اپوزیشن نے چینی کمیشن کی رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے حیرت زدہ رہ گئے — فائل فوٹو: اے ایف پی
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے حیرت زدہ رہ گئے — فائل فوٹو: اے ایف پی

ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے شوگر فرانزک کمیشن (ایس ایف سی) رپورٹ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’گمراہ کن اور ’اصل مجرمان‘ کو محفوظ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

ایس ایف سی کی رپورٹ کے ردِ عمل میں علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے نام رپورٹ میں نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اس وقت چینی کی برآمدات کی اجازت دی جب ملک میں اس کی قلت تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس ایف سے چینی کی قلت اور ملک میں اس کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جس نے چینی بحران کے ذمہ دار شوگر ملز مالکان کے نام افشا کیے تھے جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادی سیاستدان اور ان کے عزیز شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: خود پر لگنے والے ہر الزام کو غلط ثابت کروں گا، جہانگیر ترین

رپورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی مِل اور اس مل کا نام بھی شامل تھا جس کے شریک مالک مونس الٰہی تھے۔

رپورٹ کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے ’جھوٹے الزامات سے حیرت زدہ‘ رہ گئے۔

ان کا کہنا تھاکہ میں 2 گوشوارے نہیں رکھتا میں نے اپنے تمام ٹیکسز بروقت ادا کیے اور کہا کہ وہ ’ہر الزام کا جواب دیں گے اور ثابت قدم رہیں گے'۔

دوسری جناب مسلم لیگ (ق) کے رکنِ قومی اسمبلی مونس الٰہی نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا شوگر ملز کے انتظامی امور میں کوئی عمل دخل تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ پوری رپورٹ آنکھوں کا دھوکا اور اس اسکینڈل کے حقیقی مجرمان وزیراعظم، عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کو بچانے کی کوشش ہے‘۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسکینڈل یہ نہیں تھا کہ سبسڈی دینا کیسے ملکی بلکہ اصلی جرم تھا، ’یہ مجرمانہ فیصلہ تھا کہ ملک میں چینی کی قلت کے دوران شوگر ایڈوائزری بورڈ کی تحریری تجویز کے خلاف چینی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی'۔

دوسری جانب شاہد خاقان عباسی نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ عثمان بزار اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ’فوری طور پر گرفتار کرنا چاہیے‘ کیوں کہ انہوں نے ان تمام مبینہ فیصلوں کی منظوری دی جس سے چینی چوری کا راستہ نکلا۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

دوسری جانب سندھ کی حکمراں جماعت پی پی پی نے ایس ایف سی رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضٰی وہاب نے کہا کہ ’پی ٹی آئی حکومت ملک میں ’انکوائری کمیشن اور ایگزیکٹو بورڈز کے ذریعے جھوٹ اور نااہلی کے جواز کا نیا رجحان قائم کررہی ہے۔

چینی بحران رپورٹ

واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔

بعد ازاں 5 اپریل کو وزیر اعظم عمران نے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ 25 اپریل کو اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی نتیجہ آنے کے بعد گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تاہم فرانزیک رپورٹ میں تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر اسے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا جہاں اسے عوام کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔

فرانزک رپورٹ کے بارے میں معاون خصوصی برائے احتساب نے بتایا کہ چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب چینی انکوائری کمیشن میں پیش، حکومت پنجاب کے کردار پر بیان ریکارڈ

معاون خصوصی نے کہا کہ رپورٹ میں صاف نظر آتا ہے کہ کس طرح ایک کاروباری طبقے نے پوری صنعت پر قبضہ کیا ہوا ہے، ادارہ جاتی اور ریگولیٹرز پر قبضے سے نظام کو مفلوج کرکے اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن نے فرانزک آڈٹ کے بعد پچھلے سالوں کا جو تخمینہ لگایا ہے تو اس کے مطابق 2019 تک 140 روپے سے کم قیمت میں گنا خریدا گیا اور 2019 میں کمیشن بننے کے بعد گنے کی خریداری مہنگی ہوئی تو اس کی زیادہ قیمت کے اثرات کا اطلاق چینی کی قیمت میں اضافے پر نہیں ہوتا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ کچھ ملز میں کچی پرچی کا نظام ہے، گنے کی خریداری کے لیے سی پی آر کے بجائے کچی پرچی پر ادائیگیاں کی جاتی ہیں جہاں قیمت 140 روپے سے بھی کم ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بیچ میں کمیشن ایجنٹس کو استعمال کیا جاتا ہے جن کے ذریعے کسانوں سے گنا اور زیادہ کم دام میں خریدا جاتا اور نقصان کسان کو ہوتا ہے جو بہت مشکل سے کاشتکاری کا نظام چل رہا ہے، ایک نظام کے تحت اس سے کم قیمت پر گنا خریدا جاتا ہے اور چینی کی پیداواری لاگت میں قیمت زیادہ ظاہر کی جاتی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام کو کس طرح لُوٹا گیا اور وہ پیداواری لاگت میں ہیرا پھیری ہے، انکوائری کمیشن کے مطابق ایک کلو چینی کتنے میں بنتی ہے اس کا آج سے پہلے آزاد آڈٹ نہیں کیا گیا تھا۔

شہزاد اکبر نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں شامل 3 سالوں کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان قیمتوں میں پیداواری لاگت میں ٹیکس شامل نہیں ہے، شوگر ملز نے 18-2017 کی جو پیداواری لاگت دی وہ 51 روپے فی کلو جبکہ فرانزک آڈٹ نے اس کی قیمت 38 روپے متعین کی ہے جو تقریباً 13 روپے کا فرق ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گنا کم قیمت پر خرید کر زیادہ قیمت ظاہر کی جاتی ہے اور اس اضافی قیمت کو پیداواری لاگت میں شامل کیا جاتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی مصنوعات بگاس (گنے کی پھوک) اور مولیسس دونوں کی قیمت کو کم ظاہر کیا جاتا ہے جب شوگر کمیشن نے صحیح طریقے سے تعین کیا تو پیداواری لاگت میں فرق آگیا۔