’بھارت میں چینی اشیا کا بائیکاٹ قابل عمل نہیں ہوگا‘

اپ ڈیٹ 26 جون 2020

ای میل

بھارت کی جنوبی پورٹ چنائی پر چین سے آنے والی کھیپ کی سخت جانچ پڑتال سے سپلائی چین میں خلل پڑ سکتا ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
بھارت کی جنوبی پورٹ چنائی پر چین سے آنے والی کھیپ کی سخت جانچ پڑتال سے سپلائی چین میں خلل پڑ سکتا ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

نئی دہلی: بھارت کے بڑے ایکسپورٹ پروموشن گروپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا چینی اشیا کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہونے کی وجہ سے چینی اشیا کا بائیکاٹ کرنا قابل عمل نہیں تاہم نئی دہلی کو ان پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے اہم ترین چنائی پورٹ پر چین سے آنے والی کھیپ کو کسٹمز حکام نے اضافی چیکنگ کے لیے روک دیا ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کے صدر شرد کمار کا کہنا تھا کہ ’ہم چین کے ساتھ حالیہ جھڑپ کے پیش نظر بھارت کو خود انحصار کرنے کے لیے حکومت کی حمایت کرتے ہیں تاہم ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم بہت سارے اہم خام مال کے لیے چین پر انحصار کرتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: چین کا بھارت سے وادی گلوان سے مکمل انخلا کا مطالبہ

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھارتی عوام سے ان چینی اشیا کی خریداری بند کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے جنہیں بھارتی کمپنیاں بھی بناتی ہوں تاہم چینی مصنوعات پر پابندی لگانے یا بائیکاٹ سے بھارتی صنعت کاروں کو نقصان پہنچے گا۔

بھارت کے جنوبی پورٹ چنائی پر چین سے آنے والی کھیپ کی سخت جانچ پڑتال سے سپلائی چین میں خلل پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ پورٹ آٹوموبائل اور آٹو پارٹس سے لے کر کھاد اور پیٹرولیم مصنوعات تک کے سامان کا ذمہ دار ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چین اور بھارتی فوج کے درمیان جسمانی جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے اور یہ 45 سال کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سب سے خونریز جھڑپ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سرحدی علاقے میں چین سے جھڑپ، افسر سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک

ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات انتہائی کم ہیں البتہ کشیدگی میں کمی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

چین دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کا 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ بھارت میں واقع ہے جس کے جواب میں بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ چین کی حدود میں اکسائی چن کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

بھارت نے یکطرفہ طور پر اقدامات کرتے ہوئے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ کے متنازع علاقے کو بھی اپنی وفاقی حدود میں شامل کر لیا تھا۔

چین نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام اہم فورمز پر اٹھایا تھا۔