امریکی صدر نے طبی محققین کے نتائج کو ’ٹرمپ دشمن بیان‘ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ مئ 23 2020

ای میل

ڈونلڈ ٹرمٹ طبی ماہرین کی وارننگ کو نظر انداز کرکے سماجی دوری ختم کرنا چاہتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈونلڈ ٹرمٹ طبی ماہرین کی وارننگ کو نظر انداز کرکے سماجی دوری ختم کرنا چاہتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے متعلق طبی محققین کے نتائج کو ’ٹرمپ دشمن بیان‘ اور ’سیاسی پذیرائی کا حربہ‘ قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس سے متعلق طبی ماہرین کی وارننگ کو پیچھے دھکیل کر سماجی دوری کو ختم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا: انسداد ملیریا دوا کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے خطرناک ہے، محققین

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دو مختلف طبی تحقیق کو اپنے مؤقف سے متضاد سمجھتے ہوئے انہیں ’ٹرمپ دشمن بیان‘ قرار دیا۔

امریکی صدر نے نہ صرف تحقیق کی دریافتوں کو مسترد کیا بلکہ بغیر کسی ثبوت کے محققین کو ’سیاست‘ قرار دے دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ مذکورہ محققین لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کرنے کی ان کی کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

پہلی تحقیق امریکی حکومت کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے فراہم کی تھی جس میں ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کے استعمال کے بارے میں خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر آپ ایک سروے پر نظر ڈالیں، جو خراب سروے ہے، وہ لوگ بہت پرانے اور فرسودہ ہیں‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ ٹرمپ دشمن بیان تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ایک اور تجرباتی دوا کی آزمائش

علاوہ ازیں دوسری طبی تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ نے پیش کی۔

جس میں انکشاف کیا گیا کہ وائرس سے مرنے والے 36 ہزار افراد کو سماجی دوری کے ذریعے بچایا جاسکتا تھا۔

جس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’کولمبیا کا ایک ایسا ادارہ جو بہت آزاد خیال ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ حقیقت جاننا چاہتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ یہ محض سیاسی پذیرائی کے لیے ایک حربہ ہے۔

صحت عامہ کے ماہر اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے لا پروفیسر لیری گوسٹن نے ٹرمپ کے بیان کو ’مایوسی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر صدر سائنس پر سیاست کر رہے ہیں، اگر وہ صحت کے ماہرین کو جھوٹا کہہ رہے ہیں تو عوام خوفزدہ اور الجھن میں پڑ جائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملیریا کی کلوروکوئن دوائی کو وائرس کے مریضوں کے لیے موثر قرار دے چکے ہیں حالانکہ دنیا بھر میں تاحال کوئی ایسے تحقیق سامنے نہیں آئی جو اس بات کی تصدیق کرسکے کہ مذکورہ دوائی کورونا کے خلاف ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کووڈ 19 کیلئے تجویز کردہ ادویات نقصان دہ قرار

بعد ازاں امریکا کے ادارے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے عام افراد کو ان 2 ادویات کو استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیا تھا جن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے نوول کورونا وائرس کا ممکنہ علاج قرار دیا ہے۔

مارچ کے وسط سے 24 اپریل تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لگ بھگ 50 بار ان ادویات کا حوالہ دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ ادویات کورونا وائرس کے خلاف 'گیم چینجر' ہیں، مگر مسلسل ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ان سے کووڈ 19 کے مریضوں کو کوئی مدد نہیں مل سکتی بلکہ فائدے کی بجائے نقصان کا امکان زیادہ ہے۔