عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کے خلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 30 مئ 2020

ای میل

ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

عالمی ادارہ صحت اور 37 ممالک نے کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹنٹ قوانین اس اہم ترین اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے اس اقدام کو زیادہ تر تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پذیرائی ملی۔

ترقی پذیر اور چند چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ امیر ممالک ویکسین کی تلاش میں وسائل بروئے کار لارہے ہیں اور وہ کامیابی کے بعد اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 65 ہزار 317 کورونا کیسز، 24 ہزار سے زائد صحتیاب

کوسٹا ریکا کے صدر کارلوس الوارادو کا کہا تھا کہ ’ویکسینز، ٹیسٹس، ڈائیگنوسٹکس، علاج اور دیگر اہم چیزیں کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے اہم ہیں اور انہیں عالمی سطح پر عوام کی بہتری کے لیے دستیاب ہونا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ ان اقدامات کو سب سے پہلے مارچ میں پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد سائنس کے علم، ڈیٹا اور نجی ملکیت کو دنیا بھر کو متاثر کرنے والی وبا کی وجہ سے عام کرنا تھا۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ گزشتہ برس کے آخر سے چین سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 58 لاکھ افراد متاثر اور 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرل کا بنگلہ دیشی کمپنی کے ساتھ ریمڈیسیور کی درآمد کا معاہدہ

علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے اسٹیک ہولڈرز سے اس عمل میں رضاکارانہ طور پر ساتھ دینے کے لیے ’سالڈیرٹی کال ٹو ایکشن‘ جاری کیا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے ایک آن لائن نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’ڈبلیو ایچ او تسلیم کرتا ہے کہ جدت کے لیے پیٹنٹس اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم یہ وقت لوگوں کو ترجیح دینے کا ہے‘۔