دہشت گردوں کے حملے کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں 242 پوائنٹس کا اضافہ

29 جون 2020

ای میل

مارکیٹ نے حملے کا کوئی خاص اثر نہ لیا اور سودے معمول کے مطابق جاری رہے — فائل فوٹو / اے ایف پی
مارکیٹ نے حملے کا کوئی خاص اثر نہ لیا اور سودے معمول کے مطابق جاری رہے — فائل فوٹو / اے ایف پی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں دہشت گردوں کے حملے کے باوجود مثبت رجحان رہا اور بینچ مارک 'کے ایس ای 100 انڈیکس' 242 پوائنٹس کے اضافے پر بند ہوا۔

دہشت گردوں کے صبح لگ بھگ 10 بجے اسٹاک مارکیٹ پر حملے کے بعد خیال جارہا تھا کہ مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھا جائے گا۔

تاہم مارکیٹ نے حملے کا کوئی خاص اثر نہ لیا اور سودے معمول کے مطابق جاری رہے۔

کاروباری سیشن 100 انڈیکس میں 242 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 34 ہزار 182 پوائنٹس کی سطح پر اختتام پذیر ہوا۔

کاروبار کے دوران مارکیٹ کی بلند ترین سطح 34 ہزار 207 پوائنٹس اور کم ترین سطح 33 ہزار 719 پوائنٹس رہی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ، تمام 4 دہشت گرد ہلاک

مجموعی طور پر 15 کروڑ 69 لاکھ شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی جن کی مالیت 5 ارب 62 کروڑ روپے رہی۔

حصص مارکیٹ میں آج 171 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 136 کی قیمتوں میں کمی اور 22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے تھے۔

اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی جب 10 بجے سے کچھ دیر قبل دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم حملے میں ایک سب انسپکٹر اور 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے اس کے علاوہ 3 پولیس اہلکار سمیت 7 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے جدید ہتھیار، دستی بم اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے پی ایس ایکس کے باہر موجود مشتبہ کار کا بھی معائنہ کیا۔