تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، وزیر اعظم کی اتحادیوں کو یقین دہانی

اپ ڈیٹ 29 جون, 2020

ای میل

وزیر اعظم عمران خان عشائیے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں - فوٹو:ڈان
وزیر اعظم عمران خان عشائیے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں - فوٹو:ڈان

اسلام آباد: مشترکہ حزب اختلاف کی جانب سے بجٹ مسترد کیے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بجٹ 2020-21 کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اتحادی جماعتوں کے قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اتوار کی شام عشائیہ کی میزبانی کی جہاں انہوں نے زور دیا کہ ان کی حکومت یقینی طور پر اپنی 5 سالہ مدت پوری کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمران کی زیر قیادت پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل)، پاکستان عوامی مسلم لیگ (پی اے ایم ایل) اتحاد سے وابستہ 14 ایم این اے نے وزیر اعظم کے گھر کے لان میں منعقدہ عشائیہ میں شرکت نہیں کی۔

وزیر اعظم خان نے استقبالیہ سے قبل حکومت کے اتحادی رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں گے۔

نیز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی بیک ڈور کوششوں کی وجہ سے عشائیے میں شریک نہ ہونے والے حکمراں جماعت کے 14 اراکین اسمبلی، جن میں حاجی امتیاز اور نواب کرامت شامل تھے، عشائیہ کے بعد وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں: اختلافات کے باوجود مسلم لیگ (ق) بجٹ ووٹ میں حکومت کی حمایت کرے گی

حکومت کے اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) شاہ زین بگٹی اور آزاد پارلیمنٹیرین اسلم بھوٹانی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اس تقریب میں شرکت کی۔

عشائیے میں کابینہ کے تمام ممبران بشمول مشیران اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی بھی موجود تھے، تقریب میں مہمانوں کو مٹن ہانڈی اور پلاؤ پیش کیا گیا تھا تاہم حال ہی میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد وہاں موجود نہیں تھے۔

استقبالیہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم خان نے کہا کہ ’کچھ لوگ ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی نئی تاریخ دیتے ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کہیں نہیں جارہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی‘۔

ان کا خیال تھا کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا حکمراں پی ٹی آئی سے زیادہ اسٹیک ہے۔

اس تقریب میں شرکت کرنے والے ذرائع نے وزیر اعظم خان کے حوالے سے کہا کہ ’ان کی (اپوزیشن جماعتوں) کا زیادہ اسٹیک اس لیے ہے کیونکہ اگر آپ (پی ٹی آئی کے رہنما) الیکشن ہار جاتے ہیں تو آپ صرف اپنی سیٹ ہاریں گے لیکن اگر وہ (اپوزیشن رہنما) ہار جاتے ہیں تو وہ جیل جائیں گے‘۔

حکومت غیر منتخب لوگوں کی ٹیم چلا رہی ہے، کے الزام کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا ’اگر ہم نے کابینہ میں کچھ غیر منتخب ممبروں کو شامل کیا ہے تو انہوں نے (اپوزیشن جماعتوں) اپنے رشتہ داروں سے اس کو بھر دیا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کے بجٹ کو مسترد کردیا

عمران خان نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور تمام حکومتی اتحادیوں سے کہا کہ وہ پیر کو اہم اکثریت کے ساتھ بجٹ منظور کریں۔

انہوں نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بدعنوانی اور کورونا وائرس میں حالیہ اضافے کے بارے میں بھی بات کی۔

تقریب کا اختتام وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ہوا کیونکہ اس موقع پر ان کے بعد کسی نے بھی بات نہیں کی۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی بجٹ کے حق میں ووٹ دے گی لیکن عشائیے میں شرکت نہیں کرے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر کی تمام کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو عشائیے میں کم از کم ایک نمائندہ بھیجنے پر راضی کرنے کی کوششوں کے باوجود اتحادی جماعت نے تحریک انصاف کے ساتھ کچھ اختلافات کی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔

واضح رہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پی ٹی آئی کی صفوں میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے بارے میں بیان دیا تھا۔

تحریک انصاف کی ہر اتحادی جماعت کے ارکان نے تقریب میں شرکت کی جن میں ایم کیو ایم کے وفد میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کی سربراہی میں اقبال احمد علی خان، کشور زہرہ، صابر حسین قائم مخانی، اسامہ قادری اور صلاح الدین شامل تھے۔

استقبالیہ میں شرکت سے قبل ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم حیدرآباد یونیورسٹی کی ترقی کراچی میں ترقیاتی منصوبوں اور حیدرآباد میں پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں کمی وغیرہ کا مطالبہ کرے گی۔

بی اے پی کے وفد میں وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، احسان اللہ ریکی، خالد حسین مگسی، محمد اسرار ترین اور روبینہ عرفان شامل تھے۔

مزید پڑھیں: پنجاب اور وفاق میں اتحاد کے مستقبل کے لیے ق لیگ، پی ٹی آئی کی بیٹھک

جی ڈی اے کے وفد کی قیادت وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کی اور ان کے ہمراہ سائرہ بانو بھی تھیں۔

تقریب میں شریک ہونے والے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ تقریب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اگر وہ اپوزیشن رہنماؤں کی بدعنوانی کو بے نقاب نہیں کرتے ہیں تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے حکمرانی کرسکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگر میں آٹھ سے دس افراد کی بدعنوانی کا انکشاف نہ کرتا تو میں اپنی مدت با آسانی پوری کرسکتا تھا، حکومت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر قائم رہے گی‘۔

حالیہ پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکوائری مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کی گئی تھی۔

دریں اثنا مسلم لیگ (ق) کے وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں اور پارلیمنٹیرینز کے لیے عشائیہ دیا جو وزیر اعظم کے استقبالیہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے بتایا کہ پارٹی نے کچھ دوسری مصروفیات کی وجہ سے وزیر اعظم کے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔