سپریم کورٹ: کمرہ عدالت میں سماجی دوری پر عمل نہ ہونے پر چیف جسٹس برہم

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے تحت حکومت کی طرف سے دیئے گئے تازہ ترین ایس او پیز کے مطابق تمام ججز ماسک پہنے ہوئے تھے۔ فائل فوٹو:اے پی پی
کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے تحت حکومت کی طرف سے دیئے گئے تازہ ترین ایس او پیز کے مطابق تمام ججز ماسک پہنے ہوئے تھے۔ فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے پیر کو سپریم کورٹ میں سماجی دوری کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے 5 ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے سماعت کے دوران سوال کیا کہ کمرہ عدالت بھرا ہوا کیوں ہے؟

انہوں نے کمرہ عدالت میں موجود وکلا، میڈیا نمائندگان اور عوام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’سماجی دوری کے فارمولے کا کیا ہوا؟، آپ کون ہیں اور یہاں کیوں بیٹھے ہیں‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‘میں نہیں چاہتا کہ اس عدالت میں کچھ ہو، آپ کو سماجی دوری کی پروا کرنی چاہیے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں‘۔

مزید پڑھیں: کورونا سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، وزیر اطلاعات

کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے تحت حکومت کی طرف سے دیے گئے حالیہ ایس او پیز کے تحت تمام ججز ماسک پہنے ہوئے تھے۔

چیف جسٹس نے سماجی دوری کی خلاف ورزی پر اپنی تشویش ایسے دن ظاہر کی جب عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ جاری کی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ کورونا وائرس یا کووڈ-19 کا اثر عالمی سطح پر سامنے آیا ہے تاہم کم آمدنی والے ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مئی کے 3 ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر 154 ممالک میں کی گئی تحقیق کے مطابق کووڈ 19 وبائی مرض کے ابتدائی دنوں کے بعد سے غیر مواصلاتی بیماریوں (این سی ڈی) کی روک تھام اور علاج کی خدمات شدید متاثر ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ یہ صورتحال خاصی تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایسے لوگ جنہیں این سی ڈی ہے، ان میں کورونا وائرس سے متعلق بیماری اور موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ ‘سروے کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جو ہم کئی ہفتوں سے ممالک سے سن رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ جنہیں کینسز، امراض قلب اور ذیابیطس جیسی بیماریوں سے علاج کی ضرورت ہے انہیں کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے وہ صحت کی سہولیات اور ادویات نہیں مل رہی ہیں جن کی انہیں سخت ضرورت ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ کورنا وائرس سے لڑنے کے دوران این سی ڈی کے لیے ضروری خدمات جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ممالک جدید طریقہ تلاش کریں۔

خدمات میں وسیع پیمانے پر رکاوٹیں

اس تحقیق سے اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ متعدد ممالک میں صحت کی خدمات جزوی یا مکمل طور پر درہم برہم ہوچکی ہیں۔

سروے کیے گئے 155 ممالک میں سے نصف سے زائد (53 فیصد) نے ہائیپر ٹینشن (بلند فشار خون) ، ذیابیطس اور ذیابیطس سے متعلق پیچیدگیوں کے علاج کے لیے 49 فیصد، کینسر کے علاج کے لیے 42 فیصد اور امراض قلب کے علاج کے لیے 31 فیصد تک خدمات کو جزوی یا مکمل طور پر معطل کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کس قسم کی ٹیم کورونا پر کام کررہی ہے، اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں، سپریم کورٹ

ممالک کے تقریبا دو تہائی (63 فیصد) میں ری ہیبلیٹیشن (بحالی) کی خدمات درہم برہم ہوگئی ہیں جبکہ کووڈ-19 سے بری طرح متاثر ہونے کے بعد صحت مند بحالی کے لیے یہ کلیدی کردار ادا کری ہیں۔

اس کے علاوہ جواب دہندہ زیادہ تر (94 فیصد) ممالک میں این سی ڈی پر کام کرنے والی وزارت صحت کے عملے کو جزوی طور پر یا مکمل طور پر کورونا وائرس کی خدمات کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔

عوامی اسکریننگ کے پروگراموں (جیسے چھاتی اور سروائیکل کینسر) کو بھی بڑے پیمانے پر ملتوی کردیا گیا ہے جس کی اطلاع 50 فیصد سے زائد ممالک نے دی ہے، یہ پروگرام وبائی مرض سے نمٹنے کے دوران فوری ضروری سہولیات پر مبنی نگہداشت کو کم سے کم کرنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ابتدائی سفارشات کے مطابق تھا، تاہم خدمات کو بند کرنے یا کم کرنے کی سب سے عمومی وجہ پہلے سے طے شدہ علاج کو معطل کرنا، پبلک ٹرانسپورٹ میں کمی اور عملے کی کمی تھی کیونکہ ہیلتھ ورکرز کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دوبارہ تفویض کیا گیا تھا۔