ہزارہ موٹروے پر پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کرنے والی خاتون کے خلاف مقدمہ

اپ ڈیٹ مئ 22 2020

ای میل

مذکورہ واقعہ کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی  —فائل فوٹو: اے ایف پی
مذکورہ واقعہ کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں ہزارہ موٹروے پر پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کرنے والی پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کرنے والی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

واضح رہے گزشتہ روز ہزارہ موٹروے کے نزدیک چیک پوائنٹ پر پولیس اہلکار نے ایک کار کو آگے جانے سے روکا تو اس میں سوار خاتون نے خود کو 'کرنل کی بیوی' کہتے ہوئے پولیس اہلکار سے بدتمیزی اور انہیں دھمکیاں دی تھیں۔

مزید پڑھیں: شہری کا لاک ڈاؤن کے دوران پولیس سے بچنے کا انوکھا انداز

مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

ایف آر آئی کا عکس
ایف آر آئی کا عکس

تھانہ سٹی مانسہرہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اے ایس آئی اورنگزیب خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں درج تفصیلات میں خاتون کو ’نامعلوم‘ قرار دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ اہلکار کی جانب سے خاتون کے خلاف پیش کردہ تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ’نامعلوم خاتون نے کار سرکار میں مداخلت کی، پولیس پر حملہ آور ہو کر گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی اور بیریئر کو نقصان پہنچایا‘۔

مانسہرہ پولیس اسٹیشن کے بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں کو کنٹریکٹ پر پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکیورٹی کےلیے تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے ’توہین کے باوجود انتہائی تحمل، ہمت اور پرسکون رویہ ‘ دکھایا۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کسی بھی عہدیدار کو معطل کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔

علاوہ ازیں ایف آئی آر میں نامعلوم خاتون کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات34/427، 186/506 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ’ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی نے کار اے سی سی 35 کو روکا جس میں ایک خاتون اور مرد سوار تھے اور آگے راستہ بند ہونے کی وجہ سے انہیں دوسرا راستہ اختیار کرنے کو کہا جس پر خاتون نے اہلکار سے بدتمیزی کی اور ہتھک آمیز رویہ اختیار کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکپتن: بزرگ شہری کے ساتھ ’بدتمیزی ‘ کرنے والا سب انسپکٹر معطل

ایف آئی آر میں درج اے ایس آئی کے بیان کے مطابق ’خاتون نے گالم گلوچ کی اور گاڑی میں بیٹھ کر مجھے کچلنےکی کوشش کرتے ہوئے مانسہرہ چلی گئیں‘۔

مذکورہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافی اور اینکر پرسن احمد قریشی اور غریدہ فاروقی نے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

احمد قریشی نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’آرمی چیف نے وائرل ہونے والی ویڈیو دیکھ لی، ہمیں ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ آرمی افسر اور ان کی اہلیہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے‘۔

اس ضمن میں غریدہ فاروقی نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، متعلقہ افسر کے خلاف فوراً ادارہ جاتی ضابطے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے‘۔

واضح رہے کہ خبر شائع ہونے تک پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے واقعے سے متعلق آرمی چیف کے نوٹس کا کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔