کیا ہمارے دندان ساز صدر کو کچھ پتا نہیں؟

ای میل

لکھاری مصنف ہیں۔
لکھاری مصنف ہیں۔

آپ وکیلوں سے یہی توقع وابستہ رکھتے ہیں کہ وہ ہر بات سوچ سمجھ کر ہی بولیں گے اور بنا سوچے تو کوئی بھی بات منہ سے نہیں نکالیں گے۔ مگر کچھ مواقع پر منہ سے بنا سوچے سمجھے نکلی باتیں معقول باتوں پر غالب آجاتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں چلنے والے جسٹس قاضی عیسیٰ کیس کی کارروائیوں سے متعلق حال ہی میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بینچ کے ایک قابل جج نے کہا کہ صدر کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس بارے میں ایک آزاد رائے ضروری تھی کہ آیا انہیں موصول ہونے والی معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کرنے لائق ہے بھی یا نہیں۔

اس پر حکومت کے وکیل نے عدالت کے سامنے ایک ایسی بات کہی جس نے صدیوں پرانے آئینی و قانونی طریقہ عمل کا ستیا ناس کرکے رکھ دیا۔

حکومت کے وکیل نے کہا کہ چونکہ صدر پیشے کے اعتبار سے داندان ساز رہے ہیں اور وزیرِاعظم آکسفورڈ گریجویٹ ہونے کے ساتھ کرکٹر رہے ہیں اس لیے یہ رائے قائم کرنا ٹھیک نہیں ہے کہ صدر اور وزیرِاعظم بہترین قانونی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے اس تھکے ہارے اعتراف کے ساتھ بات کو سمیٹا کہ گورننس کا پورا نظام سیکریٹریوں اور سمریوں کے ذریعے ہی کام کرتا ہے۔

کیا وہ قدیم اصول ‘ignorantia juris non excusat’ (قانون کی لاعلمی کوئی بہانہ نہیں) بھول بیٹھے تھے؟ دیگر شہریوں کی طرح صدر اور وزیرِاعظم سے یہ توقع وابستہ کی جاتی ہے کہ وہ قانون کا علم رکھتے ہوں اگر نہیں رکھتے تو کسی ایسے شخص کا سہارا لیا جائے جو قانون جانتا ہو۔ یا پھر کیا یہ اپنے پیشروؤں کی طرح قانون سے بالا، قانون سے آزاد یا قانون سے نیچے کی حیثیت رکھتے ہیں؟

انہی وکیل نے ایک ہی لمحے میں ہمارے 1973ء کے آئین میں درج اس تحفظ پر لکیر پھیر دی جو صدر کو کسی بھی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرنے، کم کرنے یا معاف کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ایک دندان ساز رحم کی اپیلوں کی صورت میں کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہے؟ یا پھر کیا سابق کرکٹر صدر کو منظوری کے لیے بھیجی جانے والی کسی بھی سمری پر دستخط کرنے سے پہلے اس پر اپنا ذہن دوڑانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے؟

وکیل نہ صرف قانون کے اسباق بلکہ اپنی تاریخ بھی بھول بیٹھے ہیں۔ انہیں 1965ء کا سال یاد ہونا چاہیے جب ایک دندان ساز نے بھرپور انداز میں پاکستان کی صدارت کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ اس امیدوار کا نام محترمہ فاطمہ جناح تھا جن کے مدِمقابل جنرل ایوب خان تھے۔ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوجاتیں تو دانت میں سوراخ بھرنے اور دانت نکالنے کے علاوہ صدارت کے سارے اختیارات بھی انہیں حاصل ہوجاتے۔

ان کا یہ دعوٰی انتہائی ناخوشگوار اعتراف ہے کہ 'گورننس کا پورا نظام' سول سرونٹوں پر منحصر ہے۔ انہیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ جس طرح بیوروکریٹس سے رولز آف بزنس کی پیروی کی توقع کی جاتی ہے ٹھیک اسی طرح منتخب نمائندگان بھی آئین کے تابع ہوتے ہیں۔ کیا وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وزیرِاعظم کسی آئینی بادشاہ کی مانند ہیں جس کا کام تخت پر بیٹھنا ہے لیکن حکمرانی کرنا نہیں؟ اگر ایسی ہی بات ہے تو اس طرح ذمہ داری کے بغیر اختیار کا استعمال کرنے والے ریاست کے چوتھے (صحافت) اور پانچویں (سوشل میڈیا) ستون کے بعد بیوروکریسی ریاست کا چھٹا ستون بن جائے گا۔

دراصل یہی وہ اخلاقی ابہام ہے جو یہاں اور برطانیہ میں حکومتوں کو مشکل سے دوچار کردیتا ہے۔ ہمارے وزیرِاعظم خصوصی معاونوں کی ایک کثیر تعداد رکھتے ہیں جو وزارتی احتساب کی بیڑیوں کے بغیر وزرا جیسا رویہ اپناتے ہیں، وزرا کی طرح کام کرتے ہیں اور وزرا کی طرح فیصلے کرتے ہیں۔ یہ وزیرِاعظم کے سوا کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوتے۔

کچھ اسی طرح برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن اپنے خصوصی مشیر ڈومنک کمنگز پر کچھ زیادہ ہی انحصار کرتے ہیں اور یہ بات وائٹ ہال اسٹیبلشمنٹ پر کسی بدنما داغ سے کم نہیں۔ حال ہی میں ڈومنک کمنگز اسی معاملے کی وجہ سے اس وقت مشکل سے دوچار ہوگئے جب میڈیا نے یہ خبر شائع کی کہ ڈومنک کمنگز نے لاک ڈاؤن کے انہی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے جنہیں مرتب دینے میں خود انہوں نے ہی مدد فراہم کی تھی۔

ڈومنک کمنگز اور جہانگیر ترین دونوں ایک غیر معمولی کامیابی میں برابر کے حصہ دار ٹھہرتے ہیں۔ دونوں نے اپنے زیرِ اثر افراد کو اقتدار کی راہداریوں تک پہنچایا۔ بورس جانسن کو کمنگز کی ہوشیار حکمت عملیوں نے 2019ء کے انتخابات میں کامیابی دلوائی تھی۔ دوسری طرف عمران خان پر جہانگیر ترین کا احسان ہے جسے محض جہانگیر ترین کی جانب سے تحفے میں دی گئی بلٹ پروف گاڑی کو لوٹا کر اتارا نہیں جاسکتا۔

آج دونوں وزرائے اعظم بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں اور دونوں کو ایک ہی غیر سیاسی دشمن کا سامنا ہے، جس کا نام کورونا وائرس ہے۔

دونوں کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس بحران میں سب سے بہتر راستہ کون سا ہے، اقتصادی دباؤ برداشت کیا جائے یا پھر انسانی نقصان؟ جانسن نے بیرونِ ملک سے آنے والوں کو 14 روزہ خود ساختہ تنہائی یا جرمانے کے عوض برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔ عمران خان ہماری سرحدیں کھول چکے ہیں اور لاک ڈاؤن کو دھرنوں کی طرح متروک قرار دے دیا ہے اور وہ 'بڑے گھروں اور بڑی آمدن والی' اشرافیہ پر اپنے غرض کی خاطر لاک ڈاؤن جاری رکھنے کے مطالبوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔

ان بحران زدہ حالات میں ماضی کی کچھ باتیں بھی ذہن میں آجاتی ہیں۔ 1774ء میں امریکا کی جانب سے آزادی کے مطالبے سے متعلق بات کرتے ہوئے ایڈمڈ برک نے کہا تھا کہ 'آپ کے منصوبے سے آمدنی حاصل نہیں ہوگی، کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا سوائے بے اطمینانی، بدنظمی اور نافرمانی کے'۔ یہاں سے آگے انہوں نے جو بات کہی اسے سن کر لگتا ہے کہ جیسے وہ ٹرمپ کے امریکا سے مخاطب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'اور امریکا کی حالت ایسی ہے جیسے آپ سر تک خون میں ڈوب گئے ہوں پھر بھی آپ اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں سے آپ نے ابتدا کی تھی۔۔۔ اس کے آگے کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے'.

اکثر و بیشتر لیڈران اور وکلا جگ ہنسائی کے لیے ہی لب کشائی کرتے ہیں۔ ہمارے دندان ساز صدر کو اس بات کا علم ہونا چاہیے۔


یہ مضمون 11 جون 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔