پیٹرول کی قیمتوں کا طریقہ کار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 08 جون 2020

ای میل

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب او ایم سیز، ایچ او بی سی کے معاملے میں کارٹیلائزیشن جیسے رویے پر تنقید کی زد میں ہیں
—فائل فوٹو: اے ایف پی
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب او ایم سیز، ایچ او بی سی کے معاملے میں کارٹیلائزیشن جیسے رویے پر تنقید کی زد میں ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرول کی مسلسل قلت کے باعث حکومت نے پیٹرول کی قیمت اور مارکیٹنگ کو 'مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ' کرنے اور قیمتوں کے یکساں تعین کا طریقہ کار ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب آئل مارکیٹنگ کمپنیز(او ایم سیز) ہائی اوکٹین بلینڈنگ کمپونینٹ (ایچ او بی سی) کے معاملے میں کارٹیلائزیشن جیسے رویے پر تنقید کی زد میں ہیں۔

خیال رہے کہ ایچ او بی سی ایک اور ڈی ریگولیٹڈ مصنوعات ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود اس میں کمی نہیں دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرول کی 'مصنوعی قلت' کا ذمہ دار قرار دے دیا

میڈیا کی تنقید کے باعث آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 5 جون کو ایچ او بی سی کی غیر ضروری طور پر زیادہ قیمت پر کچھ او ایم سیز کو تنبیہ کی تھی جبکہ سازشی طریقوں پر معاملے کو مسابقتی کمیشن(سی سی پی) میں لے جانے کا عندیہ دیا تھا۔

او ایم سیز سے بات چیت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول کی قیمت جسے عام طور پر آئل انڈسٹری کی جانب سے موگاس 92 کہا جاتا ہے کو، گزشتہ ماہ کے پلیٹز آئل گرام سے منسلک کرنے کا اصولی فیصلہ کیا تاکہ قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کے بجائے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی اصل درآمدی قیمت کی بنیاد پر قیمتیں طے کی جائیں۔

ڈان کی جانب سے دیکھے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکام نے انڈسٹری کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فریکونسی ماہانہ رہے گی کیونکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے اسے 15 روزہ بنیاد پر منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تاہم قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو پلیٹز آئل گرام پریویس منتھ ایوریج میں تبدیل کیا جائے گا۔

اسی طرح ایچ او بی سی کی طرز پر پیٹرول کی قیمت بھی مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ ہوجائے گی جس میں او ایم سیز اور ڈیلرز کے کمیشنز بھی شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں پیٹرول کی قلت، مسابقتی کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا

علاوہ ازیں حکومت نے یہ اتفاق بھی کیا ہے ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے طریقہ کار کو بھی ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا جسے اس وقت ملک بھر میں قیمتیں یکساں رکھنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ قیمتیں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک آئل کمپنی سے دوسری کمپنی سے مختلف ہوں گی۔

علاوہ ازیں پورٹس اور ریفائنریز کے قریب موجود صارفین فائدے میں رہیں گے کیونکہ وہ کم قیمت پر پیٹرول حاصل کرسکیں گے جبکہ پورٹس اور آئل کی تنصیبات سے دور رہنے والے افراد کو زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔

مزید برآں اصل ٹرانسپورٹیشن کی قیمت پر منحصر ہونے کے باعث قیمتوں فی لیٹر ایک سے 5 روپے تک کا فرق ہوسکتا ہے۔