'مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت صحافیوں کی آواز دبانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے'

اپ ڈیٹ 03 مئ 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کشمیری صحافیوں کی جرات کو سلام پیش کیا— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کشمیری صحافیوں کی جرات کو سلام پیش کیا— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر لگائی گئی قدغن کی مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کی مہم کے خاتمے کا مطالبہ کردیا۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں صحافتی برادری سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جس کے خلاف مسلسل مہم چلاتے ہوئے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے قیدیوں کی رہائی، رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ ہم ان کی بے مثال جرأت کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کشمیری صحافیوں کی قربانیوں کی بھی قدر کرتے ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہیدوں میں سے ایک شجاعت بخاری کو جون 2018 میں قتل کردیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ نے مقبوضہ وادی کی کشیدہ صورتحال میں بھی صحافتی فرائض انجام دینے والے جرأت مند صحافیوں کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کو پبلک سیفٹی ایکٹ، مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کے قانون اور غیر قانونی سر گرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت مکمل آزادی حاصل ہے لیکن ان کے مظالم کے باوجود کشمیری صحافی عزم و ہمت اور پیشہ ورانہ جذبے سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 9 کشمیری جاں بحق

ترجمان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی نگرانی کے عالمی اداروں، انسانی حقوق کے بھارتی اور بین الاقوامی گروپ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر عائد بدترین پابندیوں، کشمیری صحافیوں اور مقبوضہ وادی میں ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے حوالے سے خطرناک ماحول پر شدید خدشات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ بھارت میں آر ایس ایس نظریے کی حامی بی جے پی کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی اپنی کھلی خلاف ورزیوں کو چھپانے اور ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کی آوازیں دبانے کے ایجنڈے پرعمل پیرا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

بیان میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی بھارتی مہم کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام مواصلاتی پابندیاں فوری طور پر ہٹاتے ہوئے کشمیری صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لے اور کشمیری عوام کے تمام بنیادی حقوق بحال کرے۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کی صحافی برادری سے اظہار یکجہتی کیا جسے مسلسل ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ جون 2018 میں کشمیر کے سینئر صحافی شجاعت بخاری کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

ان کو اس وقت گولیاں ماری گئی تھیں جب وہ اپنے دفتر سے باہر نکل رہے تھے اور موٹر سائیکل سوار ملزمان نے انہیں انتہائی قریب سے گولیاں ماری تھیں جبکہ حملے میں ان کا ایک محافظ ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا تھا۔