سعودی عرب: کرفیو و لاک ڈاؤن نرم کرنے کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ

اپ ڈیٹ 03 جون 2020

ای میل

سعودی عرب میں کیسز کی تعداد 89 ہزار سے تجاوز کر گئی—فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب میں کیسز کی تعداد 89 ہزار سے تجاوز کر گئی—فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب کی حکومت نے 20 روز سے زائد تک ملک بھر میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد 26 مئی سے کرفیو و لاک ڈاؤن کو نرم کردیا تھا۔

سعودی حکومت نے مکہ مکرمہ کے علاوہ تمام ریاستوں اور علاقوں سے جزوی طور پر کرفیو کو ختم کیا تھا جب کہ اس سے قبل ہی سلسلہ وار حکومت نے لاک ڈاؤن کو نرم کرنا شروع کیا تھا۔

سعودی حکومت نے مئی کے اختتام تک لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرتے ہوئے جہاں مساجد کو عام افراد کے لیے کھول دیا تھا، وہیں دیگر کاروبار کو کھولنے کی اجازت بھی دی تھی۔

تاہم کرفیو و لاک ڈاؤن کو نرم کیے جانے کے بعد وہاں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور 2 جون سے 3 جون کے درمیان 24 گھنٹوں کے اندر 1800 سے زائد نئے کیسز رپورٹ کیے گئے۔

عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے تصدیق کی کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1869 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ترجمان کے مطابق نئے کیسز کے بعد ملک میں مجموعی طور پر کیسز کی تعداد 89 ہزار سے تجاوز کر گئی جب کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا کے 138 افراد ہلاک ہوگئے۔

ترجمان نے بتایا کہ نئی ہلاکتوں کے بعد سعودی عرب میں اموات کی تعداد 549 تک جا پہنچی جب کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 ہزار 340 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ کے سوا سعودی عرب میں کرفیو جزوی طور پر اٹھا لیا گیا

ترجمان کے مطابق سعودی عرب میں کورونا کے 70 فیصد مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور مجموعی طور پر صحت یاب مریضوں کی تعداد 65 ہزار 790 تک جا پہنچی ہے۔

ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اس وقت محض 22 ہزار 667 مریض کورونا میں مبتلا ہیں جن میں سے 1264 افراد انتہائی علیل یا تشویش ناک حالت میں ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان نے ملک میں بڑھتے کیسز کو کرفیو یا لاک ڈاؤن کو نرم کرنے سے نہیں جوڑا اور بتایا کہ وزارت صحت وبا پر قابو پانے کے لیے تمام تر وسائل خرچ کر رہی ہے۔

مسجد نبوی کو کھول دیا گیا

پہلے ہی دن مسجد نبوی میں 93 ہزار سے زائد نمازیوں نے نماز ادا کی—فوٹو: سعودی گزٹ
پہلے ہی دن مسجد نبوی میں 93 ہزار سے زائد نمازیوں نے نماز ادا کی—فوٹو: سعودی گزٹ

مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی کو بھی 31 مئی کے روز کھول دیا گیا اور تقریبا 45 دن بعد پہلی بار شہریوں نے مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی۔

سعودی گزٹ کے مطابق حرمین شریفین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسجد نبوی کے کھلنے کے پہلے ہی روز 93 ہزار 774 نمازیوں نے وہاں نماز ادا کی۔

مزید پڑھیں: مسجد نبوی کو عوام کے لیے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسجد نبوی کے 11 دروازے 31 مئی کی صبح کی نماز سے ایک گھنٹہ قبل ہی کھول دیے گئے تھے اور تمام نمازیوں کو سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے بعد ہی مسجد میں جانے کی اجازت دی گئی۔

مسجد کے کھلنے کے پہلے ہی دن سب سے زیادہ 40 ہزار سے زائد نمازیوں نے مغرب کی نماز ادا کی اور اس دوران سماجی فاصلے کو اختیار کیا گیا۔

خیال رہے کہ مسجد نبوی سمیت سعودی عرب کی دیگر مساجد کو 20 مارچ کو بند کیا گیا تھا تاہم 30 اور 31 مئی کے بعد سعودی عرب کی ہزاروں مساجد کو کھول دیا گیا۔

مسجد نبوی کو نمازیوں کے لیے 20 مارچ کو بند کیا گیا تھا—فوٹو: اناطولو ایجنسی
مسجد نبوی کو نمازیوں کے لیے 20 مارچ کو بند کیا گیا تھا—فوٹو: اناطولو ایجنسی