کورونا وائرس: سرل کا بنگلہ دیشی کمپنی کے ساتھ ریمڈیسیور دوا کی درآمد کا معاہدہ

اپ ڈیٹ مئ 30 2020

ای میل

سرکاری اور کووِڈ 19 کے علاج کے لیے مختص ہسپتالوں میں یہ دوا عطیہ کی جائے گی—فائل فوٹو: اے پی
سرکاری اور کووِڈ 19 کے علاج کے لیے مختص ہسپتالوں میں یہ دوا عطیہ کی جائے گی—فائل فوٹو: اے پی

کراچی: مقامی ادویہ ساز کمپنی نے کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہونے والی دوا ریمڈیسیور کی عمومی قسم بنگلہ دیشی کمپنی سے درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریش (ایف ڈی اے) کی جانب سے اس دوا کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔

مذکورہ دوا جاپان اور برطانیہ کے ہسپتالوں میں بھی کورونا وائرس کی شدید علامات والے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔

سرل کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کمپنی نے بنگلہ دیشی کمپنی بیکسمو فارماسوٹیکلز کے ساتھ لائسنسنگ اور مارکیٹنگ کا خصوصی معاہدہ کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاکستان میں کورونا کے علاج میں مؤثر دوا 'ریمڈیسیور' کی تیاری جلد شروع ہوگی'

سرل کے بزنس ڈیولپمنٹ ڈائریکٹریٹ محمد ساجد نے بتایا کہ ’یہ دنیا کی وہ پہلی کمپنی ہے جس نے اس دوا کا عمومی ورژن متعارف کروایا ہے، ہماری شراکت داری قابلِ خرید قیمت پر اس دوا کی فوری سپلائی فراہم کرے گی اور پاکستان میں ہیلتھ ورکرز کو بغیر کسی تاخیر کے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں مدد کرے گی'۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے عالمی وبا کے خاتمے تک اس درآمدات سے کوئی نفع حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ سرکاری اور کووِڈ 19 کے علاج کے لیے مختص ہسپتالوں میں یہ دوا عطیہ کی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں دوا کی قیمت اور مقدار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک پتے کی قیمت 70 امریکی ڈالر (تقریباً 11 ہزار 440 روپے) ہے اور بیماری کی شدت کو مدِ نطر رکھتے ہوئے ایک مریض کو 6 سے ایک درجن خوراک تک دی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: 75 سال پرانی دوا کورونا وائرس کو شکست دینے کی کنجی ثابت ہوگی؟

انہوں نے بتایا کہ ’ریمڈیسیور براہ راست اثر کرنے والی وائرل دوا ہے جو آر این اے (رائنوکلیک ایسڈ) کی ترکیب کو روکتی ہے اور اسے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے تجویز کیا جارہا ہے‘۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرل نے ضروری ریگولیٹری کارروائی کے لیے متعلقہ پاکستانی حکام کے سامنے یہ معاملہ رکھ رہا ہے اور وہ پر اعتماد ہے کہ حالیہ وبا کے دوران متعلقہ حکام دوا کی دستیابی کے لیے اس معاملے کو فوری طور پر دیکھیں گے۔

دوسری جانب انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’دوا کو پیشنٹ ایکسز پروگرام کےتحت بھی درآمد کیا جاسکتا ہے جو ہسپتالوں کی ڈیمانڈ پر دوا کی برآمدات کی اجازت دیتی ہے‘۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے گزشتہ چند برسوں میں ادویہ سازی کی صنعت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک اینٹی پیراسیٹک دوا کورونا وائرس کے خلاف مؤثر قرار

ان میں سے کچھ بنگلہ دیشی کمپنیاں ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہیں اور ان کی مصنوعات امریکا برآمد کی جاری ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں ریمڈیسیور کا کلینکل ٹرائل جاری ہے، ابتدائی اعداد و شمار تجویز کرتے ہیں کہ یہ صحتیابی کا دورانیہ 4 روز تک کم کرسکتی لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اس سے زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

قبل ازیں رواں ماہ کے اوائل میں فیروز لیبارٹریز نے اعلان کیا تھا کہ امریکی کمپنی گیلیڈ کے ساتھ ایک لائسنسگ کا معاہدہ کرنے کے بعد وہ پاکستان میں یہ دوا تیار کرسکتے ہیں تاہم کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ دوا کی تیاری میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔


یہ خبر 30 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔