قاسم سلیمانی کی ہلاکت: ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

29 جون 2020

ای میل

انٹرپول ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کے خلاف 'ریڈ نوٹس' جاری کرے، ایران کا مطالبہ — فائل فوٹو / اے پی
انٹرپول ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کے خلاف 'ریڈ نوٹس' جاری کرے، ایران کا مطالبہ — فائل فوٹو / اے پی

ایران نے اپنے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 35 دیگر افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انٹرپول سے مدد طلب کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی 'فارس' کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ تہران کے پراسیکیوٹر علی القاسمہر کا کہنا تھا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر افراد کے خلاف وارنٹ قتل اور دہشت گردی کی کارروائی کے چارجز پر جاری کیے گئے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ ایران نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کے خلاف 'ریڈ نوٹس' جاری کرے جن پر قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دیگر افراد میں امریکی ملٹری اور سول افسران شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: امریکی فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ ہلاک

علی القاسمہر نے کہا کہ ایران، ڈونلڈ ٹرمپ کا دور صدارت ختم ہونے کے بعد بھی معاملے کی پیروی جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ رواں سال 3 جنوری کو عراق میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا کی جانب سے یہ الزام لگایا تھا کہ قاسم سلیمانی خطے میں امریکی فورسز پر حملوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاز کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

قاسم سلیمانی کے امریکی فضائی حملے میں قتل کے بعد دونوں ممالک امریکا اور ایران میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا سے قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیں گے، ایران

قاسم سلیمانی کے ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔

بعد ازاں ایران کی جانب سے اس حملے کا جواب دیا گیا تھا اور اس نے امریکا کی عراقی ایئربیس پر حملہ کیا تھا جہاں واشنگٹن فوجی مقیم تھے۔

تاہم اس حملے کے بعد کچھ ہی گھنٹوں میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہائی الرٹ ایرانی فورسز نے غلطی سے تہران سے اڑان بھرنے والے یوکرین کے مسافر طیارے کو اڑا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

اس طیارے کے تباہ ہونے کے نتیجے میں تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔