حکومت سندھ عید کی تعطیلات کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ چلانے پر رضامند

اپ ڈیٹ 17 مئ 2020

ای میل

ٹرانسپوررٹرز کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں  کئی ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ بھی شامل ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
ٹرانسپوررٹرز کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں کئی ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ بھی شامل ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: وزیراعظم عمران خان کی اپیل کے باوجود حکومت سندھ کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی ہٹانے سے انکار کے صرف ایک روز بعد ہی صوبائی حکام نے عید کی تعطیلات کے بعد صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز بحال کرنے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز پر پابندیاں نافذ کیے ہوئے تقریباً 2 ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ نے ٹرانسپوررٹرز کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کا بہت نقصان ہوا لیکن انہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔

ریلیف پیکج میں ٹرانسپورٹ سروسز اور کمپنیوں کو کئی ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ دینا بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت سندھ کا پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی ہٹانے سے انکار

اویس شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم عید کی 3 روزہ تعطیلات کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ نرمی صرف اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کے مطابق ہوگی جس پر سب کی صحت اور تحفظ کے لیے ٹرانسپورٹرز اور مسافروں دونوں کو عمل کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ سندھ حکومت نے 23 مارچ کو باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس پر پابندی لگادی تھی جو بدستور برقرار ہے۔

لاک ڈاؤن کے نفاذ سے رائیڈ-شیئرنگ سروسز کے آپریشنز بھی معطل ہیں جس کے باعث لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے نجی یا ذاتی گاڑیوں پر انحصار کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے ایک سے دوسرے شہر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے انٹرسٹی بس سروس پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے نے بھی ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں 24 مارچ کو تمام مسافر ٹرینوں کا آپریشن معطل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل دیے گئے بیان میں اویس شاہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تاجروں اور خریداروں دونوں کی جانب سے اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز اور حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی آئی۔

اویس شاہ کے مطابق ایسی ہی صورتحال مختلف صنعتی یونٹس کو آپریشنز بحال کرنے کی اجازت دینے کے بعد دیکھی گئی لیکن وہ اپنے وعدوں پر پورا اترنے، سماجی دوری پر عمل کرنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں چار دن کاروبار کھولنے کی اجازت، تین دن مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

تاہم صوبائی وزیر نے محض ایک روز بعد ہی اپنے بیان میں اس اچانک تبدیلی کی وضاحت نہیں کی۔

انہوں نے اپنے محکمے کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے ریلیف کے لیے دیگر اقدامات بیان کیے اور کہا کہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو سمری ارسال کردی گئی ہے۔

اویس شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے سمری منظور ہونے کے بعد مختلف کمرشل گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان کو ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بسوں، رکشوں، ٹیکسیوں اور کارگو گاڑیوں کو ٹیکسز اور مختلف فیس میں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں عائد جرمانے کی رقم میں بھی 50 فیصد کمی کی تجویز دی ہے۔

اویس شاہ نے کہا کہ اسی طرح موٹر وہیکلز انسپیکشن فیس میں 50 فیصد، موٹر وہیکل ٹیکس میں 25 فیصد کمی اور روٹ پرمٹ فیس میں 50 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔


یہ خبر 17 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی