ٹرمپ نے 'اوباما ہیلتھ کیئر' ایکٹ کی منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

اپ ڈیٹ 26 جون 2020

ای میل

امریکا کی سپریم کورٹ کے 9 میں سے 5 ججز نے ’اوباما کیئر قانون‘ کے حق میں 2012 میں فیصلہ دیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
امریکا کی سپریم کورٹ کے 9 میں سے 5 ججز نے ’اوباما کیئر قانون‘ کے حق میں 2012 میں فیصلہ دیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں بننے والے 'افورڈ ایبل کیئر ایکٹ' (اوباما ہیلتھ کیئر) قانون کی منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

واضح رہے کہ 'اوباما کیئر' کے نام سے معروف قانون کو 2010 میں منظور کیا گیا تھی، جس کی موجودہ امریکی انتظامیہ سخت مخالفت کرتی نظر آئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا: بارک اوباما دور کا ’ہیلتھ کیئر قانون‘ غیر آئینی قرار

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کی سپریم کورٹ کو درخواست میں کہا ہے کہ اوباما ہیلتھ کیئر کا پورا ڈھانچہ ختم کردینا چاہیے۔

خیال رہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں مذکورہ ہیلتھ کیئر پروگرام کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

امریکا کی سپریم کورٹ کے 9 میں سے 5 ججز نے ’اوباما کیئر قانون‘ کے حق میں 2012 میں فیصلہ دیا تھا۔

اس حوالے سے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ 'امریکیوں سے اوباما کیئر ایکٹ چھیننے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تباہ کن کوششوں کا کوئی اخلاقی عذر نہیں ہے'۔

واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں جس کے بعد انہوں نے سرکاری طبی پروگرام 'اوباما ہیلتھ کیئر' سے فائدہ اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سیکریٹری خارجہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ پر بات ہوگی، شاہ محمود قریشی

اوباما ہیلتھ کیئر کو ختم کرنے سے متعلق اپیل کے بعد تاحال سماعت کے لیے ابھی کوئی وقت طے نہیں ہوا لیکن امید ہے کہ کیس کی سماعت موسم خزاں میں ہو۔

خیال رہے کہ 2017 میں مذکورہ قانون سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ امریکیوں نے فائدہ اٹھایا تھا جو 'ہیلتھ انشورنس' خریدنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔

اگر سپریم کورٹ اوباما کیئر ایکٹ منسوخ کردیتی ہے تو 2 کروڑ 30 لاکھ امریکی شہری طبی سہولیات سے محروم ہوجائیں گے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اوباما ہیلتھ کیئر کو ختم کرنے کے لیے یہ تیسری کوشش ہے۔

سپریم کورٹ اکتوبر میں شروع ہونے والی اپنی اگلی مدت میں اس کیس کی سماعت کرے گی لیکن امریکی میڈیا کے مطابق نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل مذکورہ کیس کی سماعت کا امکان نہیں ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 97 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ وبائی مرض سے اب تک 4 لاکھ 92 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا میں 25 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ وہاں مجموعی طور پر ایک لاکھ 26 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

2018 میں امریکا کی ریاست ٹیکساس کی وفاقی عدالت نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں بننے والے 'افورڈ ایبل کیئر ایکٹ (اوباما ہیلتھ کیئر) قانون کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں احتجاج پر پینٹاگون اور ٹرمپ کے درمیان تنازع سامنے آگیا

عدالتی فیصلے کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا کہ ’واہ! لیکن زیادہ حیرت نہیں ہوئی، ٹیکساس کے انتہائی قابل احترام ججز نے اوباما کیئر کو غیر آئینی قرار دے دیا، امریکی عوام کے لیے یہ بڑی خوشخبری ہے۔'

انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ’جیسا کہ میں نے بہت پہلے ہی پیشگوئی کی تھی، اوباما کیئر کو غیر آئینی قرار دے کر زمین بوس کردیا گیا‘