سائیکل بنانے والی فیکٹری کو تلاش کرکے وہاں اپنے نام کی مہر والی سائیکلیں تیار کرکے یہاں بیچ سکتا ہوں، اس طرز کی فروخت کو پرائیویٹ لیبل کہا جاتا ہے۔

پھر مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے کاموں میں آپ کو ویئر ہاؤس یا دیگر سروسز خریدنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، بلکہ آپ کو صرف فیکٹری والے کو یہ کہنا ہوتا ہے کہ میرا مال ایمازون کے ویئر ہاؤس پہنچا دو، اور پھر ایمازون اس کو خود ہی آپ کے کسٹمر تک پہنچانے کی ذمہ داری لے لیتا ہے، لیکن ہاں بس اس طرح کے کام میں آپ کے پاس مناسب سرمایہ ہونا ضروری ہے۔

ڈراپ شپنگ

لیکن ایک کام ایسا بھی ہے جس کا آغاز آپ کم پیسوں سے کرسکتے ہیں، اسے ڈراپ شپنگ کہتے ہیں۔ ایمازون، ای بے، اور بہت سی کمپنیاں یہ کام بھی کرتی ہیں۔

میں نے پچھلے دنوں شاپی فائی نامی ایک ویب سائٹ پر ایک اسٹور بنایا ہے، جس میں یوگا میٹ اور خواتین کے لیے اسپورٹس ملبوسات دستیاب ہیں، مجھے اس کا مشورہ دینے والے کے بقول آج کل اس کی بہت ڈیمانڈ ہے۔

اس اسٹور پر جتنی اشیا لوگ آرڈر کریں گے وہ ایک اور کمپنی جس کا نام اوبرلو ہے وہ مہیا کرے گی، یعنی آپ کو صرف اکاؤنٹ بنانا ہے اور اس پر رکھی گئی مصنوعات کو مارکیٹ کرنا ہے۔ یہ کہاں سے بنیں گی؟ کس طرح گاہگ تک پہنچیں گی؟ یہ میرا مسئلہ نہیں۔ مجھے بس مؤثر مارکیٹنگ کرنی ہوگی اور یوں میرے اسٹور سے مال فروخت ہونے لگ جائے گا اور ہر چیز کی فروخت پر مجھے کمیشن ملنے لگ جائے گا۔

تصویر بشکریہ .shopify.com
تصویر بشکریہ .shopify.com

ای بکس لکھنا

ایمازون کنڈل پر سیلف پبلشنگ ایک ایسا آپشن ہے جس نے ہزاروں لوگوں پر کام کرنے کے راستے کھولے ہیں۔ اگر آپ حالاتِ حاضرہ پر لکھ سکتے ہیں یا اس کام کو مینج کرسکتے ہیں، یا تخلیقی انداز میں اپنے کام کو پیش کرسکتے ہیں تو کنڈل ایک بہترین آپشن ہوسکتا ہے۔ یہاں پر بچوں کی تصویری کتابوں سے لے کر دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں تک ہر چیز پائی جاتی ہے۔ میں خود بھی پچھلے 2 ماہ سے اس پر کام کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ اگر آپ خود کتابیں نہیں لکھ سکتے تب بھی آپ کو بہت سے ایسے ادارے مل جاتے ہیں جو آپ کے آئیڈیا کے مطابق کتاب تیار کرکے دے سکتے ہیں۔

پرنٹ آن ڈیمانڈ

بازار سے ایک سادہ سی ٹی شرٹ لیجیے اور اس پر صارف کی مرضی کی عبارت پرنٹ کرکے اسے بھیج دیجیے۔ اس طرز کے کام کو پرنٹ آن ڈیمانڈ کہا جاتا ہے، اس کام سے 2 ڈالر کی شرٹ کو 20 ڈالر میں بیچا جاسکتا ہے۔

آپ مختلف ڈیزائن اور اسٹائل کی پرنٹ والی سیکڑوں اشیا و ملبوسات بیچ سکتے ہیں اور باقی کاموں کی طرح آپ کو صرف آرڈر حاصل کرنا ہوتا ہے اور سسٹم میں کوآرڈینیٹڈ کمپنیوں کی وجہ سے آن لائن ہی آپ کا لیا ہوا آرڈر نہ صرف موصول کرلیا جاتا ہے، بلکہ ڈیزائن اور پرنٹ کے بعد کسٹمر کو ڈیلیور بھی کردیا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹنگ

آج کل لائن پراڈکٹ اور سروسز کی فروخت کا رجحان بھی خاصا مقبول ہے، کسی سرچ انجن آپٹمائزیشن یا سرچ انجن مارکیٹنگ کی مدد سے کسی بھی پراڈکٹ کو خریدار کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو چیز آپ کچھ دیر پہلے تلاش کر رہے تھے، اسی کا اشتہار آپ کو سائیڈ بار پر نظر آنے لگتا ہے۔ اچھی تصاویر اور جاندار عبارت سے اس کو مزید پُرکشش بنایا جاتا ہے اور وہاں پر لکھنے والوں کے لیے قیمت وصول کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔

ایفی لیئٹ مارکیٹنگ یا انفلیونسر مارکیٹنگ

اگر آپ کی بات میں دم ہے اور آپ کو لوگ فالو کرتے ہیں یا آپ لوگوں کو گھیر گھار کر اپنی ویب سائٹ پر لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو ایفی لیئٹ مارکیٹنگ آپ پر نئے مواقع کھول سکتی ہے، جیسے ایمازون پر اگر میں آپ کو ایک پراڈکٹ کے بارے میں مشورہ دوں تو ہر وہ پراڈکٹ جو میرے توسط سے آپ نے خریدی ہوگی اس پر ایمازون مجھے کمیشن دے گا، یا اگر میں سوشل میڈیا پر مقبول ہوں اور اپنے مداحوں کو کہوں کہ فلاں چیز بہت اچھی ہے اب آپ اگر میرا یہ لنک استعمال کرکے یہ چیز خریدیں گے تو آپ کو نہ صرف یہ چیز 10 فیصد سستی ملے گی بلکہ اس کی فروخت سے مجھے بھی معقول کمیشن ملے گا۔

تصویر بشکریہ کری ایٹو یونٹ
تصویر بشکریہ کری ایٹو یونٹ

میرے افلیونسر اسٹور پر کیمرا لینز، ہینڈ سیٹ اور کچھ کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔

انٹرنیٹ پر لکھنا، کاپی رائٹنگ

ہر ویب سائٹ اور ہر صنعت کو تشہیر کے لیے تحریر کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کی ایک دنیا آباد ہے ویسے یہ کام فری لانسنگ کے زمرے میں ہی شمار کرلیا جاتا ہے۔

بلاگنگ اور یوٹیوبنگ

بنانے والوں نے اپنی قسمت بلاگنگ اور یوٹیوب سے ہی بنا لی ہے۔ اگر آپ کے پاس بھی کوئی ہنر دنیا کو دکھانے کے لیے ہے اور آپ اس پر مجمع لگا سکتے ہیں تو یوٹیوب آپ کو اس پر چلنے والے اشتہارات کی مد میں ایک مناسب رقم دیتا ہے۔ پاکستان میں رہ کر کئی ایک بلاگر ماہانہ لاکھوں روپے یوٹیوب کی مدد سے کما رہے ہیں۔

بنانے والوں نے اپنی قسمت بلاگنگ اور یوٹیوب سے ہی بنا لی ہے—شٹر اسٹاک
بنانے والوں نے اپنی قسمت بلاگنگ اور یوٹیوب سے ہی بنا لی ہے—شٹر اسٹاک

میں نے کورونا بحران کے ان دنوں میں ایمازون پر ایفی لیئٹ اور انفلیونسر مارکیٹ میں قدم رکھا اور کنڈل کی 2 کتابوں پر کام کا آغاز کیا اس کے علاوہ شاپی فائی پر ایک ڈراپ شپنگ کا اسٹور بنوایا جو فی الحال تو کوئی خاص چلتا دکھائی نہیں دیتا، لیکن اپنے یوٹیوب چینل کے لیے درجنوں نئی ویڈیوز بنائیں۔ یہ تو تھی ہماری بات لیکن آپ بھی اس وقت کو مثبت اور منافع بخش سرگرمیوں میں صرف کرسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ سے کمائی کے مذکورہ ذرائع میں سے اپنی من مرضی کا ذریعہ منتخب کیجیے اور اپنی صلاحیتوں اور ہنر کا کمال دکھا کر پیسے کمائیے۔

صرف فیس بک پر ہی آپ کو فری لانسنگ، ایمازون، ڈراپ شپنگ سکھانے والے درجنوں گروپس مل جائیں گے، کنڈل کے لیے کتابوں پر کام کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کی رہنمائی کرسکتا ہوں، شرط صرف ایک ہے کہ دنیا کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا آغاز کیجیے۔ زمین سے جڑے کاروبار سے ہٹ کر انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنا قدم رکھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔