جب کورونا سے صحتیابی پر مریض کو 18 کروڑ روپے کا بل ملا

اپ ڈیٹ 24 جون 2020

ای میل

— فائل فوٹو: اے ایف پی
— فائل فوٹو: اے ایف پی

نئے کورونا وائرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ معمر افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے، مگر اکثر مریض کچھ ہفتے کے علاج کے بعد صحتیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

مگر ایک فرد کو صحتیابی کے بعد علاج کا بل دیکھ کر یقیناً اختلاج قلب کی شکایت ہوگئی ہوگی۔

70 سالہ مائیکل فلور نامی مریض کا تعلق سوئیڈن سے تھا، جسے پہلے لگا کہ وہ عام سی کھانسی کا شکار ہے۔

مگر بیوی کے اصرار پر وہ ڈاکٹر کے پاس گیا، جہاں کورنا وائرس کی تشخیص ہوئی اور حالت تیزی سے خراب ہونے لگی۔

اگلے 6 ہفتے تک ڈاکٹر اس شخص کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے رہے کیونکہ اس کے پھیپھڑے روز بروز کمزور ہورہے تھے۔

اسے بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشش کی، یعنی خون بدلنے سے لے کر تجرباتی ادویات کے استعمال تک کیا گیا۔

اس دوران مریض 4 ہفتے سے زیادہ وینٹی لیٹر پر بھی رہا، اس کا خون گاڑھا ہوکر جمنے لگا یعنی بلڈ کلاٹس، جبکہ اعضا کے افعال کام کرنے سے انکار کرنے لگیں، یعنی وہ موت کے منہ تک پہنچ گیا تھا۔

یہاں تک کہ طبی عملے نے مائیکل کی اہلیہ اور بچوں کو کہا تھا کہ وہ الوداع کہہ دیں، مگر وہ بھی فون پر کیونکہ وہ سب قرنطینہ میں تھے۔

مگر پھر مائیکل کی حالت غیرمتوقع طور پر بہتر ہونے لگی اور کورونا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا، جس پر طبی عملے نے اسے 'کرشماتی بچہ' قرار دیا۔

مائیکل کو سوئیڈن میں کورونا وائرس کے نتیجے میں سب سے زیادہ مدت تک ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والا مریض بھی قرار دیا جارہا ہے۔

2 ماہ کے بعد مائیکل کو آخرکار ہسپتال سے چھٹی مل گئی اور اب اسے وائرس پر قابو پانے کے ایک اور بڑی مشکل کا سامنا ہے۔

کرشماتی طور پر بچ جانے والے اس مریض کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب اسے علاج کا بل موصول ہوا۔

یہ بل 181 صفحات پر مشتمل تھا اور مجموعی طور پر مائیکل کو 10 لاکھ ڈالرز (10 کروڑپاکستانی روپے سے زائد) سے زیادہ ادا کرنے کا کہا گیا۔

مائیکل نے خود کہا 'میرا دل لگ بھگ دوسری بار میں کام کرنے سے انکار کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا جب مجھے ہسپتال کا بل ملا'۔

62 دن تک ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد مائیکل کو بھی اندازہ تھا کہ بل بہت زیادہ ہوگا۔

ہسپتال میں زیادہ وقت تک وہ بے ہوش ہی تھا مگر ایک بار ا نے اپنی اہلیہ سے کہا تھا 'تم کو مجھے یہاں سے نکالنا ہوگا، ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے'۔

یہ بل مجموعی طور پر 11 لاکھ 22 ہزار 501 ڈالرز (18 کروڑ 72 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) کا تھا اور کسی کتاب جیسا لگتا تھا کیونکہ اس میں 181 صفحات تھے۔

مثال کے طور پر آئی سی یو کے کمرے کا روزانہ کا خرچ ہی 9735 ڈالرز تھا جبکہ 29 دن تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا جس کا روزانہ کا بل 2835 ڈالرز تھا اور 25 فیصد بل ادویات کا تھا۔

مگر مائیکل کو اپنے بچنے پر خود بہت زیادہ حیرت تھی 'میں اپنے بچنے پر پچھتاوا محسو کررہا تھا، ایسا احساس تھا کہ آخر میں ہی کیوں؟ کیا میں اس کا حقدار تھا؟ اب اس بل دیکھ کر اس پچھتاوے کا احساس مزید بڑھ گیا'۔