بھارت، چین کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپ، دونوں ممالک کے متعدد فوجی زخمی

اپ ڈیٹ 10 مئ 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارت اور چین کے سرحدی علاقے سکم پر تعینات دونوں ممالک کے محافظوں کے مابین جھڑپ کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں بھارتی میڈیا کا حوالے دے کر بتایا گیا کہ سرحدی ریاست سکم میں ناکولا سیکٹر کے قریب جھڑپ ہوئی جس میں 7 چینی اور 4 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے۔

مزید پڑھیں: بھارت کا چین کی فوج پر سرحدی خلاف ورزی کا الزام

خیال رہے کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 3 ہزار 400 کلومیٹر (2،100 میل) ہے۔

دونوں ممالک کی سرحد پر مذکورہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا جہاں مقامی کمانڈرز نے معاملے میں مداخلت کی اور صورت حال معمول پر آگئی۔

بی بی سی میں جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر عنبرسن اتیراجان کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ سرحد پر دونوں ممالک کی فوج کے مابین ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے جیسی جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔

تازہ ترین تناؤ کا سامنا سکم کے ناکو لا سیکٹر کے قریب ہوا، جو ہمالیہ میں سطح سمندر سے 5 ہزار میٹر (16،400 فٹ) سے زیادہ بلند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرحدی تنازع: چین، بھارت کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے تیار

دوسری جانب خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے مذکورہ واقعے پر بیان جاری کیا کہ دونوں ممالک کے سرحد محافظوں کی جانب سے جارحانہ رویے اپنانے کے نتیجے میں فوجیوں کو معمولی زخم آئے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر افسران کے درمیان رابطے اور بات چیت کے بعد صورتحال معمول پر آگئی۔

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ مذکورہ جھڑپ میں ڈیڑھ سے زائد فوجی شامل تھے جن میں سے 4 بھارتی اور 7 چینی فوجی زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ سے ملتی ہیں، اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے البتہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے 20 مرتبہ ملاقات کی تھی لیکن کوئی بھی اہم پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔

2018 میں چین اور بھارت کے درمیان بھوٹان کے معاملے پر فوجی کشیدگی سامنے آئی تھی۔

بیجنگ بھارت اور بھوٹان کی سرحدوں سے ملنے والے اپنے علاقے میں ایک روڈ تعمیر کر رہا تھا، اس علاقے کی بھارتی ریاست سکم سے ملتی ہیں جس پر بھارت اور بھوٹان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بھارت سے پہلے بھوٹان نے بھی سڑک کی تعمیر پر چینی حکومت سے احتجاج کیا تھا، اگرچہ تھمپو اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود بھوٹان نے سڑک کی تعمیر کو اپنی سلامتی کے خلاف قرار دیا تھا۔

چین کی جانب سے بھارت کے پڑوسی ممالک سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور مالدیپ سے بڑھتے ہوئے مراسم اور معاشی تعلقات پر بھی بھارت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جس کے بعد چین کی وزارت خارجہ نے بھارت کو متعدد بار خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنی فوج چین کے علاقوں سے پیچھے ہٹائے، اور بیجنگ برطانوی راج میں 1890 ہونے والے معاہدے کے تحت سڑک تعمیر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں میں سختی

اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد خطے میں، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

چین نے اس معاملے پر پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ اجلاس کے دوران بھی دوٹوک موقف اپنایا تھا کہ چین، بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے بارے میں یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

11 اکتوبر 2019 کو چین کے صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت پہنچے تھے اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا۔

سلگری کوریڈور (چکن نیک)

بھارت اور چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

چکن نیک کے علاقے میں موجود بھارت کی 7 ریاستوں کی سرحدیں چین، بھوٹان اور نیپال سے ملتی ہیں، اور اس خطے کی اہم ریاست سکم ہے، جس کی سرحدیں بیجنگ اور نئی دہلی کو ملاتی ہیں۔

بھارتی ریاست سکم کی سرحدیں چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں،ریاست سکم انڈیا کی آبادی کے لحاظ سے دوسری چھوٹی ترین ریاست ہے، مگر اس کی اسٹریٹجک اہمیت نہایت ہی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی بھارت کو 'ون بیلٹ ون روڈ' میں شرکت کی دعوت

اس کے علاوہ دونوں ممالک میں سرحدی تنازع کی وجہ سے 1962 میں جنگ بھی لڑی جا چکی، چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پراپنا حق تسلیم کرتا ہے، کیوں کہ وہاں تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے۔

اور اسی علاقے سے ہی بھارتی یاتری تبت کے علاقے میں مذہبی عبادات کے لیے جاتے ہیں، گزشتہ ہفتے بھی تبت جانے والے ہندوستانی یاتروں کو بیجنگ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روک دیا تھا۔