اے ٹی سی، کیس کو عام فوجداری عدالت منتقل کرسکتی ہے، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 01 جولائ, 2020

ای میل

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کیس کے  فیصلہ آنے تک مقدمے کی کارروائی کی منتقلی کا اختیار اے ٹی سی کے پاس ہی رہے گا۔ فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کیس کے فیصلہ آنے تک مقدمے کی کارروائی کی منتقلی کا اختیار اے ٹی سی کے پاس ہی رہے گا۔ فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی)، ایک پھنسے ہوئے کیس کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کی دفعہ 23 کے تحت سماعت کے لیے کسی بھی عام فوجداری عدالت میں منتقل کر سکتی ہے۔

تاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیس کا جائزہ لینے کے بعد دفعہ 23 کے تحت اے ٹی سی کے اختیارات کا استعمال کیس کو فوجداری ضابطہ اخلاق (سی آر پی سی) کے تحت مقدمے کی سماعت کے لیے ایک عام فوجداری عدالت میں منتقل کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے اور منتقلی کا اختیار ٹرائل کے دوران اور فیصلہ سنائے جانے تک اے ٹی سی کے پاس ہی رہے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ کا رکن ہیں جو سندھ ہائیکورٹ کے سکھر بینچ کے 21 فروری 2019 کے حکم کے خلاف علی گوہر کی اپیل پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کی مالی معاونت کے کیس میں جماعت الدعوۃ کے 4 رہنماؤں کو سزا

جس پر سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے کیس کو عام عدالت میں منتقل کرنے کے اے ٹی سی کے 13 نومبر 2018 کے حکم کو بحال کردیا اور مذکورہ اپیل منظور کرلی۔

اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے یہ کہتے ہوئے شرائط کی وضاحت کی کہ اے ٹی سی معاملے کو جانچنے اور یہ سمجھنے کے جرم اے ٹی اے کے تحت قابل سماعت جرائم کے دائرہ کار میں نہیں آتا، کے بعد اے ٹی اے کی دفعہ 23 کے تحت مقدمہ منتقل کرنے کے اپنے اختیار کا استعمال کرسکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اے ٹی اے کے سیکشن 23 میں استعمال کیے گئے الفاظ ’کیس کی سنجیدگی‘ کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ چالان کی رسید پر اے ٹی سی اس مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے حوالے سے کوئی بھی اقدام کرسکتی ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کی گئی کہ کہ یہ دلیل قبول کرنے کے مائل نہیں کہ سیکشن 23 کے تحت اے ٹی سی کا مقدمہ عام عدالت میں منتقل کرنے کا 13 نومبر 2018 کا فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا تھا اور اس معاملے کی پہلے جانچ نہیں کی گئی تھی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہماری رائے کی وجوہات واضح ہیں: اول کہ، یہ اعتراف شدہ حقیقت ہے کہ اس معاملے کے ساتھ چالان اے ٹی سی کے سامنے رکھا گیا تھا اور عدالت نے ملزم کو نہ صرف پیش ہونے کا حکم دیا بلکہ انہیں سی آر پی سی کی دفعہ 265 (سی) کے تحت مطلوبہ مواد بھی فراہم کیا تاکہ وہ عائد الزامات کا جواب دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: اے ٹی سیز میں احتیاطی تدابیر کی کمی کے باعث وائرس پھیلنے کا خدشہ

فیصلے میں کہا گیا کہ اے ٹی سی کو سی آر پی سی کے سیکشن 265 (ڈی) کے تحت چارج وضع کرنے کے لیے کوئی تاریخ طے کرنے سے پہلے استغاثہ کے پورے مواد کو استعمال کرنا پڑتا ہے، ملزم کے مقدمے کی سماعت آگے بڑھنے سے قبل علیحدہ علیحدہ اٹھائے گئے اقدامات، مواد پر اس کے ذہنی اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اعتراض کرنے والی موجودہ شکایت کنندہ کو حیرت میں نہیں ڈالا گیا تھا کیونکہ انہیں 13 نومبر کو معاملے کو منتقل کرنے کا فیصلہ دینے سے قبل اس اہم معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے اے ٹی سی کی جانب سے مکمل موقع فراہم کیا گیا

فیصلے میں کہا گیا کہ ’ایک بار جب ہم یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اے ٹی سی کے پاس قانونی طور پر مطلوبہ مواد دستیاب تھا تاکہ اس معاملے کی منتقلی کا فیصلہ کیا جائے لہٰذا جو فیصلے لیا گیا وہ قانونی طور پر درست سمجھا گیا کہ اس میں مقدمے کی سماعت کے دائرہ اختیار کی کمی ہے‘۔