چین کا ہانگ کانگ کیلئے نئے سیکیورٹی قوانین لانے کا منصوبہ

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

مذکورہ قانون نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا—فائل فوٹو: رائٹرز
مذکورہ قانون نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا—فائل فوٹو: رائٹرز

چین نے اپنے سالانہ پارلیمانی اجلاس میں ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کے قانون کی تجویز پیش کرنے کا عندیہ دے دیا۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے مذکورہ اقدام گزشتہ برس حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جس کے بعد ہانگ کانگ میں مزید بدامنی پھیل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ میں پولیس کی احتجاج کرنے والے شخص پر براہ راست فائرنگ

خبر رساں ادارے 'اے پی' نے چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین کی پارلیمنٹ اپنے سالانہ اجلاس میں متنازع نئے قانون کو زیر بحث لائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ قانون نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

چینی پارلیمنٹ کے سیشن کی تیاری کے اجلاس میں ایک ایجنڈا شامل کیا گیا ہے جس میں ’ہانگ کانگ (نیم خود مختار خطے) کے لیے قانونی نظام کو بہتر بنانے اور ان کے نفاذ کے طریقے کو قائم‘ کرنےسے متعلق بل پر نظرثانی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔

اس ضمن میں 'ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ' اخبار نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ قوانین علیحدگی پسند، غیر ملکی مداخلت، دہشت گردی اور تمام تر اشتعال انگیز سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ہوں گے جس کا مقصد مرکزی حکومت کو گرانے اور سابق برطانوی کالونی میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا ہانگ کانگ میں سخت سیکیورٹی قوانین لانے کا مطالبہ

چین میں خارجہ امور کے نائب وزیر نے کہا کہ نئی صورتحال اور تقاضوں کے تحت نئے اقدامات ضروری ہیں اور بعض فیصلے قومی سطح پر لینا بہت ہی ضروری ہوگئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم 'ہانگ کانگ واچ' کے ڈائریکٹر جانی پیٹرسن نے کہا کہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ ’بے مثال اور انتہائی متنازع مداخلت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کی ایک وسیع تشریح یہ ہے کہ یہ ہانگ کانگ کے خاتمے کا اشارہ ہے۔

واضح رہےکہ گزشتہ سال اکتوبر میں ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج و مظاہرے مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف کیے گئے تھے، جس نے جمہوری سوچ رکھنے والے ہانگ کانگ کے عوام اور بیجنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان شدید اختلافات کو بےنقاب کردیا تھا۔

جس پر گزشتہ برس پولیس اور مظاہرین کے مابین کشیدگی شروع ہوگئی تھی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔

اگرچہ احتجاج کا آغاز پرامن طور پر ہوا تھا تاہم حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ احتجاج و مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ حکومت جھکنے پر مجبور، ملزمان حوالگی کے متنازع قانون سے دستبردار

احتجاج کے بعد یہ بل، جس کے تحت ہانگ کانگ کے شہریوں کو ٹرائل کے لیے مرکزی چین بھیجنے کی اجازت دی جانی تھی، واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا تھا جس کی وجہ حقوق کے لیے ووٹنگ کرانے اور پولیس کی کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے تھے۔