دنیا میں ایک کروڑ سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار

اپ ڈیٹ 28 جون, 2020

ای میل

پییرس کی سوشلسٹ میئر اینے ہیدالگو میونسپل الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے شوہر جین مارک 
 جرمین کے ہمراہ گھر کی جانب رواں دواں ہیں— فوٹو: اے ایف پی
پییرس کی سوشلسٹ میئر اینے ہیدالگو میونسپل الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے شوہر جین مارک جرمین کے ہمراہ گھر کی جانب رواں دواں ہیں— فوٹو: اے ایف پی

امریکا سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد عالمی سطح پر کورونا وائرس کا شکار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوئے6 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور کیسز میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد اب متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: پاکستان میں مصدقہ کیسز 2 لاکھ 3 ہزار کے قریب، 92 ہزار 624 افراد صحتیاب

دنیا بھر میں اموات میں بھی مستقل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث تقریباً 5 لاکھ افراد وائرس کے باعث موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

امریکا میں ایک دن میں 45 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

امریکا میں ایک ہی دن میں وائرس کے ریکارڈ 45 ہزار 242 کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد امریکا میں متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں ہفتے کی صبح ایک ہی دن میں ریکارڈ 9 ہزار 585 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد نرمی کی گئی پابندیوں کو واپس لیتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ریاست میں بار اور ریسٹورنٹس جلد بند اور لوگوں کی تعداد آدھی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ فلوریڈا میں بار کی حدود میں شراب کی سروس پر پابندی پر شراب خانوں کے مالکان نے برہمی کا اظہار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا بحران میں صحیح سمت کیلئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تدبیر پر فخر ہے، عمران خان

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کورونا وائرس کے سبب کئی ماہ سے بند مساجد کھلنے کے بعد صلح الدین مسجد میں امام فجر کی پہلی نماز کی ادائیگی کے لیے آ رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کورونا وائرس کے سبب کئی ماہ سے بند مساجد کھلنے کے بعد صلح الدین مسجد میں امام فجر کی پہلی نماز کی ادائیگی کے لیے آ رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم کے مطابق لاس اینجلس کی امپیریل کاؤنٹی کے بعض علاقے وائرس کا گڑھ بن چکے ہیں لہٰذا یہاں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی طرح ایریزونا میں 3 ہزار 591 اور نیواڈا میں ایک ہزار 99 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ان ریاستوں میں اب تک ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی ریکارڈ تعداد ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں اب تک سوا لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

برازیل میں مزید ایک ہزار 109 ہلاک

امریکی خطہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہے اور امریکا کی طرح برازیل میں بھی اموات اور کیسز رپورٹ ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

برازیل کے وزارت صحت نے بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 38 ہزار 693 نئے کیسز اور ایک ہزار 109 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے علاج کی تلاش میں اہم پیشرفت

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ملک میں وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 13 ہزار 667 ہوگئی جبکہ وائرس سے اب تک 57 ہزار 70 افراد کی جان بھی لے چکا ہے۔

میکسکو میں 26 ہزار سے زائد اموات

برازیل کی طرح میکسکو میں بھی وائرس اور ہلاکتوں کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے اور اب تک 26 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

میکسکو میں 24 گھنٹے میں وائرس سے مزید 4 ہزار 410 افراد متاثر ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر 2 لاکھ 12 ہزار افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

بھارت کے ممبئی میں واقع مشہور شیوا سیلون میں حفاظتی آلات پہنچ کر بال کاٹے جا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
بھارت کے ممبئی میں واقع مشہور شیوا سیلون میں حفاظتی آلات پہنچ کر بال کاٹے جا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

میکسکو میں اب تک 26 ہزار 381 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اب تک ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

بھارت میں 5 لاکھ سے زائد کیسز، ایک دن میں ریکارڈ نئے کیسز

دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ اس وقت تک 16 ہزار 95 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 19 ہزار 906 کیسز کی تصدیق ہوئی جو اب تک سامنے آنے والے یومیہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں شہریوں کو 'غیر معمولی' بھوک کا سامنا ہے، اقوام متحدہ

بھارتی حکومت کے مطابق گزشتہ روز وائرس سے 410 افراد ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد عالمی وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار 95 ہوگئی۔

بھارت میں آنے والے کئی ہفتوں تک اس وبا کے عروج پر پہنچنے کا کوئی امکان نہیں اور ماہرین کا کہنا تھا کہ جولائی کے آخر تک کیسز کی تعداد 10 سے تجاوز کر جائے گی۔

بھارت کی کچھ ریاستیں دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانے کا سوچ رہی ہیں اور 25 مارچ کو کیے گئے لاک ڈاؤن میں کئی ہفتوں کے بعد معشیت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث نرمی کردی گئی تھی۔

بھارت میں زیادہ آبادی والے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور دہلی میں اس وقت سب سے زیادہ کیسز ہیں جس نے ممبئی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور وہاں اس وقت 80 ہزار سے زائد متاثرین موجود ہیں۔

دہلی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جولائی کے آخر میں کیسز کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جبکہ دہلی میں بھی اس وقت 77 ہزار سے زائد کیسز موجود ہیں جس میں مستقل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران میں ماسک پہننا لازمی قرار

وائرس سے متاثرہ ایران نے حفاظتی اقدامات کے طور پر آئندہ ہفتے سے ماسک کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ملک کے کچھ علاقوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا جائے گا اور انہوں نے سخت اقدامات کے نفاذ کی اجازت دے دی ہے۔

مزید پڑھیں: روس، طالبان نے امریکی اخبار کا دعویٰ مسترد کردیا

اسلامی جمہوریہ ایران اب ملک میں وائرس کا پھیلاؤ رکونے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن سے گریز کررہا ہے اور اس کی جگہ کچھ علاقوں میں ماسک پہننے کو لازمی قررا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سے کچھ خاطر خواہ مدد نہیں ملے گی۔

چین میں لوگ کورونا کے ٹیسٹ کرانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
چین میں لوگ کورونا کے ٹیسٹ کرانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

ایران میں اب تک کورونا وائرس سے 2 لاکھ 20 ہزار افراد متاثر اور 10 ہزار 364 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اٹلی میں ہلاکتوں کی شرح کم تر سطح پر

دوسری جانب اٹلی میں یکم مارچ کو کووڈ-19 کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں دن بدن کمی آرہی ہے اور اب روزانہ کی شرح کم تر سطح پر آگئی ہے۔

اٹلی کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ ایک روز میں 8 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور مجموعی تعداد 34 ہزار 716 تک پہنچ گئی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق 175 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں اور یورپ میں بدترین نشانہ بننے والے ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار 136 تک پہنچ گئی ہے۔

لیسٹر میں لاک ڈاؤن پر غور

تاہم برطانیہ نے لیسٹر میں کیسز کی تعداد بڑھنے کے بعد لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور شروع کردیا ہے۔

سیکریٹری صحت کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ساڑھے 3 لاکھ آبادی کے شہر لیسٹر میں گزشتہ دو ہفتے میں ساڑھے 600 نئے کیسز سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے جارج فلائیڈز: پولیس کی حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر شدید احتجاج

انہوں نے کہا کہ اس انکشاف کے بعد لاک ڈاؤن کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ ہم عوام کو وائرس کا شکار ہونے اور بڑی تباہی سے بچا سکیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں اب تک 3 لاکھ 12ہزار افراد وائرس کا شکار اور 43 ہزار 600 کی موت ہو چکی ہے۔

چین میں 5 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کی ہدایت

ادھر چین میں بیجنگ کی فلائٹ میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد 5 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

چین میں وائرس پر قابو پائے جانے کے بعد یکدم کیسز کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر وبا کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

اسی خطرے کے پیش نظر چین نے بیجنگ کے قریب کے علاقے میں 5 لاکھ افراد کو لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس وبا کو مخصوص علاقے تک ہی محدود رکھ کر مقابلہ کیا جائے۔

محکمہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اینژن کی کاؤنٹی کو مکمل بند اور کنٹرول میں لے لیا گیا ہے اور اسی طرح کے اقدامات وبا کی انتہا کے موقع پر صوبہ ووہان میں اٹھائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں چین صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کا کیس پہلی مرتبہ رپورٹ ہوا تھا۔

اس وائرس سے چین میں ساڑھے 4 ہزار سے زائد اموات اور 80 سے زائد کیسز کے بعد چین اس وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا تاہم اس کے بعد اس وائرس نے ایران اور یورپ کا رخ کرکے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

یہ بھی پڑھیں: ویتنام نے مبینہ جعلی ڈگری پر 20 پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

یورپ میں اسپین، اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد اموات ہوئیں اور اب وہ وہاں اکثر ممالک میں نظام زندگی معمول پر نہیں آ سکا۔

ابتدائی طور پر امریکی خطے میں اکثر مممالک نے اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کے بعد اب تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات اسی خطے میں ہو چکی ہیں۔

امریکی خطے میں اس وقت تک تقریباً دو لاکھ افراد وائرس کے سبب موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ یہ وائرس اب ایشیا میں بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں صحت کی ناقص سہولیات کے سبب ماہرین نے احتیاط نہ کرنے کی صورت میں جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر تباہی کا عندیہ دیا ہے۔