پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنس کے معاملے میں پالپا کا جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

ای میل

قومی ایئرلائنز نے مشکوک لائسنس والے 141 پائلٹس کے خلاف کارروائی کی ہے جن میں حویلیاں حادثے میں جاں بحق پائلٹ اور شریک پائلٹ بھی شامل ہیں— فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز
قومی ایئرلائنز نے مشکوک لائسنس والے 141 پائلٹس کے خلاف کارروائی کی ہے جن میں حویلیاں حادثے میں جاں بحق پائلٹ اور شریک پائلٹ بھی شامل ہیں— فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز

لاہور/کراچی: یورپی یونین کے کسی ممکنہ اقدام پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے غیر ملکی مشنز اور عالمی ریگولیٹری اور حفاظتی اداروں کو خط لکھ کر انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے مسافروں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور 105 پائلٹس کے ناجائز طریقوں سے لائسنس حاصل کرنے کے شبہ پر انہیں گراؤنڈ کردیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پائلٹس کے مبینہ جعلی لائسنسوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نے مشکوک لائسنس رکھنے والے مجموعی طور پر 141 پائلٹس کے خلاف کارروائی کی ہے ان میں سے 105 ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ باقی پائلٹ یا تو ریٹائر ہوچکے تھے یا استعفی دے چکے تھے۔

اس فہرست میں 2016 کے حویلیاں میں ہونے والے طیارہ حادثے کے پائلٹ اور معاون پائلٹ کے نام بھی شامل ہیں جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید سمیت تمام 47 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اسی وجہ سے اس دستاویز پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے کہ وزارت ایوی ایشن نے ریٹائرڈ، استعفیٰ دینے اور ہلاک ہونے والے پائلٹس کو الگ کیے بغیر بظاہر اسے جلد بازی میں تیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے 'مشکوک لائسنسز' سے پی آئی اے، سی اے اے کی ساکھ متاثر

چند پائلٹ جن کے نام 265 پائلٹس کی ایک اور فہرست میں شامل ہے، 'ان کے ٹیسٹ کے نتائج جعلی بنائے جانے پر‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ انہیں بدنام کرنے پر متعلقہ حکام کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

تاہم پی آئی اے کے ترجمان عبد اللہ حفیظ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یورپی یونین میں ایک مضبوط حریف گروپ پی آئی اے کی یورپ کے لیے پرواز پر پابندی عائد کرنے کے لیے متحرک ہے وہیں قومی ایئرلائن نے اپنے مسافروں کی حفاظت سے متعلق سب سے سخت ترین اقدامات اٹھائے ہیں اور 105 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہونے پر انہیں گراؤنڈ کردیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ایسے 141 پائلٹس میں سے 29 ریٹائر ہوچکے ہیں جبکہ 5 نے استعفیٰ دے دیا تھا، ’مشکوک لائسنس والے ریٹائرڈ پائلٹ پی آئی اے کے طیاروں کو اڑا نہیں سکیں گے‘۔

عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی مشنز کے تمام سربراہان، بین الاقوامی ایوی ایشن کے ریگولیٹرز اور سیفٹی مانیٹرنگ ایجنسیوں کو بھی ایک خط ارسال کرکے انہیں حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جس میں مشکوک اسناد کے حامل پائلٹس کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

یہ خط پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے لکھا، جس میں انہوں نے یقین دلایا کہ ایئر لائن تمام بین الاقوامی ایوی ایشن سیفٹی پر ریگولیٹری معیارات کے مطابق عمل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

پی آئی اے کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا چند خلیجی ایئر لائنز نے پاکستانی پائلٹس کو طیارے اڑانے سے روکا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف افواہیں ہیں‘۔

ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ پی آئی اے اس معاملے پر ہدف بن گئی ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پائلٹس کو لائسنس جاری کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پی آئی اے کو سی اے اے کی اس غلطی کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘۔

ادھر وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے مطابق حکومت نے مختلف کمرشل ایئر لائنز، فلائنگ کلب اور چارٹر کمپنیوں سے کہا کہ وہ قابلیت کی تحقیقات/فرانزک تجزیے مکمل ہونے تک 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کردیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کے اقدام سے عالمی خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی‘۔

علاوہ ازیں ایک پائلٹ خالد تنویر احمد خان نے ڈان کو بتایا کہ وہ پی آئی اے کے لیے 25 سالہ خدمات کے بعد 2014 میں ریٹائر ہوئے تھے اور ان کے کیریئر کا صاف اور محفوظ ریکارڈ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سی اے اے کی جانب سے پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز میں خدمات انجام دینے والے جعلی لائسنس رکھنے والوں کے بارے میں جاری کردہ فہرست میں اپنا نام دیکھ کر حیرت زدہ ہوں، اس فہرست میں بہت سارے ریٹائرڈ پائلٹ شامل ہیں جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ معاشرے میں قابل احترام ریٹائرڈ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، (تاہم) بغیر کسی جانچ پڑتال کے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی نامزدگی سے ہم اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے حلقے میں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنس کا معاملہ: پی آئی اے کی خدشات پر دلاسہ دینے کی کوشش

انہوں نے کہا کہ وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سی اے اے کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میری تعلیمی ڈگریوں کی جانچ اور تصدیق کرے، میں نے اپنے دونوں فلائنگ لائسنس (سی پی ایل اور اے ٹی پی ایل) ذاتی صلاحیت میں سی اے اے کے امتحانی مراکز میں حاضر ہوکر حاصل کیے اور امتحان پاس کیا تھا، میں نے اپنی خدمات کے دوران سی اے اے کے تمام کورسز میں ٹاپ کیا تھا جن میں انگلینڈ اور سویڈن کے غیر ملکی کورسز بھی شامل تھے، تمام دستاویزات، سرٹیفکیٹ اور ریکارڈ دستیاب ہیں، میں سی اے اے سے کہتا ہوں کہ وہ میرا نام اس فہرست سے خارج کرے اور اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کرے‘۔

دریں اثنا پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پائلٹس کے مبینہ جعلی لائسنسوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں۔

پالپا کے صدر کیپٹن چوہدری سلمان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کو قابل افراد اور ایوی ایشن کے شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہونا چاہیے اور وہ ہم سے اپنی تحقیقات کا آغاز کرے'۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے تمام پائلٹ اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر کسی بھی تحقیقات کے لیے خود کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پالپا پی آئی اے کے 141 پائلٹس کا دفاع نہیں کرنا چاہتی ہے جن کے نام مبینہ طور پر مشکوک لائسنس رکھنے والے 262 پائلٹس کی فہرست میں شامل ہیں بلکہ پالپا پاکستان کی ایوی ایشن کی صنعت کی تکریم کے ساتھ ساتھ ملک اور پائلٹس کی عزت کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پائلٹس کی فہرست کے بارے میں پالپا نے کہا کہ اس فہرست کا ایک بڑا حصہ ’مشکوک اور غیر حقیقت پسندانہ‘ تھا اور یہ ہمارے اداروں کی ناکامی اور ایک خاص گروپ کی منفی سوچ کی عکاسی کا ثبوت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پالپا نے وزیر ہوا بازی کے حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی فہرست کا ذکر کرکے وہ لوگوں اور اسٹیک ہولڈرز کی توجہ کراچی میں حالیہ پی کے 8303 حادثے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔