پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنا افغان امن کو فروغ دینے کا راستہ

اپ ڈیٹ 29 مئ 2020

ای میل

امریکا، افغانستان اور ازبکستان کے اجلاس میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑ کر پورے خطے میں خوشحالی لانے پر غور کیا گیا۔ فائل فوٹو:اے پی
امریکا، افغانستان اور ازبکستان کے اجلاس میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑ کر پورے خطے میں خوشحالی لانے پر غور کیا گیا۔ فائل فوٹو:اے پی

واشنگٹن: امریکا، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان سہ فریقی فورم کے افتتاحی اجلاس میں ایسے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا جو جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑ کر پورے خطے میں خوشحالی لائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں جن منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان ریلوے روابط اور ایک گیس پائپ لائن شامل ہے جو پاکستان کے راستے بھارت تک جائے گی۔

اس طرح کے تمام روابط افغانستان اور پاکستان سے گزرتے ہیں اور صرف اسی صورت میں تعمیر ہوسکتے ہیں جب افغانستان کے ساتھ ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن ہو۔

علاقائی خوشحالی کی طرف پہلے قدم کے طور پر تینوں حکومتوں نے ‘عید کے سلسلے میں کی گئی جنگ بندی کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی اور افغانستان کے جنگ بندی سے پہلے کی سطح پر واپس نہ لوٹنے کی ضرورت پر زور دیا‘۔

امریکی سیکریٹری برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل نے کورونا وائرس کی وجہ سے ویڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ افتتاحی سیشن کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ عبد العزیز کاملوف نے اپنی حکومتوں کی نمائندگی کی۔

شرکا نے ازبکستان کو پاکستان اور اس سے آگے بندرگاہوں سے منسلک کرنے والی ریلویز کی تعمیر کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جس میں خاص طور پر مزار شریف، ہرات، بہرماچہ اور مزار شریف-کابل-طورخم کے راستے شامل ہیں۔

انہوں نے مجوزہ ایک ہزار 814 کلومیٹر طویل ترکمنستان-افغانستان-پاکستان اور بھارت پائپ لائن کا بھی جائزہ لیا۔

اس منصوبے کا آغاز 1995 میں اس وقت ہوا تھا جب ترکمانستان اور پاکستان نے ترکمانستان سے قدرتی گیس کو جنوبی ایشیا لانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

تاہم افغانستان کی صورتحال نے اس منصوبے کو روک دیا تھا۔

خیال رہے کہ ازبکستان کے وزیر خارجہ عبد العزیز کاملوف کی سربراہی میں ازبکستان کے ایک سرکاری وفد نے نومبر 2018 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستانی عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے مابین ریلوے کے رابطے کی تعمیر کی تجویز پیش کی تھی جو افغانستان سے گزرے گی۔

علاوہ ازیں مختلف بین الاقوامی فورمز پر تبالہ خیال کی گئی تجاویز میں پاکستانی بندرگاہوں کو وسط ایشا سے جوڑنے کے لیے مختلف راستوں کو تلاش کیا گیا جس میں ایک ہزار 658 کلومیٹر کشکا (ترکمانستان) -تورگھنڈی (افغانستان) ہرات قندھار-چمن اور کراچی کا راستہ، ایک ہزار 968 کلومیٹر طویل ٹرمیز (ازبکستان) -کابل - قندھار - چمن - کراچی کا راستہ، 2 ہزار 318 کلومیٹر طویل ٹرمیز۔ کابل۔ پشاور۔ کراچی بندرگاہ کا راستہ، 3 ہزار 517 کلومیٹر الماتی (قازقستان) -توروگارٹ (چین) - خنجراب - گلگت - راولپنڈی - کراچی کا راستہ، 2 ہزار 575 کلومیٹر کا اشک آباد (ترکمانستان) -بدجیگیران (ایران) زاہدان- تفتان کوئٹہ - کراچی کا راستہ اور 3 ہزار 600 کلومیٹر طویل باکو (آذربائیجان) آسٹرہ (ایران) زاہدان - تفتان کا راستہ شامل ہے۔