والٹ ڈزنی کے سابق ڈائریکٹر ٹک ٹاک کے سی ای او مقرر

اپ ڈیٹ 19 مئ 2020

ای میل

کیون اے میئر والٹ ڈزنی کے ڈائریکٹر رہے ہیں—فائل فوٹو: اے پی
کیون اے میئر والٹ ڈزنی کے ڈائریکٹر رہے ہیں—فائل فوٹو: اے پی

شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے معروف انٹرٹینمنٹ کمپنی وال ڈزنی کے سابق کنزیومر ڈائریکٹر 58 سالہ کیون اے میئر کو چیف ایگزیکٹو افسر (س ای او) مقرر کردیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی شخص کو چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے دوسرے سب سے بڑے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

کیون اے میئر کئی سال تک والٹ ڈزنی کے کنزیومر انٹرنیشنل ڈویژن کے ڈائریکٹر چیئرمین کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور ان کی سربراہی میں والٹ ڈزنی کمپنی کے کاروبار میں کافی اضافہ بھی دیکھا گیا۔

کیون اے میئر نے نومبر 2019 میں والٹ ڈزنی کے تحت ڈزنی پلس نامی اسٹریمنگ ٹی وی چینل بھی متعارف کرایا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس چینل کے 55 کروڑ سبسکرائبر بن گئے، علاوہ ازیں انہوں نے دیگر کئی منصوبوں کے ذریعے بھی والٹ ڈزنی کی کمائی میں اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ٹک ٹاک امریکا کیلئے سیکیورٹی خدشات کا باعث ہوسکتی ہے’

کیون اے میئر کو چینی شیئرنگ ایپلی کیشن کے اعلیٰ ترین عہدے میں سے ایک پر تعینات کیے جانے پر کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اب ٹک ٹاک پر امریکی حکومت کی سختیوں میں نرمیوں کا امکان ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کیون اے میئر کو ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس کا سی ای او بھی مقرر کیا گیا ہے اور وہ صرف اور صرف کمپنی کے بانی کو رپورٹ کریں گے۔

کیون اے میئر کو ٹک ٹاک اور چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کا سی ای اور مقرر کیے جانے پر ٹیکنالوجی سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے چینی کمپنی پر امریکی سختیوں میں کمی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت متعدد بار ٹک ٹاک کے مواد پر سیکیورٹی خدشات ظاہر کر چکی ہے اور ٹک ٹاک کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن اپنے مواد کے ذریعے امریکا کی جاسوسی کرتی ہے جب کہ ٹک ٹاک کی مواد پالیسی پر بھی چینی نژاد لوگوں کا غلبہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے امریکی حکومت نے ٹک ٹاک پر کئی پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی فوج نے سرکاری موبائل میں 'ٹک ٹاک' ایپ پر پابندی عائد کردی

امریکی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو موبائل فونز میں ٹک ٹاک ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے روک رکھا ہے جب کہ اس ایپلی کیشن کے علاوہ بھی امریکی حکومت نے حالیہ چند برسوں میں چینی ایپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

امریکی حکومت نے جہاں ٹک ٹاک پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور انہیں اپنی نیشنل سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، وہیں امریکی حکومت نے چینی موبائل کمپنی ہواوے سمیت دیگر کمپنیوں پر بھی سختیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تاہم اب ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی شخص کو اعلیٰ ترین عہدے پر تعینات کیے جانے پر خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکی حکومت ممکنہ طور پر ٹک ٹاک کی پالیسی کے حوالے سے آنے والے وقت میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔