امریکا میں ٹرمپ کے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد فسادات میں مزید شدت

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

بروکلین کی گلیوں میں انصاف کے نعروں کی گونج میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا—فوٹو:رائٹرز
بروکلین کی گلیوں میں انصاف کے نعروں کی گونج میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا—فوٹو:رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد فسادات میں مزید شدت آگئی۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے چرچ جانے کا راستہ صاف کیا۔

مزید پڑھیں:امریکا کے متعدد شہروں میں کرفیو، بائیں بازو کی تنظیم انٹیفا دہشتگرد قرار

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے فوج بھیجنے کے بیان کے بعد احتجاج میں شدت آگئی اور وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ساتویں روز بھی فسادات پھوٹ پڑے۔

—فوٹو:رائٹرز
—فوٹو:رائٹرز

مظاہرین نے لاس اینجلس میں ایک شاپنگ مال کو نذر آتش کیا اور نیویارک سٹی میں اسٹورز میں لوٹ مار کی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 'کشیدگی کے خاتمے تک میئرز اور گورنر قانون کی سخت عمل داری قائم کریں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی شہر یا ریاست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے انکار کرے تو امریکا کی فوج تعینات کردوں گا اور ان کے مسائل فوراً حل ہوں گے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ بیان جاری کرنے کے بعد اسی راستے سے سینٹ جانز چرچ پہنچے جس کو پولیس نے مظاہرین سے صاف کروایا تھا، انہوں نے بائبل کو اٹھائے اپنے بیٹی ایوانکا اور امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کے ہمراہ تصاویر بنوائیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم چرچ کے بشپ مائیکل کیوری بھی ٹرمپ کی جانب سے تاریخی چرچ کو تصاویر بنوانے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کرنے میں شامل ہوگئے۔

بشپ مائیکل کیوری نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ 'امریکی صدر سینٹ جانز چرچ کے سامنے کھڑے ہوئے، بائبل اٹھائی اور اپنی تصاویر کھینچیں، اس طرح انہوں نے چرچ کی عمارت اور بائبل کو جانب دارانہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا'۔

تاریخی چرچ کو گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران معمولی نقصان بھی پہنچا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں مظاہرین کے خلاف تعینات کی گئیں فورسز میں ملٹری پولیس نیشنل گارڈ، سیکرٹ سروس، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی پولیس اور کولمبیا کی ضلعی پولیس شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں مظاہروں میں شدت، 16 ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ علاقے کو کرفیو کے نفاذ کے بعد خالی کروالیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں فسادات کے بعد ہزاروں مظاہرین نے بروکلین کی گلیوں میں مارچ کیا اور 'اب انصاف' کے نعرے لگائے جبکہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے کئی شہریوں نے بھی ان کی حمایت کی۔

ٹیلی وژن میں دکھائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رات کے کرفیو کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی مین ہٹن کے ففتھ ایونیو میں کھڑکیاں توڑی گئی ہیں اور مہنگی اشیا کو لوٹا لیا گیا۔

ہالی ووڈ میں آتشزدگی

ہالی ووڈ سے موصول ہونے والی فوٹیجز میں بھی ایک میڈیکل اسٹور میں شہریوں کو لوٹ مار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں اسٹور کا دروازہ، کھڑکیاں توڑی جا چکی ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر دو ریستوانٹس کو نقصان پہنچانے سے قبل ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو ناکام بنادیا۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست مینسوٹا میں گزشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں 46 سالہ سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاج شروع ہوا تھا اور بعد ازاں فسادات میں تیزی آئی، جو مسلسل جاری ہے۔

جارج فلائیڈ کے اہل خانہ کی جانب سے دوسرے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کی رپورٹ بھی جاری کردی گئی ہے۔

دوسری رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ ان کی موت دم گھٹنے سے ہوئی اور تین افسران نے ان کے قتل میں معاونت کی۔

مزید پڑھیں:امریکا:شہری کی ہلاکت کے خلاف کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد کا احتجاج

ہنیپین کاؤنٹی میڈیکل ایگزامنر نے بھی اپنی رپورٹ جاری کی اور اس میں بھی جارج فلائیڈ کی موت دم گھٹنے سے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے،

کاؤنٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جارج فلائیڈ کو پولیس کی حراست میں دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔

جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث سفید فام پولیس افسر ڈیریک چاوین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف تھرڈ ڈگری ٹارچر سے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ڈیریک چاوین ان 4 افسروں میں سے ایک ہیں جنہیں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور ان کے خلاف تھرڈ ڈگری ٹارچر کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ڈیریک چاوین نے ہی جارج فلائیڈ کی گردن پر پوری طاقت سے 5 منٹ تک گھٹنا ٹکائے رکھا تھا جس سے سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی۔