پڑوسی نے اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرکے ایک تیر سے 2 شکار کرنے کی کوشش کی

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

لکھاری مصنف ہیں۔
لکھاری مصنف ہیں۔

وقت کے اس موڑ پر ہم سب ہی جان چکے ہیں کہ اگر کوئی کورونا وائرس کا شکار ہو تو کیا توقع وابستہ کی جائے۔ لیکن جب پورے کے پورے ملک کو یہ روگ لگ جائے تو پھر کوئی کیا کرے، اس بارے میں زیادہ علم کوئی نہیں رکھتا؟

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بحیثیت مجموعی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ اسے بھی نہ اب بدعنوانی کی بُو آتی ہے، نہ آزادی کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، جبکہ شہری آزادی کی فضا میں سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی ہے، اور اکثر جھوٹ اگلتا ہے۔ کوئی بھی شے اس حقیقت یا ان علامات کو چھپا نہیں سکتی۔

کورونا وائرس فالج کے مرض کی طرح دھیرے دھیرے پھیل چکا ہے۔ یہ بیماری توجہ سے محروم دھتکارے ہوئے پناہ گزینوں کی طرح مختلف براعظموں کا سفر کرچکی ہے۔ جن ممالک میں فوری اقدامات کی صلاحیت رکھنے والی ذمہ دار حکومتیں ہیں وہ اس غیر متوقع چیلنج سے نمٹنے میں خاصی کامیاب رہیں، لیکن جن ممالک میں بے جان سی قیادت تھی وہاں اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں ہوئے۔

پڑھیے: کیا ہمارے دندان ساز صدر کو کچھ پتا نہیں؟

گزشتہ کئی صدیوں کے دوران آنے والی عالمی وباؤں نے اپنے اپنے الگ تاریخ دان پیدا کیے ہیں۔ مصر میں پھوٹنے والی 10 وباؤں (ٹڈیوں سمیت) کا تذکرہ بائبل میں بھی شامل کیا گیا۔

1585ء میں پھوٹنے والی طاعون کی جس بیماری نے 16ویں صدی کے فرانس پر حملہ کیا تھا اس نے مضمون نگار مائیکل ڈی مونٹین کو اپنے تجربات ہیبت ناک تفصیل کے ساتھ قلمبند کرنے پر مجبور کیا تھا۔

جس کے بعد ابھی 100 برس بھی نہیں گزرے تھے کہ 66ء-1665ء میں لندن میں طاعون کی وبا پھوٹی جس کی کہانی اس ڈینیل ڈی فو کی زبانی دنیا نے سنی، جو ایک چوتھائی لندن کی آبادی پر حملہ آور ہونے والی وبا کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس مرض کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل ہوئے تھے۔

ڈی فو کے تجربات 1722ء میں اے جرنل آف دی پلیگ ایئر کے طور پر شائع ہوئے تھے۔ اس کی ابتدا لاتعلقی کے پھیکے احساس سے ہوتی ہے جو موجودہ حالات میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

'یہ 1664ء کے ستمبر کی ابتدا تھی کہ جب میں اور میرے اڑوس پڑوس کے لوگوں نے ایک عام سی گفتگو کے دوران یہ سنا کہ ہالینڈ میں ایک بار پھر طاعون لوٹ آیا ہے کہ 1663ء میں وہاں اور خاص طور پر ایمسٹرڈم اور روٹرڈم میں اس کی شدت کا عالم ہی کچھ ایسا تھا۔ یہ کہاں سے آیا؟ اس بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اسے وہاں لایا گیا تھا، اٹلی سے لایا گیا جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اسے لیوانٹ سے سفرِ ترکی پر جانے والے بیڑوں کے ذریعے دیگر اشیائے کے ساتھ لایا گیا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ اسے کینڈیا جبکہ کچھ نے کہا کہ اسے قبرص سے لایا گیا ہے۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ مرض کہاں سے آیا ہے البتہ تمام لوگ اس بات پر متفق تھے کہ یہ مرض ایک بار پھر ہالینڈ پر وارد ہوچکا ہے'۔

لندن کے حکام نے لاک ڈاؤن کا حکم دیا۔ تھیٹروں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے مراکز بند کردیے گئے اور دکانیں سیل کردی گئیں۔ اپنے گھروں تک محدود افراد دیگر معاملات سے تنگ آچکے تھے اور ان معاملات سے پیدا ہونے والی مایوسی اور خوف کے آثار عام لوگوں کے چہروں پر بھی نمایاں تھے۔ موت ان کی آنکھوں کے سامنے تھی اور مسرتوں اور اپنا دھیان بٹانے کے بجائے ہر کوئی اپنی قبر کا سوچنے لگا۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس کے پیچھے اصل سازش کس کی ہے؟

دراصل جب لندن میں طاعون کی وبا پھوٹی تھی اس وقت ڈینیل ڈی فو کی عمر محض 5 برس تھی، اتنی قلیل عمری میں اس کے اثرات کو مفصل انداز میں یاد رکھنا بہت ہی مشکل ہے۔ اس کام کے لیے انہوں نے اپنی کھوج کے سہارے اپنے چچا ہینری فو کے جرنلوں سے مدد لی۔ ڈی فو کی کتاب کو فیکشن پکارا جانا چاہیے، یعنی ایک تصوراتی افسانے میں بنی ہوئی ایک شاندار ریسرچ شدہ حقیقت۔ اس صنف کی ایک بہترین جدید مثال ایلکس ہیلے کی سیاہ فام غلامی کے حالات و واقعات پر مبنی دل کو چُھو لینے والی کتاب (Roots: The Saga of an American Family (1976 کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیکن جدید ٹیکنالوجی نے کورونا وائرس کے تجربات کو محفوظ کرنے کے لیے ڈی فو اور ہیلے جیسے لاکھوں کی تعداد میں تاریخ سمیٹنے والے پیدا کردیے ہیں۔ اس عالمی وبا میں گزرتے وقت کا لمحہ لمحہ موبائل فونز میں، انٹرنیٹ کے ذریعے واٹس ایپ پر اور صدارتی ٹوئیٹوں میں ریکارڈ ہو رہا ہے۔

چند لیڈران بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاگل پن اور بے وقوفی کے بیچ جھولتے نہیں تھکتے۔ ان کی طرح کا مسخرہ پن تو شیکسپیئر کے ڈراموں کا خاصہ ہوا کرتا تھا جہاں یہ 'مرکزی ایکشن کے سنجیدہ معاملات سے جذباتی چھٹی' کے طور پر فعال نظر آتا۔ دیگر کئی لیڈران کا تمسخر پریشان کن بلکہ خطرناک ہے کہ یہ انہیں ذمہ دار گورننس کے سنجیدہ معاملات سے جذباتی چھٹی لینے دیتا ہے۔

یہ تو واضح نظر آتا ہے کہ 2 سال پہلے جب ہماری حکومت کو اقتدار کے لیے چنا گیا تھا اس وقت جن مسائل کو حل کرنے کی اس سے توقع کی گئی تھی اس کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ مسائل جنم لے چکے ہیں۔ اس کی مدت کا آغاز مالی دیوالیہ پن سے ہوا، جس سے آئی ایم ایف کے قرضوں اور سعودی عرب اور چین کی امداد نے جان چھڑوائی۔ اسی حکومت میں احتساب کے عمل نے کچھوے کی سستی اختیار کرلی ہے۔ خود کو لگائے گئے تنہائی پسندی کے روگ نے اس کی خارجہ پالیسی میں اکڑن پیدا کردی ہے۔

مزید پڑھیے: پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک؟ اصل معاملہ آخر ہے کیا؟

سنجیدہ پاکستانی لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان جاری تنازع کے اثرات سے بالکل بھی غافل نہیں ہیں۔ چند لوگوں کا یہ خیال ہے کہ 29 جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے اچانک حملے سے شاید پاکستان سے زیادہ چینی مفادات کو ضرب لگی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 40 فیصد شیئرز کی ملکیت شنگھائی اسٹاک ایکسچینج، شینزین اسٹاک ایکسچینج اور چائنہ فنانشل فیوچرز ایکسچینج کے پاس ہیں۔ سی پیک منصوبے چونکہ بکھرے ہوئے ہیں اس لیے انہیں ہدف بنانا آسان نہیں، مگر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرکے ہمارے پڑوسیوں نے ایک تیر سے 2 شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔

جب حکومت کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک منہ پھٹ وزرا ہوں تو اسے دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟ لاپروائی سے دیے گئے ایک بیان کے ساتھ ہمارے وزیر ہوا بازی نے اس بات کو یقینی بنالیا کہ دنیا بھر میں اب ہماری قومی ایئر لائن کے پائلٹوں پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا۔

ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا فرمان جاری کیا مگر عوام نے ذاتی حیثیت میں نافرمانی کا مظاہرہ کیا۔ پولیو کی طرح اب کورونا وائرس کا مرض بھی پاکستان کے نام کے ساتھ جڑتا جا رہا ہے۔ ہمارا پاسپورٹ ہماری کرنسی کی طرح اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے۔

کئی سارے حب الوطن جب ہماری حکومتوں اور قومی اداروں کو غیر متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث پاتے ہیں تو انہیں بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ ڈی مونٹین کے بقول، 'یہ ایسے کسان ہیں جو اپنی ہی قبریں کھودے جا رہے ہیں'، اور ساتھ ہماری بھی۔


یہ مضمون 2 جولائی کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔