شام:حکومتی فورسز کی داعش سے جھڑپیں، 80 سے زائد افراد ہلاک

05 جولائ 2020

ای میل

شامی فوج کے 18 اہلکار بھی ہلاک ہوئے—فوٹو:پریس ٹی وی
شامی فوج کے 18 اہلکار بھی ہلاک ہوئے—فوٹو:پریس ٹی وی

شام کے وسطی صوبے حمص میں صدربشارالاسد کی سرکاری فورسز اور داعش کے درمیان شدید جھڑپوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام میں کام کرنے والی برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ شامی فوج سمیت اتحادی افواج اور داعش کے جنگجووں کے درمیان السخنہ کے علاقے میں گزشتہ دو روز سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے دوران کم ازکم 80 افراد مارے گئے ہیں جن میں 30 دہشت گرد اور 18 حکومتی فورسز کے جوان شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:شام: 9 برس میں ایک لاکھ شہریوں سمیت 3 لاکھ 84 ہزار افراد ہلاک

رپورٹ کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب داعش کی جانب سے سخنہ کے مختلف مقامات میں حکومتی تنصیبات پر منظم حملے کیے گئے۔

خیال رہے کہ شام کے مغربی علاقوں میں داعش کا اثر برقرار ہے حالانکہ مرکزی علاقوں سے گزشتہ برس ہاتھ دھونا پڑا تھا جبکہ وہ ان علاقوں سے حکومتی فورسز پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بشارالاسد کے اتحادی روس اور ایران 2015 سے ہی شام میں موجود ہیں اور داعش کے خلاف ان کی بھرپور مدد کررہے ہیں۔ روس کے طیارے داعش کے ان ٹھکانوں پر بمباری کررہے جو شام کی حدود میں ہیں۔

فضائی کارروائی سے شامی فورسز کو داعش کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی اور متعدد علاقوں میں شکست دے دی۔

یاد رہے کہ شام میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

شام خانہ جنگی کا آغاز 2011 میں حکومتوں کے خلاف شروع ہونےوالے عرب بہار کا کے تحت ہونے والے احتجاج کے دوران ہوا تھا۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اپنایا گیا تھا اور شدید کارروائیاں کی گئی تھیں۔

شام میں جنگ نے معیشت کو تباہ کر دیا اور ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد شامی باشندے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: [جنگ زدہ ملکوں میں 2010 سے اب تک بچوں پر حملوں میں 3گنا اضافہ][3]

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے رواں برس مارچ میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شام میں گزشتہ 9 برس کے دوران ایک لاکھ 16 ہزار شہریوں سمیت 3 لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2011 میں شروع ہونی والی جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا تھا کہ اس جنگ میں 22 ہزار بچے اور 13 ہزار خواتین بھی جاں بحق ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کم از کم 57 ہزار باغی جبکہ اسی طرح کردوں کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز کے 13 ہزار 624 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

داعش کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ان کے حامی ہلاک جنگجوؤں کی تعداد 67 ہزار 296 ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ یہ تنازع 'دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانوں کے لیے بدترین تباہی ہے'۔