کے-الیکٹرک کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو وفاق اس کا کنٹرول حاصل کرلے گا، اسد عمر

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے کے الیکٹرک کے سینئر عہدیداران پر سخت برہمی کا اظہار کیا —تصویر: فیس بک اسد عمر
پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے کے الیکٹرک کے سینئر عہدیداران پر سخت برہمی کا اظہار کیا —تصویر: فیس بک اسد عمر

کراچی: کے الیکٹرک کو اس وقت حکومتی ارکان کی سخت برہمی کا سامنا کرنا پڑا جب وفاقی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ شارٹ فال کی وجہ سے کی جارہی ہے اور خبردار کیا کہ اگر ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہا تو حکومت اسے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گورنر ہاؤس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی مشترکہ سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ انتباہ دیا گیا۔

دونوں نے کے الیکٹرک کے سینئر عہدیداران پر سخت برہمی کا اظہار کیا جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے اہم رہنماؤں کو حالیہ بجلی بحران کی وجوہات پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی جبکہ وفاقی حکومت کے دیگر اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

اجلاس کے حوالے سے ایک بیان کے مطابق کے الیکٹرک نے 250 میگا واٹ کے شارٹ فال کا ذکر کیا جس کے جواب میں گورنر سندھ نے کے الیکٹرک کو کہا کہ ’شارٹ فال سے شہر میں ایک آدھ گھنٹے کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لیکن کے الیکٹرک 6 سے 7 گھنٹوں تک بجلی بند رکھتی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے کمپنی کو ہر چیز فراہم کی ہے اور ہر مطالبہ پورا کیا ہے لیکن ادارہ کوئی بہتری دکھانے میں ناکام رہا، وفاقی حکومت اب بھی نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کی پیش کش کررہی ہے لیکن کے الیکٹرک کا سسٹم 720 میگا واٹ سے زائد بجلی نہیں لے سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے صلاحیت میں اضافے کے لیے گزشتہ کئی سال سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور اب عوام کو اپنی ناکام پالیسیز سے سزا دے رہی ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک کو صارفین سے زیادہ اپنے منافع کی فکر ہے‘۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک کا گیس فراہمی میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے، سوئی سدرن

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کمپنی کو 4 ہزار 500 ٹن فرنس آئل فراہم کررہی تھی اور مزید 500 ٹن کی پیشکش کی ہے اور اگر بن قاسم پاورپلانٹ پر گیس پریشر میں مسئلہ ہے تو اسے فرنس آئل پر چلایا جاسکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں، صارفین کے غصے اور کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی نے وزیراعظم عمران خان کی بھی توجہ حاصل کی ہے جنہوں نے اپنی ٹیم کو کمپنی انتظامیہ سے ملاقات کرنے اور کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں شہر میں بجلی بحران اور سندھ میں کورونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

وزیراعظم کی ہدایات کے ایک روز بعد وفاقی وزیر اسد عمر کراچی پہنچے اور گورنر سندھ کے ہمراہ کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کی اور انہیں سخت تنبیہ کی۔

یہ بھی پڑھیں: کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی کے نرخ میں 2 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو مستقبل کے حوالے سے تیزی سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں پیک آورز میں بجلی کی طلب 35 سو سے 36 سو میگا واٹ ہے اور کے الیکٹرک نے آئندہ 3 سالوں میں سسٹم میں مزید 21 سو میگا واٹ بجلی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ساتھ ہی انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔

وفاقی حکومت نے یہ انتباہ سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کے کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد دیا، جماعت اسلامی اور پاک سرزمین پارٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے کے الیکٹرک کی غیر اعلامیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تو وہیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی یہ اعلان کیا کہ اس کے اراکین 14 جولائی سے اسلام آباد میں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کریں گے۔

گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک شہر کو 29 سو 50 میگا واٹ فراہم کررہی ہے اور اسے 250 میگا واٹ کمی کا سامنا ہے جبکہ آئندہ برس کے اختتام تک کمپنی سسٹم میں 800 میگا واٹ شامل کرے گی اس کے علاوہ کمپنی کا 2022 اور 2023 میں بھی 8، 8 سو میگا واٹ شامل کرنے کا ارادہ ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی، سی این جی اسٹیشنز 48 گھنٹوں کیلئے بند

نیپرا کی عوامی سماعت میں سی ای او کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کو 280 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے بجائے صرف 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جارہی ہے۔

سی ای او کا کہنا تھا کہ فرنس آئل نہیں دیا گیا اور گیس کی مقدار بھی نہیں بڑھائی گئی جبکہ اگلے سال کے معاہدوں کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے۔

دوسری جانب وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک (کے ای) کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔