'پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن بند نہیں کررہے، تنظیم نو کیلئے اقدامات کر رہے ہیں'

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

معاون خصوصی زلفی بخاری—فائل فوٹو: ڈان نیوز
معاون خصوصی زلفی بخاری—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی ذوالفقار بخاری (زلفی بخاری) نے کہا ہے کہ حکومت، پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کو بند نہیں کررہی بلکہ اس کی 'تنظیم نو کی طرف قدم' اٹھاتے ہوئے تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی (نیشنل ٹورازم کورآرڈینشن بورڈ) این ٹی بی سی کے تحت بطور وفاقی عملدرآمد باڈی کے طور پر کام جاری رکھے گی۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر بہتری کے طریقہ کار کے مطابق پی ٹی ڈی سی کی تنظیم نو کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہوئے اس میں تبدیلیاں کر رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ہم اسے بند نہیں کر رہے۔

مزید پڑھیں: شمالی علاقہ جات میں ٹورزم کارپوریشن کے تمام ہوٹلز بند، ملازمین فارغ

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ یہ ضروری تھا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ وسائل کی بدانتظامی اور سیاسی بھرتیوں کے باعث یہ ایک جمود کا شکار تنظیم بن گئی تھی جو نقصان میں جارہی تھی۔

اپنی ایک اور ٹوئٹ میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس پر آنسو بہا رہے اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پی ٹی ڈی سی بہتر افرادی قوت اور بہتر پالیسی کے ساتھ ایک مؤثر تنظیم بننے کی اپنی راہ پر گامزن ہے۔

خیال رہے کہ زلفی بخاری کی یہ ٹوئٹس اس نوٹیفکیشن کہ بعد سامنے آئیں جس کے مطابق پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے ملک کے شمالی علاقہ جات میں موجود تمام ہوٹلز بند کرتے ہوئے ملازمین کو فارغ کردیا تھا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ کارپوریشن مسلسل نقصانات برداشت کررہی تھی جس کی وجہ سے یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوئی۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ ’وسائل نہ ہونے، مسلسل اور ناقابل تلافی مالی نقصانات اور موجودہ کووِڈ 19 کی وبا کی وجہ سے وفاقی حکومت اور پی ٹی ڈی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے متفقہ طور پر کمپنی کے افعال بند کرنے کا فیصلہ کیا‘۔

مذکورہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لینے اور کمپنی کی صورتحال اور حقائق پر غور کرتے ہوئے ملازمین، کمپنی اور شیئر ہولڈرز کی بقا اور مستقبل کے بہترین مفاد میں اٹھایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ کمپنی کے پاس یہ تکلیف دہ فیصلے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ادھر مذکورہ فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے ٹوور آپریٹرز نے اسے سیاحت کی صنعت کے لیے بہت بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹورازم آپریٹرز کے صدر مقصود الملک نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی ڈی سی کے ہوٹلز سیاحوں کے لیے بہترین مقامات پر واقع ہیں جہاں وہ آرام کرسکیں اور اگلی صبح شمالی علاقہ جات میں مزید سفر کریں۔

خیال رہے کہ پورے شمالی علاقہ جات میں 24 سے 25 ہوٹلز یا ریسٹورنٹس کو بند کردیا گیا تھا جو کارپوریشن کی جانب سے گزشتہ برس مارچ میں بند کیے گئے ’مسائل کا شکار‘ 6 ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے علاوہ ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ برس پی ٹی ڈی سی نے پنجاب میں ٹیکسلہ، خیبرپختونخوا میں چھتر، گلگت بلتستان میں استک، بلوچستان میں خضدار، خیبرپختونخوا میں چکدرہ اور اسلام آباد کے دامنِ کوہ ریسٹورنٹ کو بند کردیا تھا۔

دوسری جانب این ٹی سی بی کے رکن آفتاب رانا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ہوٹلز کو بند کردیا گیا تھا جبکہ یہ فیصلہ بھی ہوچکا تھا کہ حکومت کارپوریشن کے کاروباری طریقے سے الگ ہوجائے گی اور اس کی جائیدادوں کی نجکاری کر کے صرف سیاحت کو فروغ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے

انہوں نے بتایا تھا کہ پی ٹی ڈی سی نے ملازمین کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے گولڈن ہینڈ شیک پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن بدقسمتی سے ملازمین یہ معاملہ عدالت میں لے گئے جہاں یہ اب تک زیر التوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریشن کو تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے اور یہ صرف غیر پیداواری عملے کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں کی ادائیگی کررہی ہے جبکہ ان جائیدادوں کے ذریعے کوئی آمدن نہیں ہورہی۔

آفتاب رانا کا مزید کہنا تھا کہ ان آپریشنز کو بند کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن یہ تمام چیزیں مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت نے پی ٹی ڈی سی کی تمام جائیدادوں کی نجکاری اور آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کیا۔