ہر ایک کی پسند وہ غذا جو کسی خاموش قاتل سے کم نہیں

05 جولائ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو مگر آج کل بیشتر افراد کی غذا میں شامل ایک جز خاموش قاتل کی طرح کام کرتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جی ہاں اگر آپ اکثر منہ میٹھا کرنا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دل اور معدے کے ارگرد زیادہ چربی کے اجتماع کا باعث بنتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ اور امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مینیسوٹا اسکول آف پبلک ہیلتھ اور وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں یہ بات 3 ہزار سے زائد 18 سے 30 سال کی عمر کے صحت مند افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کی گئی۔

ان افراد کی غذا اور مشروبات کے استعمال کی عادات کا جائزہ 20 سال کے دوران 3 بار لیا گیا، جس میں میٹھے مشروبات اور کھانے میں شامل کی جانے والی چینی کی مقدار کا تجزیہ کیا گیا۔

25 سال کے فالو اپ کے بعد رضاکاروں کو ی ٹی اسکینز کے عمل سے گزار کر ان کے معدے اور دل کے ارگرد چربی کی مقدار کو جانچا گیا۔

طبی جریدے یورپین جرنل آف پرینیٹیو کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ زیادہ میٹھے مشروبات یا میٹھی غذائیں پسند کرتے ہیں، ان کے اہم اعضا کے گرد چربی جمع ہوجاتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب ہم بہت زیادہ مقدار میں چینی کو جسم کا حصہ بناتے ہیں تو وہ چربی میں تبدیل ہوکر اعضا میں جمع ہونے لگتی ہے، خاص طور پر دل اور معدے کے ارگرد موجود چربی کے ٹشوز جسم میں ایسے کیمیکلز خارج کرتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے اس طبی مشورے کی تائید کی جاتی ہے کہ چینی کا کم از کم استعمال کیا جانا چاہیے، کیونکہ زیادہ مقدار میں چینی اور میٹھے مشروبات چربی کی مقدار بڑھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین نے کہا کہ اس خطرے میں کمی کے لیے روزانہ اپنی غذا میں چینی کی مقدار کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میٹھے مشروبات کی بجائے پانی جبکہ میٹھی اشیا جیسے کیک کی جگہ پھلوں یا صحت بخش غذاؤں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ غذا میں زیادہ چینی کا استعمال پہلے ہی عالمیم مسئلہ بن چکا ہے، ایشیا، افریقہ اور روس میں بھی اس کے استعمال کی شرح میں اضافے کا امکان ہے۔

اس سے قبل مارچ میں سوئیڈن کی لیونڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ آپ جتنا میٹھا یا یوں کہہ لیں چینی کھائیں گے، وٹامنز اور منرلز کو اتنا ہی کم استعمال کریں گے، جس کے نتیجے میں ذیابیطس، موٹاپے، دل کی شریانوں سے جڑے امراض، دانتوں کے مسائل اور متعدد دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں میں یہ دریافت کیا جاچکا ہے کہ چینی کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں لوگ چربی اور شکر سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال جبکہ اور صحت کے لیے فائدہ مند غذاﺅں کو کم کھانے لگتے ہیں۔

اس تحقیق میں یہی جائزہ لیا گیا تھا کہ چینی کا زیادہ استعمال کس حد تک لوگوں کو وٹامنز اور منرلز سے دور کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیوٹریشن اینڈ میٹابولزم میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چینی کا بہت زیادہ استعمال درحقیقت ایک علامت ہے جو متعدد امراض کی جانب اشارہ کرتی ہے جو زندگی میں کسی وقت آپ کو اپنا نشانہ بناسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر غذا میں چینی کی مقدار زیادہ ہو تو یہ جسم میں جانے کے بعد انتڑیوں میں جذب ہوتی ہے جہاں سے یہ جگر کی جانب سفر کرتی ہے۔

درحقیقت جگر جسم کا واحد عضو ہے جو اس شکر کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم جب شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو تو جگر کی اسے استعمال کرنے کی گنجائش ختم ہونے لگتی ہے جس کے بعد اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا کہ اس اضافی جز کو جگر کی چربی میں بدل دے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ جب جگر جب شکر کو چربی میں بدلتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ انسولین کی مزاحمت کا عارضہ لاحق ہوچکا ہے۔

یہ عارضہ آگے بڑھ کر میٹابولک سینڈروم امراض جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر، لبلبے کے مسائل، خون کی شریانوں میں پیچیدگیاں، کینسر، دماغی تنزلی اور امراض قلب وغیرہ میں بھی بدل سکتا ہے جبکہ جگر کے امراض کا خطرہ الگ لاحق ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چالیس فیصد عام وزن کے افراد کسی ایک میٹابولک سینڈروم مرض کے شکار ہوتے ہیں جبکہ 80 فیصد موٹاپے کے شکار لوگوں میں یہ امراض سامنے آتے ہیں۔

اس سے قبل 2016 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ محض نو دن تک چینی کا بہت کم استعمال ہی صحت کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی کا استعمال کم کرنے سے میٹابولک سینڈروم کا خطرہ دور ہوتا ہے جس کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ کن جان لیوا امراض کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات معلوم ہوئی کہ چینی کا استعمال کم کرنے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم، جگر کے افعال میں بہتری جبکہ انسولین لیول ایک تہائی حد تک کم ہوگیا۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کی غذا میں چربی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز کی سطح تو یکساں رہی تاہم چینی کی مقدار کو 28 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا گیا اور مختصر وقت میں ان کی صحت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔