آیا صوفیہ کو مسجد بنانے پر عالمی چرچ کونسل کا اظہار افسوس

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

گرجا گھروں کی عالمی کونسل نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اپنے فیصلے کو واپس لے۔

دی ورلڈ کونسل آف چرجز، 350 گرجا گھروں کی نمائندگی کرتی ہے جس نے ترک صدر کو لکھے گئے مراسلے میں کہا کہ 'میوزیم کو مسجد میں بدلنے سے تفریق کی فضا قائم ہوگی'۔

مزید پڑھیں: آیا صوفیہ عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ مسجد بن گیا، ترک صدر

جنیوا میں قائم گرجا گھروں کی عالمی کونسل نے کہا کہ وہ 50 کروڑ سے زائد عیسائیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

عالمی کونسل کے عبوری جنرل سیکریٹری ایون ساوسا نے اپنے مراسلے میں ترک صدر کے فیصلے پر 'غم اور مایوسی' کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے آپ نے ترکی میں کشادگی کی مثبت علامت کو پلٹ دیا ہے اور اسے بے دخلی اور تقسیم کی علامت میں بدل کردیا۔'

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے 'لامحالہ غیر یقینی صورتحال، شکوک و شبہات اور عدم اعتماد پیدا ہوگا، جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو بات چیت اور تعاون کی میز پر اکٹھا کرنے کی ہماری ساری کوششوں کو نقصان پہنچائے گا'۔

مراسلے میں کہا گیا کہ 'باہمی افہام و تفہیم، احترام، بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے اور پرانی دشمنیوں اور تفرقہ بازیوں سے پرہیز کرنے کے مفادات میں، ہم آپ سے فوری طور پر اپیل کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اس کو مسترد کریں'۔

مزید پڑھیں:طیب اردوان کا مسلمانوں، عیسائیوں کے درمیان متنازع مقام کو مسجد بنانے کا فیصلہ

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے 1934 میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے میوزیم میں تبدیل کی گئی آیا صوفیہ مسجد کو عدالتی فیصلے کے بعد بحال کرتے ہوئے نماز کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا تھا۔

اس سے قبل اردوان نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی جگہ کو مسجد کے طور پر بحال کرنے کی تجویز دی تھی، جو بازنطینی عیسائیوں اور عثمانی خلافت کے درمیان مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتا تھا اور اب ترکی کا سیاحوں کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بننے والا مقام بن چکا ہے۔

چھٹی صدی عیسوی میں بننے والی عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے میں امریکا، یونان اور چرچ کے رہنما سرفہرست تھے اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ جدید ترکی کے سیکیولر بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے اپنی حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں ہی آیا صوفیہ مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ترکی کی مسجد ضرورت مندوں کیلئے ’سپر مارکیٹ‘ میں تبدیل

انقرہ میں ترک سپریم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 'اس جگہ کا مسجد کے لیے تعین کردیا گیا تھا اس لیے اس کو قانونی طور پر کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے'۔

فیصلے میں کمال اتاترک کے دستخط شدہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ '1934 میں کابینہ کی جانب سے مسجد کو ختم کرکے اس کو میوزیم قرار دینا قانون کے زمرے میں نہیں آیا'۔

آیا صوفیہ کے لیے 16 برسوں سے قانونی جنگ لڑنی والی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ آیا صوفیہ عثمانی رہنما کی جائیداد تھی اور انہوں نے شہر پر 1453 میں قبضہ کرلیا تھا اور 900 سال پرانے بازنطینی چرچ کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔

یونیسکو کی ترکی کو مسجد بنانے پر تنبیہ

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ترکی کو استنبول میں بازنطینی دور کے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ اس فیصلے سے قبل مذاکرات کریں۔

یونیسکو کی ترجمان نے کہا تھا کہ 'اس اقدام سے متعدد وعدے اور قانونی پیچیدگیاں وابستہ ہیں'

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، وہ ملک جو تمام شہریوں کو فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے دے گا

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک ریاست کو اس کی حدود میں غیر معمولی عالمی حیثیت کے ورثے پر کوئی اثر نہ پڑنے کو یقینی بنانا چاہیے'۔

ترجمان نے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل یونیسکو اور اس کی عالمی ورثہ کمیٹی کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

روسی آتھوڈوکس چرچ کا اظہار افسوس

روسی آرتھوڈوکس چرچ کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے تشویش کو مدنظر نہیں رکھا اور اس فیصلے سے بڑے اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے 30 کروڑ آرتھوڈوکس عیسائیوں کے روحانی پیشوا کا کہنا تھا کہ عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے سے عیسائیوں کو مایوسی ہوگی اور مشرق اور مغرب میں تقسیم ہوگی۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور یونان نے بھی ترکی پر زور دیا تھا کہ عمارت کو میوزیم کے طور پر برقرار رکھے۔