مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی کیسز کی تحقیقات نیب کو کرنی چاہیئں، صدر مملکت

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

صدر مملکت کے مطابق اگر نیب نہیں کرتا تو کسی کو پٹیشن دائر کرنا چاہیے کہ نیب ان کیسز کی تحقیقات کیوں نہیں کر رہا— فائل فوٹو: اسکرین گریب
صدر مملکت کے مطابق اگر نیب نہیں کرتا تو کسی کو پٹیشن دائر کرنا چاہیے کہ نیب ان کیسز کی تحقیقات کیوں نہیں کر رہا— فائل فوٹو: اسکرین گریب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

نجی نشریاتی ادارے ‘جیو نیوز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب اگر ان کیسز کی تحقیقات نہیں کرتا تو کسی کو تو پٹیشن دائر کرنی چاہیے کہ نیب ایسا کیوں نہیں کر رہا۔

انہوں نے نجی اداروں کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں 15 سے 20 فیصد تک کورونا موجود ہے مگر لوگوں میں اس کی علامات موجود نہیں ہیں اور ہم ‘ہرڈ امیونٹی’ کی جانب جارہے ہیں۔

عید الاضحیٰ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس جانوروں سے نہیں پھیلتی یہ انسانوں کے اجتماع سے ہی پھیلے گی۔

مزید پڑھیں: کورونا کے باعث لوگ عیدالاضحیٰ پر اجتماعی قربانی کریں، صدر عارف علوی

انہوں نے اعلان کیا کہ عید الاضحیٰ کے حوالے سے ایس او پیز آج جاری کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جیسے حرم میں حج کے موقع پر لوگ پیسے دے دیتے ہیں اور قربانی ہوجاتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی اجتماعی قربانی کو فروغ ملے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ عید الاضحیٰ اور محرم میں اگر ہم کورونا کو کنٹرول کرلیں تو سب ہمارے کنٹرول میں آجائے گا’۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں تقریباً تمام ممالک میں عوام کا رد عمل ویسا ہی ہے جیسا پاکستان کا ہے، مگر ساری بد احتیاطی کے باوجود ہم نے اس میں بہتری دکھائی ہے۔

اسکول اور کالجز کھولنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ علم کی اصل منزل اب آن لائن ہی ہے، اسکول اور کالجز کو کھولنے کا تعلق کورونا وائرس کے گراف سے ہوگا۔

وفاق اور سندھ کی تکرار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘صوبوں اور وفاق کے درمیان تکرار چلتی رہے گی، جیسے جیسے معیشت بہتر ہوگی صوبوں کے حصے پر ہم آہنگی بڑھتی جائے گی’۔

18 ویں ترمیم میں ترمیم کے بارے میں انہوں نے رائے دی کہ ‘آئین میں ترمیم آتی رہتی ہیں اسی طرح اگر 18 ویں ترمیم پر بھی نظر ثانی کی جائے تو یہ بہتر ہی ہوگی’۔

آئین و قانون کے مطابق سندھ کے اختیارات لے کر گورنر کو دینے کے صدر مملکت کے پاس موجود اختیار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘بہت سارے معاملات وزیر اعظم کی تجویز پر چلتے ہیں اور اب تک کوئی ایسی تجویز نہیں آئی کہ سندھ کے اختیارات گورنر کو دیں’۔

پاکستان کی معیشت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی کا تناسب ہماری معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے، جی ڈی پی اگر 2 فیصد بڑھے اور آبادی 3 فیصد بڑھے تو مسائل بڑھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر عارف علوی نے ‘کمپنیز ایکٹ’ میں ترامیم کی منظوری دے دی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مادر پدر آزاد کرپشن رہی ہے، کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی حکومت طیارہ حادثے اور چینی بحران جیسے اسکینڈلز کی رپورٹس سامنے لائی ہے۔

جہانگیر ترین کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ جہانگیر ترین واپس آجائیں گے اور وہ اپنا ہر طریقے سے دفاع کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج کل عدالتیں بھی کرپشن کے خلاف کام کر رہی ہیں، نیب کا نظام بہت زبردست ہے’۔

نیب چیئرمین سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ‘نیب چیئرمین سے مل کر میں نے سوال کیا تھا کہ بیوروکریسی کے حوالے سے کتنے کیسز ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کل 1300 کیسز میں سے صرف 5 کیسز بیوروکریسی کے خلاف ہیں’۔