وزارت خزانہ نے آڈٹ رپورٹ میں کرپشن کی خبروں کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 29 جون 2020

ای میل

وزارت خزانہ نے کرپشن کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے دیا 
— فائل فوٹو: اے ایف پی
وزارت خزانہ نے کرپشن کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے دیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

وزارت خزانہ نے موجودہ حکومت کی پہلی آڈٹ رپورٹ میں مالی سال 19-2018 میں 40 سرکاری محکموں اور وزارتوں کی جانب سے 270 ارب روپے کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے انکشاف پر مبنی میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا۔

 ان رپورٹس کو بے بنیاد، گمراہ کن اور غلط قرار دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے ایک سرکاری بیان میں کہ مالی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹ، تمام آڈٹ رپورٹس کی طرح ابتدائی مشاہدات پر مشتمل ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جس میں حکومتی اداروں کی جانب سے مختلف معاملات کے دوران رسمی مراحل کو مکمل کرنے میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور دیگر معاملات میں آڈٹ ٹیموں کو کچھ دستاویزات کی فراہمی میں مختلف کوتاہیوں سے متعلق بتایا گیا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ہر خامی بدعنوانی کے مترادف ہے تو یہ غلط اور گمراہ کن ہے۔

 اس میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ یہ واضح کرتی ہے کہ آڈٹ رپورٹس اپنی نوعیت کے تحت ضابطے میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور یہ کرپشن کا ثبوت نہیں ہیں، صرف 'بدعنوانی کا حتمی ثبوت' جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصوص میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: آڈیٹر جنرل پاکستان کا وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کی بےضابطگیوں، غبن کا انکشاف

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ کئی فورمز پر ان آڈٹ رپورٹس پر مکمل طور پر غور کیا جاتا ہے جن میں محکمہ جاتی آڈٹ کمیٹیاں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں شامل ہیں جہاں وزرا اور دیگر حکومتی اداروں کو اپنے کیسز کا دفاع کرنے اور طریقہ کار میں موجود کوتاہیوں کو دور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ یہاں تک یہ فورمز اس بات کے اہل نہیں کہ کرپشن ہوئی ہے یا نہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی اور مطلوبہ منظوری کے عمل کی وقتاً فوقتاً تکمیل، آڈٹ پیراز کی بڑی اکثریت کو ان فورمز پر طے کیا جاتا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ صرف چند معاملات جہاں خامیوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا وہاں سزا دینا ضروری ہوتا ہے۔   مزید برآں آڈٹ رپورٹس کی نوعیت کے واضح تناظر میں یہ بہت اہم ہے کہ موجودہ حکومت کی آڈٹ رپورٹ حکمرانی میں وسیع بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ مثال کے طور پر گزشتہ سالوں میں میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی پہلے کی آڈٹ رپورٹس کی خبروں کا مقابلہ کیا جائے تو مالی سال 19-2018 میں اخراجات سے متعلق آڈٹ پیراز صرف 270 ارب روپے کے ہیں جبکہ مالی سال 16-2015، مالی سال 17-2016 اور مالی سال 18-2017 کی آڈٹ رپورٹس میں اخراجات سے متعلق آڈٹ پیراز بالترتیب 32 کھرب روپے، 58 کھرب روپے اور 15 کھرب 70 ارب روپے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ پریس کے کچھ حلقوں کی جانب سے مالی سال 19-2018کی آڈٹ رپورٹ کی بنیاد پر پیش کیے گئے گمراہ کن نتائج کو مسترد کرتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مختلف وزارتوں میں عوامی فنڈز میں 12 ارب روپے سے زائد کے غبن اور غلط استعمال کا انکشاف کیا تھا جبکہ سرکاری فنڈز میں 258 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈٹ ٹیموں کو متعدد اداروں اور اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ موجودہ دور کی نہیں، شیخ رشید

حکومتی وزیر نے آڈٹ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کی حکومتوں میں یہ بے ضابطگیاں 1000 ارب روپے سے زائد ہوتی تھیں۔

نجی چینل جیو ٹی وی کے مطابق وزیر برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ اس تعداد میں 80 فیصد کمی ہوئی ہے اور مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غبن اور فرضی ادائیگیوں کے 56 کیسز کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق 98 اور 17ارب 97 کروڑ روپے کا ریکارڈ پیش نہ ہونے سے متعلق 37 کیسز ہیں۔

اسی طرح آڈٹ میں کمزور مالیاتی انتظام سے متعلق 152 ارب 21 کروڑ روپے کے 35 کیسز کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔