ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے ایک دن میں 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 2900 نئے کیسز سامنے آئے—تصویر: اے پی
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 2900 نئے کیسز سامنے آئے—تصویر: اے پی

اسلام آباد: ملک میں کورونا وائرس کی دن بدن بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر ایک دن میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جن کی تعداد 20 ہزار 167 ہے جبکہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر ملک کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کی گئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 3 جون کو کورونا وائرس کے 20 ہزار 167 ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک ملک میں وائرس کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد 6 لاکھ 10 ہزار ہو چکی ہے۔

پاکستان جو کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کے لحاظ سے چین کو پیچھے چھوڑ چکا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 2900 نئے کیسز سامنے آئے جس سے مجموعی تعداد 86 ہزار 139 تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات نے لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق حکومتی فیصلے پر غلطی تسلیم کرلی

اسی طرح 24 گھنٹوں کے دوران مزید 64 افراد کی موت سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 793 تک جا پہنچی۔

گزشتہ ماہ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ ملک میں اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کافی رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس وقت ہم 25 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جون کے آغاز سے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کیے جاسکیں گے۔

اس ضمن میں جب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ چند روز سے ملک میں یومیہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا کیسز چین سے زیادہ، مجموعی متاثرین 86 ہزار سے تجاوز کرگئے

کیسز میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ پاکستان زیادہ آبادی کے ساتھ ایک بڑا ملک ہے جہاں 25 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اس لیے انسانوں کے میل جول اور اکٹھا رہنے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کا گراف بھی اس مہینے کے اختتام تک آنے والے ہفتوں میں ہموار ہوجائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ’مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ روزانہ کے کیسز میں اس قسم کے اضافے کے بعد کیس کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی ہے‘۔

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائیاں

دوسری جانب ملک میں عوامی مقامات کے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے پر این سی او سی کی تجویز پر سخت کارروائیاں کی گئیں۔

متعلقہ حکام نے ملک بھر میں 727 مقامات پر لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔

این سی او سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 115 افراد کو جرمانے اور 83 دکانوں اور 22 صنعتی یونٹس سیل کیے گئے علاہ ازیں 42 پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی جرمانہ کیا گیا۔